Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

انصاف کے رکھوالے انصاف سے خوفزدہ کیوں؟

پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں پر بعض ادارے اور حلقے خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے اور اسی رویّے کا نتیجہ ہے کہ بعض وہ ادارے بھی متنازعہ بن گئے ہیں جن کا بنیادی کام عوام کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے پاکستان کا عدلیہ کبھی بھی غیر متنازعہ نہیں رہا اور وقتاً فوقتاً اسی قومی ادارے یا اس کے فیصلوں پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔
بعض دوسرے انتظامی اداروں کے برعکس عدلیہ کا کام زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عدالتیں نہ صرف انصاف فراہم کرنے کی ذمہ دار ہیں بلکہ یہ دوسرے اداروں اور افراد کے حقوق اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین بھی کرتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں ایک طرف سیاسی قوتوں کے دباؤ اور عدلیہ کے سیاسی فیصلوں نے پورے نظام کو مختلف اوقات میں نقصان پہنچایا وہاں پر کچھ کیسز میں عدلیہ کے جج صاحبان کے بعض فیصلوں، ریمارکس اور ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات نے عدلیہ کے کردار کو بھی سوالیہ نشان بنائے رکھا اور اس کا نتیجہ عدلیہ کی مبینہ بے توقیری کی صورت میں نکلتا رہا ہے۔
اس ضمن میں سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ عدلیہ کا احترام بعض مواقع پر عدلیہ اور اس کے جج صاحبان کو زبردستی کروانا پڑتا ہے۔ توہین عدالت اور احترام عدالت کے نام پر مثبت تنقید کا راستہ روکا جاتا ہے تاہم دوسری طرف یہ رویہ بار بار مشاہدے میں آتا رہا ہے کہ آپ عدلیہ کے کردار اور فیصلوں پر اگر سوال اٹھاتے ہیں توعدلیہ اپنے طریقہ کار یا بعض فیصلوں کے دفاع میں فریق بن جاتی ہے اور اکثر مواقع پر جج صاحبان اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر مزاحمت پر اتر نے میں بھی گریز نہیں کرتے حالانکہ بعض دوسرے اہم اداروں کی طرح عدلیہ بھی ایک قومی ادارہ ہے اور اس کو بعض اوقات مقدس گائے کے طور پر پیش کرنے کا بظاہر کوئی قانونی اخلاقی جواز نہیں ہوتا۔
جناب جسٹس فائز عیسی کے خلاف چند ماہ قبل سپریم جوڈیشل کمیشن میں جو ریفرنس دائر کی گئی اس سے اختلاف رائے سے قطع نظر اس قانونی پہلو سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ عین عدالتی طریقہ کار اور قانون کے مطابق اقدام تھا تاہم بعض حلقوں اور خود اہم ترین جج صاحبان نے اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دے کر مسئلے کو انتظامی ایشو سے زیادہ ایک سیاسی معاملہ بتایا اور اس دوران کیس کی سماعت کے دوران حکومت پر آن دی ریکارڈ ریمارکس اور تبصروں کی صورت میں دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی۔
چند روز قبل سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان نے جسٹس فائز عیسی کیس کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے ہیں اس سے عام لوگوں کو بھی یہ پیغام اور تاثر گیا کہ کون کس کو اور کیوں بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور بھائی بندی کے رشتے کو کس انداز میں نبھایا جا رہا ہے؟ اخلاقی معیار یا ذمہ داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ جس نوعیت کے الزامات فائزعیسی صاحب پر لگائے گئے دلائل، ثبوتوں اور قانونی تقاضوں کے مطابق ان الزامات کا جواب دیا جاتا اور اگر فائز عیسی صاحب کے آمدن کے ذرائع پر سوال اٹھایا گیا ہے تو اس کا دفاع کیا جاتا۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بعض جج صاحبان یا ان کے قریبی رشتہ دار کروڑوں اربوں کے مالک ہوتے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کے اثاثوں کی چھان بین اگر ہوتی ہیں تو اس عمل کو عدلیہ یا اس کی آزادی پر حملہ کیوں تصور کیا جاتا ہے ؟ اسی طرح اگر بعض فیصلوں پر رد عمل آتا ہے تو یہ تاثر کیوں دیا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سازش یا خفیہ ہاتھ کارفرما ہے۔
اگر ایک سابق چیف جسٹس سے ڈیم کے فنڈز کا حساب مانگنا غلط نہیں ہے تو جناب فائزعیسی سے جواب طلبی کا عمل کیوں کر غلط قرار دیا جاسکتا ہے اور اگر کوئی جج اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر متنازع فیصلہ کرتا ہے تو اُس کو کس قانون یا اخلاقی معیار کی بنیاد پر قانونی کاروائی سے بچا کر رکھا جا سکتا ہے؟
چار (4)جون کو معزز عدالت کے جج صاحبان نے فروغ نسیم پر جس انداز میں جرّح کی وہ سب کے سامنے ہے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ جج صاحبان منی ٹریل پر بات کرتے اور اس معاملے کو مزید متنازعے سے بچانے کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے وقار اور ساکھ میں اضافے کا راستہ ہموار کیا جاتا ۔ یکطرفہ جرّح اور ریمارکس دینے سے عدلیہ کے فریق بننے کا جو تاثر بن گیا ہے اس کی تلافی عدلیہ اور اداروں کی غیر جانبداری کی صورت میں ممکن ہے۔محض یکطرفہ ریمارکس اور دوسرے اداروں یا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے اس مسئلے کا حل نکلتا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ یہ حقیقی تاثر عدلیہ کے وقار کے لئے بہت خطرناک ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ادارہ جاتی مفادات کے یکطرفہ تحفظ کے لیے فریق کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ۔

سب سے اہم ادارے یعنی پاک فوج میں احتساب کا جو نظام موجود ہے اس کے طرز پر اگر عدالتی نظام میں بھی کوئی فورم یا نظام ہوتا تو اس قسم کے واقعات ، بداعتمادی اور بحث سے بچا جاسکتا تھا ۔ اگر جرنیل ، جرنلسٹ اوردوسرے اہم افراد یا اداروں کا محاسبہ کیا جاسکتا ہے تو ایک جج کا احتساب کیوں نہیں ہو سکتا ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دیئے بغیر عدلیہ کی ساکھ بہتر نہیں ہو سکتی۔ اس ملک کے آئین اور قانون کے مطابق کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ یہ تاثر دینا بہت غلط ہے کہ کسی جج پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا اس تمام کیس یا کھیل میں بعض وہ حلقے بھی حقائق جانے بغیر جناب فائز عیسی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو کہ خود میرٹ کی بالادستی اور اہمیت کا ڈھنڈورا پیٹتے تھکتے نہیں ہیں ۔ مگر بعض معاوّیہ میں وہ کہیں اور نکل گئے ہیں۔
یہ کس قانون میں درج ہیں کہ جج سے یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے؟ یہ سوال کہاں سے غلط ہے کہ آپ ٹیکس اور گوشوارے جمع کراتے ہیں یا نہیں ؟ اس انکوائری میں کونسی بات نامناسب ہے کہ بعض ایسے افراد کے پاس دوہری شہریت کیوں ہیں ؟ یا وہ کس معیار اور آسائش پر مشتمل زندگی گزار رہے ہیں ؟یہ سوال اٹھانا کونسا جرم ہے کہ آپ خود سیاستدانوں جرنیلوں اور ممبران اسمبلی سمیت بعض دوسروں کے خلاف تو فیصلے کر سکتے ہیں مگر کوئی آپ کے خلاف قانون اور ڈسپلن کے تحت کارروائی کا حق بھی نہیں رکھتا ؟کیوں؟
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے افراد اور اداروں کی نگرانی اور محاسبہ دوسرے اداروں اور افراد سے نہ صرف زیادہ اہم ہیں بلکہ متنازع بننے والے افراد کو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کر کے الزامات کی صورت میں اپنے عہدے اور ذمہ داریوں سے خود الگ ہونا چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو اور اداروں کی ساکھ بھی بحال رہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket