Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

طالبان کی دوبارہ واپسی ،افغان حکومت کا خاتمہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت تقریبا ً90 فیصد علاقوں پر طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اپنے نصف درجن ساتھیوں کے ہمراہ غیر متوقع طور پر ڈرامائی انداز میں تاجکستان چلے گئے۔ جہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ منتقل ہونگے۔ ان کے ساتھ جانے والوں میں پاکستان پر الزامات لگانے والے امراللہ صالح اور حمد اللہ محب فرار ہوگئے ہیں۔ جن کا دعویٰ تھا کہ افغان فورسز اپنے ملک کا دفاع کریں گی اور یہ کہ وہ آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔ رشید دوستم بھی فرار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ دوسری طرف سابق جرنیلوں اور والیان کی بڑی تعداد نے امریکہ اور غنی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طالبان کی حمایت کے اعلانات کر دیے ہیں۔
دوحا معاہدے کے بعد یہ تو طے تھا کہ اگر انٹرا افغان ڈائیلاگ کامیاب نہ ہوسکے تو افغان حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا تاہم امریکی صدر جوبائیڈن اشرف غنی اور پاکستان کے بعض قوم پرستوں کو یہ خوش فہمی لاحق تھی کہ تین لاکھ کی افغان فورسز بڑے شہروں میں طالبان کو گھسنے نہیں دیں گی۔ قندھار میں 13 اگست کو افغان فورسز اور اسماعیل خان نے جس طریقے سے سرینڈر ہو کر سب کو حیران کر دیا اس کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور طالبان نے کسی بڑی مزاحمت کے بغیر 48 گھنٹوں کے دوران دس صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران کہا جاتا رہا کہ طالبان کو کابل میں گھسنے نہیں دیا جائے گا تاہم 16 اگست کو طالبان نے کابل کا غیر متوقع طور پر محاصرہ کرکے چند ہی گھنٹوں میں نہ صرف لڑائی لڑے بغیر اس مرکزی شہر پر قبضہ کر لیا بلکہ افغان حکمرانوں اور حکومت کا تختہ بھی الٹا کر دیا جس پر بھی جس پر سب ہی نے حیرت کا اظہار کیا کیونکہ اکثریت کے اندازے اور تجزیے غلط ثابت ہوگئے تھے ۔

طالبان نے خدشات کے برعکس عام معافی کے اعلان سمیت تشدد سے گریز کیا جس کے باعث عوام کے علاوہ مخالفین بھی حیرت زدہ ہو گئےاور یہ بیانیہ درست ثابت ہوا کہ ماضی اور آج کے طالبان کے رویوں اور پالیسیوں میں بہت فرق ہےاس غیر متوقع صورتحال سے بہت سی نئی باتیں اور چیزیں سامنے آئی ہے۔پہلی یہ کہ امریکہ نے افغان حکومت اور افغان حکومت نے امریکہ کو اندھیرے میں رکھ کر 20 سالہ سرمایہ کاری کے بارے میں جو دعوے کیے تھے وہ نتائج دینے میں ناکام رہے اور اس صورتحال نے امریکہ کے دامن اور سپر پاور کے دعوے پر داغ اور سوالات لگا دیے۔
دوسرا یہ کہ پاکستان کا وہ موقف درست ثابت ہو گیا کہ افغان مسئلے کا اثر یہ ممکن نہیں بلکہ اس کا سیاسی حل ہی ممکن ہے۔ تیسرا یہ کہ افغان ریاست نے 20 برسوں میں نہ تو ادارے بنائے تھے نہ عوام کی حمایت حاصل کی تھی اور نہ ہی عالمی طاقتیں اس کے ساتھ مخلص اور سنجیدہ تھی۔تیسرا یہ کہ پاکستان، ایران، چین اور روس کی ذمہ داریوں، کردار اور اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔اس ضمن میں جن ممالک کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ان میں امریکا، نیٹو بلاک اور بھارت سرفہرست ہیں۔ ان ممالک کی افغان پالیسی اشرف غنی کے ساتھ ماضی کا حصہ بن کر رہ گئی ہےجبکہ پاکستان اور دوسرے پڑوسی ممالک اپنے اپنے کارڈز بہتر طریقے سے کھیل کر مقبول عام تجزیوں اور بعض قوم پرست حلقوں کے الزامات کو غلط ثابت کر دیا۔
مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور یہ کہ طالبان کس قسم کا طرز عمل اپناتے ہیں اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم یہ بات طے ہوگئی ہیں کہ خانہ جنگی کا خطرہ ٹل چکا ہے اور اب جو کچھ بھی ہو گا وہ طالبان ہی کی مرضی اور شرائط کے مطابق ہو گا۔پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے بلکہ یہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جبکہ ٹی ٹی پی کے بارے میں دو طرفہ یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ اس کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ماضی کی طرح اب ٹی ٹی پی کے لیے دہشت گرد حملوں کی کھلی چھوٹ نہیں ملے گی اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ تبدیلی کے بعد جہاں بعض پاکستانی علیحدگی پسند اور قوم پرستوں کو بہت مایوسی ہوئی ہے وہاں ٹی ٹی پی بھی بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے۔عالمی برادری اور پڑوسیوں کو بھی کڑی آزمائش کا سامنا ہے کیونکہ ان کے لیے طالبان کا اقتدار میں آنا جہاں ان کے اندازوں کے برعکس قبل از وقت ہے وہاں طالبان کو تسلیم کرنے کے علاوہ ان کے پاس دوسرا آپشن بچتا نظر نہیں آ رہا۔
اسباب و عوامل جو بھی ہوں خوش آئند بات یہ ہے کہ اس خونریزی ، خانہ جنگی اور مہاجرت کی نوبت آنے نہیں دی گئی جس کو توقع کی جا رہی تھی یا جس کے خدشات ظاہر کیے جارہے تھے

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket