Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

افغانستان بارے اے این پی کا خطرناک بیانیہ

قوم پرست جماعت اے این پی، امریکا، نیٹو، افغان حکومت اوردیگرکا نام لئیےاورذکرکئیے بغیر افغانستان کی حالیہ کشیدگی اور طالبان کے مسلسل پیش قدمی کو پاکستان کی مداخلت کا نتیجہ قرار دے رہےہیں اورپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اس ضمن میں مثبت کردار ادا کرے۔  یہ بیانیہ بہت پرانا اور حالات یکسر تبدیل ہیں مگر پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پارٹی 1978 سے اب تک افغانستان کے معاملات میں فریق یا مدعی بن کر کیوں مداخلت کرتی آ رہی ہے کیونکہ وہ ایک الگ ملک ہے اور اے این پی پاکستان کے اندر نہ صرف سیاست کر رہی ہے اور حکومتوں کے مزے لیتی رہی ہے بلکہ ماضی قریب میں اس پارٹی کو ٹی ٹی پی کے ساتھ کیے گئے ایک ایسے یک طرفہ معاہدے کا اعزاز بھی حاصل ہے جس نے طالبان کو اسی طرح ہیرو اور فاتح بنایا جس طرح آج امریکہ کی وجہ سے افغان طالبان فاتح بنے بیٹھے ہیں۔  اگر جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سوات آپریشن نہیں کرایا ہوتا تو پتا نہیں کیا کچھ ہو گیا ہوتا۔

 دوسری بات یہ ہے کہ افغان طالبان کی مخالفت کا بظاہر کوئی جواز بھی نظر نہیں آتا۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ یہ پارٹی 80 کی دہائی میں سوویت یونین کی حمایت میں مجاہدین اور 2000 کی دہائی میں امریکہ کی حمایت میں طالبان کی کھل کر نہ صرف مخالفت کرتی رہی بلکہ ان کا مذاق بھی اس کے لیڈر اڑاتے رہے ۔ پارٹی افغانستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتی رہی کہ یہ حریت پسندوں کی سرزمین ہے تاہم اسی پس منظر میں یہ سوویت یونین اور اس کے بعد امریکہ کی فوج کشی کو کس بنیاد پر سپورٹ کرکے جائز قرار دیتی رہی۔اس کا جواب اس کے لیڈروں اور کارکنوں کے پاس بھی نہیں ہے۔اس ضمن میں پارٹی کے ایک اہم ترین لیڈر اعظم ہوتی مرحوم کے وہ انٹرویوز ریکارڈ پر ہیں جن میں انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ نائن الیون کے بعدافندیار ولی اور  افراسیاب خٹک امریکہ سے لاکھوں ڈالر لےکراس کی پالیسیوں کی حمایت میں کارکنوں کو قربانی کا بکرا بناتے رہے۔ سن 2007 میں جب ٹی ٹی پی قائم ہوئی تواے  این پی نے بلاجواز غیر ضروری طور پر وہی مخالفت شروع کی جیسی کہ افغان مجاہدین اور افغان طالبان کی، کی تھی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت میں آنے کے بعد طالبان اے این پی  پر حملہ آور ہو گئے۔  تین ممبران اسمبلی سمیت اس کے 900 کارکنوں کو جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے اور پارٹی کو دیوار سے لگایا گیا۔امریکی اورمغربی میڈیااورماہرین،افغانستان کی حالیہ صورتحال کو افغان حکمرانوں کی نااہلی اور امریکہ کی ناکام پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں مگر مجال ہے کہ  اےاین پی اور ایسے دوسروں نے جرات کر کے کبھی ایک بار بھی امریکہ یا کسی اور کو ذمہ دار قرار دے کر ان کا نام لیا ہو۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ اےاین پی کو پاکستان، اپنے کارکنوں اور عوام سے زیادہ افغانستان کی فکر کھائی جا رہی ہے اوریہ ماضی کی غلطیاں دہرا کر پھر سے اپنے کارکنوں کی قربانیاں دینے کی خطرناک پالیسی پر گامزن ہے کیونکہ جو لوگ امریکہ کی افغانستان میں کل کی حمایت کر رہے تھے اُن سب کے بارے میں تو امریکہ اعلان کر چکا ہے کہ ان کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔

 کیا واقعی  اس پارٹی کو افغان عوام کی اس درپردہ حمایت کا علم نہیں جو کہ طالبان کے بارے میں پائی جاتی ہے اور فورسز میں بھی ہزاروں لوگ نہ صرف طالبان کے ہمدرد ہیں بلکہ سینکڑوں ہتھیار پھینک کر طالبان کو راستے بھی دے رہے ہیں۔  کیا اس پارٹی کو اس حقیقت کا بھی ادراک نہیں ہے کہ گیم افغان حکومت، اس کے وار لارڈز اور حامیوں کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے اور عالمی سطح پر ایک نئی پلاننگ کے فیصلے ہو چکے ہیں؟  یہ مدعی سست اور گواہ چست والی بات ہے۔

یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ افغانستان کو پشتونوں کا وطن قرار دینے والے یہ قوم پرست اس حقیقت کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کہ طالبان کی غلطیوں اور سخت گیر رویوں کے باوجود عام پشتون کئی دہائیوں سے نان پشتون لیڈرشپ کی بالادستی اور طرز حکمرانی سے تنگ آ چکے ہیں اور طالبان کو وہ پشتون سمجھ کر ردعمل کے طور پر سپورٹ کر رہے ہیں۔  سب سے بڑا سوال اس ضمن میں یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب پاکستان میں آئی ایس آئی اور باقاعدہ افغان پالیسی بنی بھی نہیں تھی تب افغانستان میں کونسا امن اور استحکام تھا؟ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے کہ پاکستان ہی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے تو یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان واقعی اتنا ہی طاقتور ہے کہ امریکہ اپنے چالیس اتحادیوں کے ہمراہ اس کا افغانستان میں بیس برسوں کے دوران کاونٹر نہ کر سکا؟  اگر ایسا ہے تواے این پی کو اپنی ہی اتنی طاقتور ریاست پر غیر ضروری الزامات کی ضرورت کیا ہے؟

 درست طرزعمل یہ ہوگا کہ اے این پی دوسروں کی فکر کرنے اور غیر ضروری تصادم کی بجائے پاکستان کی ایک پارٹی کے طور پر اپنی سیاست کو آگے بڑھائے کر اور اپنے ملک پر الزام تراشی سے گریز کرے

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket