Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, September 27, 2022

وزیرستان میں سیاحت کا فروغ معاشی انقلاب کا ضامن

دہشت گردی کی وجہ سے آئے روز خبروں کی شہ سرخیاں بننے کی وجہ سے شہرت یافتہ وزیرستان کا شفاف منفرد اور خوبصورت چہرہ جو کہ دہشت گردی کے دھویں میں مکمل طور پر دھندلا ہوگیا تھا اور ہر کسی کے نظر سے اوجھل تھا آرمی کے کامیاب اپریشن کے باعث وہ دنیا کے سامنے نمودار ہوا ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ جو وزیرستان دہشت گردی کے خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کا حصہ رہتا تھا وہ خوبصورت قدرتی نظاروں اور جنت نظیر وادیوں کی وجہ سے سیاحت کے حوالے سے شہ سرخیوں کا حصہ بنتا گیا سوشل میڈیا اور مین۔سٹریم میڈیا سمیت دیگر فورمز کے زریعے وقتا فوقتا ان خوبصورت نظاروں کی تصاویر ویڈیوز اور تعریفیں ہونے لگی جس کو دیکھتے ہوئے سیاحت کے شوقین افراد جو قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے دیگر مقامات جایا کرتے تھے ان کا رخ دیرے دیرے وزیرستان کی جانب ہونے لگا اور اس سلسلے میں جس تسلسل اور تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا وہ ناقابل یقین ہے اس سلسلے کو شروع کرنے کے لیے مقامی میڈیا ورکر سوشل ایکٹیویسٹ مقامی نوجوانوں نے بہترین اور مثبت کردار ادا کیا ۔پاک آرمی نے سیاحت کی طرف توجہ مبزول کرانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا مقامی مشران نوجوان صحافی سوشل ایکٹیویسٹ کو بہترین انداز میں موٹیویٹ کیا اس موٹیویشن میں جنوبی وزیرستان میں تعینات ہونے والے دونوں آئی جی ایف سی سیز جس میں میجر جنرل عابد لطیف اور میجر جنرل اظہر اقبال عباسی شامل ہے اسکے ساتھ ساتھ ایف سی سیکٹر ہیڈ کوارٹر ٹانککے سکٹر کمانڈرز جس میں بریگیڈیر امتیاز اور بریگیڈئیر نیک نام شامل ہے نے جس انداز سے محسود قبائل کے دیگر مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دینے کےلیے محسود قبائل کی اس طرف توجہ مبزول کرائی وہ بھی بہترین اہمیت کی حامل رہی جسکے بدولت ٹانک ڈیرہ اسمعیل اور دیگر ملحقہ شہروں سمیت سندھ پنجاب اور بلوچستان سے بھی سیاحوں کا وزیرستان آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس سلسلے میں اتنی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا کہ اس عیدالضحی کے دنوں میں شوال مکین رزمک اور دیگر خوبصورت مقامات پر سیاحت کے عرض سے آنے والےلاتعداد افراد کی وجہ سے کئی کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام رہا ایک محتاط اندازے کے مطابق اور نیم درج شدہ سرکاری اعدا و شمار کے مطابق صرف مکین اور شوال کے لیے آنے والے سیاح 25 سے 30ہزار گاڑیوں پر مشتمل تھی یہی وجہ تھی کہ کئی کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام رہا کیونکہ اسے پہلے کبھی بھی اتنی کثیر تعداد میں وزیرستان میں گاڑیوں کا داخلہ نہیں ہوا ہے اس تعداد سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں پر سیاحوں کے لیے رہنے کی بدوبست معیاری ہوٹل اور تفریحی مقامات پر جدید سہولیات نہ ہو پھر بھی اتنی کثیر تعداد میں لوگ وہاں آتے ہیں تو اگر وہی پر یہ سارے انتظامات مہیا کیے جائے تو پھر یہ تعداد کہا تک پہنچ سکتی ۔باہر سے آنے والے ان سیاحوں کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے اب مختلف مقامات پر رہائش کے لیے ٹوٹی پھوٹی ریسٹورینٹ سمیت کھانے پینے کے ہوٹلز کے بندوبست کئے لیکن اب بھی سیاحوں کو وہ سہولیات میسر نہیں ہے جو کہ دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو میسر ہوتے ہیں ۔اگر مقامی افراد کی سیاحت کی طرف توجہ مبزول کرانے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف طبقات ذندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو موٹیویٹ کا کرنا کایہ سلسلہ اسی طرح جاری رہااور ساتھ میں سیاحوں کو بھی سہولیات مہیاں کرنے کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات کو جدید طرز کے طور پر استوار کیا گیا تو جنوبی وزیرستان کی سیاحت نہ صرف وزیرستان بالکہ پورے قبائلی خطے میں معاشی انقلاب لانے کا زریعہ بن سکتا ہے ۔دوسرے الفاظ میں اگر یہ کہا جائے پھر بھی غلط نہیں ہوگا کہ جس طرح پاک آرمی نے اس شعبوں کو فروغ دینے کے لیے اب تک جو کردار ادا کیا اسی طرح اور اسی انداز میں سیول حکومت بھی اپنا کردار ادا کریں تو اسکے بھی اسے ذیادہ مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket