Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

اعتدال پسندی کی دوطرفہ ضرورت اور جاری کشیدگی

باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے زیر اہتمام “اعتدال پسندی، انتہا پسندی اور خدائی خدمت گار تحریک” کے عنوان سے ایک سیمینارکاانعقاد کیا گیا جس میں ملک اور معاشرے میں انتہا پسندی کے اثرات اور اعتدال پسندی کی ضرورت پر اہم سیاسی قائدین اور صحافیوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے ماضی کی سیاسی اور سماجی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر زور دیا۔

 جن مقررین نے اس سمینار سے خطاب کیا ان میں خواجہ محمد آصف، جاوید ہاشمی، ایمل ولی خان ،حامد میر، سلیم صافی، خادم حسین اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر مقررین نے پاکستان کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کے لیے انتہا پسندی اور منفی رویوں کو زہر قاتل قرار دے کر کہا کہ تمام درپیش مسائل کا حل مکالمے،  برداشت اور جمہوری رویوں میں پنہاں ہیں اس لیے لازمی ہے کہ پاکستان میں دہرائی گئی ماضی کی غلطیوں کو مزید دہر انے سے گریز کا راستہ اپنا کر مثبت رویوں کو اجتماعی طور پر فروغ دیا جائے۔ مقررین کے مطابق خیبر پختونخوا کے سیاسی قائدین، کارکنوں اور عوام نے انسانی حقوق، جمہوریت اور امن کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں جن کا اعتراف کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو ذاتیات، تلخی اور کشیدگی میں منتقل کرنے کی بجائے مکالمے کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

مقررین کے مطابق پاکستان میں مذہب اور قومیت کی بنیاد پر پھیلائی گئی نفرت اور دوریوں کے منفی اثرات نے کئی نسلوں کے علاوہ اس کے جمہوری اور سماجی ڈھانچے کو بہت متاثر کیا ہے اور اب بھی بعض قوتیں اس کوشش میں ہے  کہ منافرت ،تلخی اور کشیدگی کو فروغ دے کر پاکستانی معاشرے کو تقسیم کیا جائے۔  انہوں نے کہا کہ قومیتوں  اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور سماجی انصاف کو یقینی بنانا ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ یہ کوشش ہونی چاہیے کی سیاسی برداشت اور مکالمے کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اُن قوتوں کے ہاتھ روکے جائیں جو کہ معاشرے میں طاقت کے بل بوتے پر اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔  اس موقع پر کہا گیا کہ خیبر پختونخواہ نے جس استقامت اور صبر سے کئی دہائیوں تک انتہاپسندی اور دہشت گردی کا سامنا کیا اور قربانیاں دی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے نے استحکام پاکستان اور علاقائی امن کے قیام میں اپنے روایتی کردار کو قائم رکھا ہے اور اس کردار کا اس خطے کے عوام کو صلہ ملنا چاہیے۔

اس موقع پر ماضی کی تاریخی غلطیوں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں ماضی کی غلطیاں اور تلخیاں بھلا کر ایک نئے عزم کے ساتھ جمہوری رویوں کے ذریعے اک پر امن اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد رکھنی چاہیے تاکہ نئی نسل کو ایک محفوظ پاکستان اور معاشرہ دیا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی طبقے، قومیت یا علاقے کی حق تلفی نہ ہو۔

 اگرچہ مذکورہ سیمینار میں ملک کی دوسری اہم پارٹیوں اور خصوصاً دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور طبقوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث ان موضوعات پر ان کا نقطہ نظر سامنے نہیں آیا اور تشنگی قائم رہی تاہم خوش آئند بات یہ تھی کہ مقررین نے روایتی الزام تراشی یا سخت کلامی کی بجائے دلائل کی بنیاد پر اپنی تجاویز پیش کیں۔

 اگر دوسرے نظریات کی متعلقہ پارٹیوں کو اس بحث کا حصہ بنایا جاتا تو اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے اور جاری کشیدگی کے تناظر میں قوم اور سیاسی قائدین کو ایک مثبت پیغام پہنچ جاتا۔ اس کے باوجود یہ بات خوش آئند رہی کہ روایتی جذبات کی بجائے ملکی تاریخ اور ہمارے مستقبل کے امکانات کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لیا گیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قائدین،  دانشور ،علماء ، اساتذہ اور میڈیا کے اہم لوگ جاری کشیدگی اور سماجی ڈپریشن کے خاتمے کے لیے مختلف فورمز پر دلیل اور مکالمہ کا راستہ اپنا کر اصلاح کے امکانات کو فروغ دیں کیونکہ شدت پسندی، بدکلامی، الزام تراشی کا جو رجحان ہمارے ہاں فروغ پا رہا ہے اس نے معاشرے کو زنگ آلود بنا کر رکھ دیا ہے اور اب انتہا پسندی اور شدت پسندی ایک طبقے یا گروہ تک محدود نہیں رہی ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket