Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

مذاکرات میں آخر حرج ہی کیا ہے؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے اگر تحریک طالبان (ٹی ٹی پی ) تشدد ،انتہا پسندی اور دہشت گردی سے باز آجائے تو اس کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکتے ہیں بعض لبرلز اس بیان پر یہ جانے بغیر بہت ناراض ہوگئے ہیں کہ دنیا کی بعض دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان کی مختلف حکومتیں بھی ماضی کی طرح ٹی ٹی پی اور بعض دوسری قوتوں کے علاوہ پشتون، سندھی اور بلوچ علیٰحدگی پسندوں سے بھی نہ صرف مذاکرات کرتی رہی ہیں بلکہ درجن کے قریب ایسی جہادی قوتیں ایسے رابطوں کے نتیجےمیں ہتھیار رکھ کر سیاسی عمل کا حصہ بھی بنی ہیں۔

اعتراضات کرنے والوں میں ایک ایسی قوم پرست پارٹی کے لیڈر اور کارکن بھی شامل ہیں جس نے لبرل پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سن 2008 اور 2009  میں مشہور زمانہ سوات معاہدہ کیا تھا اور اس معاہدے میں ایسی شرائط بھی مان لی تھیں جو کہ عام لوگ تو کیا بعض مذہبی جماعتوں کے لیے بھی قابل تشویش ٹھہری تھیں۔ یک طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ اس معاہدے پر ناصرف خوشی اور جشن منانے کا رویہ اپنایا گیا تھا بلکہ آن دی ریکارڈ یہ فخر یا اعلانات بھی کیے گئے تھےکہ شریعت کےنفاذ کا سوات ماڈل اتنا بہترین ہے کہ اس کومستقبل میں پورے پاکستان میں لاگو کیا جائے گا ۔معاہدہ دوسرے فریق کی خلاف ورزی کے باعث جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیرقیادت عسکری لیڈرشپ کے ایک کامیاب آپریشن کی صورت میں ٹوٹ گیا ورنہ قوم پرست اور لبرل پیپلز پارٹی، اے این پی نے تو سارے سیب سواتی طالبان کی ٹوکری میں ڈال دیتے تھے۔ اس سے قبل ایم ایم اے کی حکومت اور اس کے بعد نواز شریف حکومت نے بھی ایسی جہادی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات اور بعض معاہدے کیے تھے جو کہ بوجوہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے۔

اس لیے حالیہ بیان یا مجویزہ مذاکراتی رابطہ کاری پر سیخ پا ہونے والے یہ لبرل اپنی ضد اور انا کے خول سے باہر نکل کر حقائق کا سامنا کریں تو انکی عزت میں اضافہ ہوگا ۔ان کو شاید اس قسم کے گوریلا اور مزاحمتی گروپوں کے ساتھ دوسری ریاستوں کے ان معاہدوں کا بھی علم نہیں جو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مختلف ممالک نے کئے ہیں ۔جن میں ایک حالیہ ڈیل دوحہ معاہدے کی صورت میں کچھ ماہ قبل افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دیکھنے کو ملی اور بعض مشکلات کے باوجود اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ افغانستان میں عملی طور پر جنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔بھارت اور سری لنکا نےکئی بار علیٰحدگی پسندوں سے مذاکرات کئے جبکہ انہی  قوم پرستوں کےبعض لیڈروں کو1988، 1989میں پاکستان نے اس کے باوجودکابل سے بلاکر قبول کیا تھا کہ وہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے علاوہ بم دھماکوں میں بھی ملوث رہے تھے۔اگر ٹی ٹی پی ہتھیار ڈال کر پر امن زندگی گزارنے پر آمادہ ہو سکتی ہے تو اس کے ساتھ مذاکرات میں کوئی حرج نہیں ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket