Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

قومی جرگے کا پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان

جنوبی وزیرستان کے وزیر قوم نے وانا کے امن امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابوں پانے کے لیے وزیرقوم کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم حکومت پاکستان اور خصوصی طور پر پاکستان کے اداروں کے ساتھ ماضی میں بھی شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہم نے بے شمار جانوں کے نظرانے پیش کیے ہیں۔ اب بھی اگر حکومت کو ضرورت پڑھتی ہے تو ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے لیکن وانا کے امن امان کو خراب کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دینگے اور وانا کے امن امان کو قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے حکومت بھی اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھائے۔ جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ آج کے بعد ہمارے مٹی پر پاکستانی اداروں کیخلاف کوئی نعرہ نہیں لگائے گا اگر کسی نے یہ اقدام اٹھایا تو انکے خلاف ہم کاروائی کرینگے ۔ دوسری بات کہ آج کے بعد ہماری مٹی پر کوئی ایسے پروگرام کی انعقاد کی اجازت نہیں دینگے جس میں ریاستی اداروں کیخلاف نعرے بازی ہوں۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہمارے مسائل پر صرف ہم خود بات کرنے کا حق رکھتے ہیں اور یہ حق ہم کسی دوسرے کو کسی صورت میں نہیں دینگے ۔کسی دوسرے سے مراد یعنی کسی دوسرے قوم کے شخص کو اجازت نہیں دینگے بلکہ ایک ملک نے تو صاف الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ہمیں افغان صدر اشرف غنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہمارے مسائل پر بات کریں یا انکی پالیسی کے تحت کوئی دوسرا بات کریں ۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی وزیر قوم کی جانب سے اس طرح کے کئی جرگے منعقد کیے گیے ہیں جس میں جو بھی فیصلے کیے گیے ہے اس پر من عن عمل درآمد بھی ممکن ہوئی ہے ۔جس نے بھی اس فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے اس کو اسکے نتائج بھی بگتنے پڑے ہیں۔ جس کی کئی مثالیں موجود ہے اور بے شمار لوگوں کے گھر مسمار کیے گیے ہیں اور اس پر جرمانے لگائے گیے ہیں ۔گزشتہ دنوں جرگے میں بدنظمی پیدا کرنے والے اور جرگے کے مطالبات کی خلاف ورزی کرنے والے آیاز وزیر اس کا ایک حالیہ مثال ہے جسکے گھر کو مسمار کرنے سمیت اس پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائید کیا گیا لیکن سول وعسکری انتظامیہ کی مداخلت کے باعث انکا گھر تو مسمار نہیں کیا گیا البتہ ان پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائید کر دیا گیا ۔

جرگے میں جو فیصلے کئے گیے اسے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جس طرح ازبک اور تاجک سمیت دیگر غیر ملکی دہشت گردوں کا وزیرستان آمد کے موقع پر بھی وزیر قوم کی جانب سے ایسا فیصلہ سامنے آیا تھا جس پر بعد میں فیصلہ نہ ماننے والوں کے خلاف لشکر کشی بھی کی گئی تھی اور غیر ملکیوں کو یہاں سے نکال کر محسود علاقے میں منتقل ہوئے تھے جسکی سزا محسود قوم ابھی تک بھگت رہی ہیں ۔اسی طرح اس فیصلے نے غیر اعلانیہ طور پر وانا میں پی ٹی ایم کی تمام تر سرگرمیوں پر پابندی عائید کر دی اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جرگے کے اس فیصلے کو پی ٹی ایم کے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے مخالفت کے بجائے حمایت کی اور اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا عہد بھی کیا ۔

جنوبی وزیرستان کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزیر قوم کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم غلط سمت جا رہی ہے جس سے وزیرستان کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کیونکہ وزیر قوم دور اندیش قوم ہے یہ حال پر مستقبل کو ترجیح دیتے ہیں انکے ماضی میں کئی مثالیں موجود ہے۔ جس پارٹی یا تحریک کو اس نے قوم اور ملک کے لیے نقصان دہ محسوس کیا ہے انکے خلاف ایسے فیصلے عمل میں لائے جاچکے ہیں جس کے انکوں ثمرات بھی ملے ہیں اور جو بھی اسکے فیصلے میں رکاوٹ بنےہیں تو اس نے اس کا خمیازہ بھی بگتا ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پی ٹی ایم اس فیصلے کی پاسداری کرتا ہے یا مخالفت؟
اسکا نتیجہ آنے والے دنوں میں عوام کے سامنے آئے گا ۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket