Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

ہمیں تم سے پیار ہے اور تم پر فخر بھی

کہتے ہیں قوموں اور افراد کی صلاحیتوں ہمت اور استقامت کا پتہ بحرانوں اور آزمائشوں میں لگتا ہے۔ بحران جہاں بہت سے مسائل اور مشکلات لے کر آتے ہیں وہاں باشعور اور زندہ قوموں کے لیے امکانات بھی پیدا کرتے ہیں اور لوگ بحرانوں سے سبق بھی سیکھتے ہیں ۔ زندہ قومیں زیادہ بارشوں کے موسم میں بندھ باندھ کر پانی کو ذخیرہ کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اسی پانی سے بنجر زمین سیراب کرتی ہے جبکہ خوفزدہ اور نااہل قومیں شدید بارشوں کے نتیجے میں طغیانی میں بہہ جاتی ہیں یا ان کے گھر اور باغات تباہ ہوجاتے ہیں۔
کرونا وائرس کے حالیہ بحران نے جہاں بہت سی طاقتور ریاستوں اور ان کی لیڈرشپ کو بے نقاب کر دیا ہے وہاں مختلف اقوام، معاشروں اور افراد کو نئی شناخت اور انفرادیت بھی دی ہے۔ قیادت اور ریاستوں کی نئی درجہ بندیاں ہو رہی ہیں اور اس بحران کے خاتمے کے بعد قوی امکان ہے کہ ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی، نئی سوچ پیدا ہوگی، پرانے بت ٹوٹ جائیں گے اور نئی شخصیات قیادت اور ریاستیں جنم لیں گی ۔ اس بحران سے جہاں بہت خطرات اور سنگین چیلنجز نے جنم لیا وہاں نئے امکانات اور رحجانات بھی پیدا ہوگئے ہیں ۔ اس صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا کے تقریباً ہر قوم ، ہر معاشرے اور ہر ریاست کو ایک جیسی حالت یا مشکل کا سامنا ہے تاہم سرخرو وہ لوگ اور ممالک ہونگے جنہوں نے نظم و ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے اس بحران کا مقابلہ کیا اور اجتماعی کوششوں میں اپنا حصہ ڈال کر دوسروں کی درست رہنمائی کو اپنے فرائض میں شامل کیا۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ حالیہ بحران کے دوران ان لوگوں یا حلقوں کا پھلڑا بھاری رہا جنہوں نے جہالت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے کرونا کو سازش، جھوٹ، پروپیگنڈا اور ڈرامہ قرار دیا اور منفی پروپیگنڈے یا سرگرمیوں کا حصہ بنے ۔ اس بحران سے نمٹنے یا نکلنے کی بڑی ذمہ داری جن حلقوں پر ڈالی جا سکتی ہے ان میں قومی قیادت، ریاستی ادارے، علماء، اساتذہ ، میڈیا اور فلاحی ادارے سرفہرست ہیں ۔ بحران کے خاتمے کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ کس کا کیا اور کتنا کردار رہا۔ تاہم اب تک جو صورتحال سامنے آتی رہی ہے اس میں بعض لوگوں یا اداروں نے نہ صرف اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں بلکہ لوگوں کی نظروں میں ان کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی اور اس کی ایک ذیلی تنظیم الخدمت فاونڈیشن نے روز اوّل سے نہ صرف یہ کہ بہت مثبت طرز عمل اپنایا بلکہ انکی رضاکاروں نے حسب سابق ملکی سیاسی امتیاز کے بغیر متاثرہ افراد اور علاقوں کی بحالی اور مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس کے ہزاروں رضاکاروں نے متاثرہ لوگوں کی عملی مدد کرنے کے علاوہ اپنے ہسپتال، ایمبولینس اور دیگر سہولیات بھی وقف کیں۔ ملک سمیت خیبرپختونخوا میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ہیں جن کو بیرونی قوتوں کے علاوہ ہمارے حکومتی ادارے برسوں سے نوازتے آرہے ہیں مگر حالیہ آزمائش اور بحران کے دوران این جی اوز کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور ان کے نام نہاد سوشل ورکرز اور سربراہان اس قومی بحران سے بالکل لاتعلق رہے۔
سیکیورٹی فورسز نے لاک ڈاؤن کو نہ صرف یہ کہ ممکن بنایا بلکہ عوامی رائے عامہ اور غیر ذمہ دارانہ رویوں اور افواہوں کے باوجود انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کر کے بعض دوسرے ممالک کی طرح طاقت کے استعمال سے گریز کیا اور اس میں کامیاب رہیں تو ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ نے جانوں اور خطرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دئیے اور عوام کے سنجیدہ حلقوں نے ان کو سراہا ۔
دو روز قبل ممتاز ماہر تعلیم، کئی کتابوں کے مصنف اور تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی۔ جس نے اس بحران کے نتیجے میں پریشان اور خوفزدہ لوگوں کے دلوں میں امید کی سمتیں روشن کیں اور ہزاروں افراد نے اس تصویر اور اس کے ساتھ لکھی عبارت سے بہت کچھ سیکھا ۔ انہوں نے اپنی دو ڈاکٹرز صاحبزادیوں کے ساتھ اپنی تصویر کھینچوائی اور کیپشن میں لکھا کہ وہ اپنی دونوں بیٹیوں کو ایک باپ کی فطری تشویش کے باوجود یہ سوچ کر ہسپتالوں میں ڈیوٹی کرنے بھیج دیتے ہیں کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے لوگوں کی خدمت کرنے جارہی ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ اس تشویش پر کہ وہ ایک نہیں بلکہ دو صاحبزادیوں کو لاک ڈاؤن میں ہرصبح ہسپتال بھیجتے ہیں، اللہ کا شکر یوں غالب آجاتا ہے کہ اس ذات پاک نے میری دونوں بیٹیوں کو مخلوق خدا کی خدمت کے لیے منتخب کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھینچی یہ تصویر سینکڑوں افراد نے شئیر کی اور ہزاروں نے اس قابل فخر خاندان کو خراج تحسین پیش کر کے دعاؤں سے نوازا ۔ ان کی اس تصویر پر اور اس پر لکھی گئی عبارت نے حالیہ بحران کے دوران ایک مثبت اور قابل تقلید بیانیے کو جنم دیا ہے اگر ایسے چند لوگ اور خاندان اور پیدا ہوں تو کوئی شک نہیں کہ اس ملک کی تقدیر بدل جائے۔
حرف آخر کے طور پر اس خاندان کے لئے محض ایک جملہ کہ ہمیں تم سے پیار بھی ہے اور تم پر فخر بھی۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket