Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

خیبرپختونخوا کو تصادم سے بچانے کی اشد ضرورت

 اس تلخ حقیقت اور حالات کے جبر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ  1978اور اس کے تسلسل میں نائن الیون کے بعد ہمارے خطے خصوصاً افغانستان، پاکستان اور ایران میں نہ صرف مسلسل جنگیں لڑی گئیں بلکہ یہ خطہ عالمی پراکسیز  کا مرکز بھی بنا رہا اس پر ستم یہ کہ اس صورتحال اور عالمی پراکسیز کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف رہائش پذیر پشتون آبادی ہی زیادہ نشانہ بنی اور متاثر ہوئے ۔ پشتون چونکہ اسلام اور وطن پرستی کے معاملے پر زیادہ حساس اور جذباتی واقع ہوئے ہیں اس لیے جتنی بھی دو طرفہ جنگیں لڑی گئیں یہ انکا حصہ بنے رہے اور نتیجے کے طور پر برسوں تک متاثر بھی ہوتے رہے۔

 متعدد بار پشتون قیادت سے غلطیاں ہوئیں تو کئی بار عوام بھی ارادتاً یا بے خبری کے عالم میں ان پراکسیز کا حصہ بنتے گئے جس کے منفی اثرات یہ لوگ چالیس برسوں سے برداشت کرتے آرہے ہیں اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ جس کو بدقسمتی کا نام بھی دیا جاسکتا ہے ۔ تاریخی شواہد تو یہ ہیں کہ جب سوویت یونین ، افغانستان میں داخل نہیں ہوا تھا اور دور دور تک مروجہ جہادی سرگرمیوں کا نام و نشان نہیں تھا تب بھی پاکستان میں وقتا ًفوقتاً دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے اور سرحد پار سے باز تنظیموں کو باقاعدہ سرپرستی اور مالی معاونت کی جاتی رہی ۔ اس کے ردعمل میں ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے کاؤنٹر پالیسی کا آغاز کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسی عرصے کے دوران پشتون زلمےکے پلیٹ فارم سے پاکستان میں کارروائیاں ہوتی رہی اور خباب بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کے صاحبزادوں اور ساتھیوں نے ذوالفقار کے نام سے جو گوریلا تنظیم قائم کی اس کا مرکز بھی کابل رہا ۔ اسی طرح بلوچ علیحدگی پسندوں کی سرکاری سرپرستی بھی کی جاتی رہی ۔

پاکستان کا ریاستی موقف اس تمام معاملے پر یہ رہا کہ اس نے بعض افغان گروہ کو اپنے دفاع اور مذکورہ گروہوں کا راستہ روکنے کے لئے باہمی مفادات کے فارمولے کے تحت سپورٹ کیا۔  تاہم ایسے حلقوں کی کوئی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ پاکستان بوجوہ افغانستان میں مداخلت کرتا رہا ہے۔

 پس منظر اور اسباب جو بھی ہو زمینی حقائق کی روشنی میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پشتون میں سنجیدہ اور باعمل قیادت کے فقدان اور خطے میں لاتعداد پراکسیز اور عالمی مفادات کے ٹکراؤ نے افغانستان اور پاکستان کے پشتون بیلٹ کو میدان جنگ میں تبدیل کیا اور بہت سے لوگ نہ صرف جنگ لڑتے رہے بلکہ بعض نے جنگ اور اس کے بعد امن کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا۔  امریکہ کا کردار ہدف تنقید بنا رہا اور پاکستان کی طرح سعودی عرب کو بھی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا مگر سوویت یونین ، ایران اور بھارت کو بعض حلقے ان کے کردار کے حوالے سے نظر انداز کرکے سپورٹ کرتے رہے۔

 نائن الیون کے بعد لاتعداد جنگجو امریکا اور نیٹو کی غلط حکمت عملی کے باعث پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گھس آئے چونکہ اس علاقے میں بعض انتظامی نقائص موجود تھے اور پاکستان عالمی دباؤ کی لپیٹ میں تھا اس لئے صورت حال ابتر ہوتی گئی۔  اس کے باوجود پاکستان المیزان سے لے کر آپریشن ضرب عضب سمیت ان علاقوں میں ایک درجن سے زائد آپریشن کئے ہیں اور آخری آپریشن کے نتیجہ میں جہاں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے جنگجوؤں کا خاتمہ کیا وہاں فاٹا کو پختونخواہ میں شامل کیا گیا اور نصف درجن گروہوں نے  افغانستان جا کر پناہ لے لی جہاں ان کو بعض دوسری قوتوں نے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا۔

 یہ شکایت یا تصور بجا ہے کہ آپریشن کے باوجود خیبرپختونخواہ خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گاہے بگاہے حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور حکومتی اداروں نے غالباً بعد از آپریشن درکار اقدامات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔  تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سرحد پار دہشتگردی  بڑا مسئلہ بنا رہا اور اس کے باوجود ماضی کے مقابلے میں حالات تیزی کے ساتھ اتنے بہتر ہونا شروع ہوگئے کہ ان دو اضلاع میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔  ان حلقوں نے بھی الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی جو کہ پاکستان کے بعض اداروں پر مختلف نوعیت کے الزامات لگاتے رہے ، ساتھ میں بعض ناراض افراد کے ساتھ مذاکراتی سیشن کئے گئے تاکہ وہاں ہونے والی دو طرفہ زیادتیوں کا ازالہ کیا جاسکے ۔

سال 2020 کے اول میں جب افغانستان کے حالات پھر سے خراب ہونے لگے اور حملوں کی تعداد بڑھتی گئی تو فطری طور پر اس کا اثر اِن علاقوں پر بھی پڑھنے لگا اور شمالی جنوبی وزیرستان کے علاوہ مہمند ، باجوڑ، کرم اور بعض دیگر علاقوں میں حملے کرائے گئے۔

ریکارڈ کے مطابق اس عرصے کے دوران اب تک کے حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ جانی نقصان پاک فوج کو اٹھانا پڑا ہے اور اب تک 4 افسران سمیت تقریباً 30 جو ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔  بعض حملوں کے دوران ایک صوبائی وزیر سمیت حکومت کے حمایت یافتہ تقریباً ایک درجن افراد کو نشانہ بنایا گیا۔  یہ صورتحال ریاست کے لئے ایک چیلنج ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ فورسز نے محدود آپریشن کے دوران درجنوں حملہ آوروں کو بھی نشانہ بنایا ۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ بدلتے علاقائی حالات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرکے حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے اور عوام کو خوفذدہ اور بدگمان کرنے کے بجائے اعتماد میں لے کر کسی تصادم سے بچانے کی حکمت عملی اپنائی جائے کیونکہ اس خطے کے عام لوگ ان جنگوں اور نفرت کے کھیل سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ تعلیم ،صحت اور ترقی کا نہ صرف تقاضا اور مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ وقت آگیا ہے کہ نفرتوں کا کھیل ختم کرکے ان کے بنیادی حقوق،  انصاف اور تیز رفتار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔

 ماضی کے تلخ واقعات کا ماتم کرنے اور الزامات در الزامات کے روایتی سلسلہ کے بجائے اگر فریقین اعتماد سازی کو فروغ دیکر ماضی کی غلطیوں سے گریز کا راستہ اپنا کر آگے بڑھے اور درپیش چلینجز اور متوقع خطرات کے پیش نظر صف بندی کریں تو اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔  بعض واقعات کی آڑ میں ان علاقوں کے عوام کو غصہ دلانے یا ان میں نفرت پھیلانے کا رویہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔  ایس میں ضرورت اس بات کی ہے کہ منفی پروپیگنڈے ، الزامات دوطرفہ استقلال اور دوسروں کے مقاصد کے حصول کے لیے ان کے اعلیٰ کار بننے کا روایتی رویہ اور سلسلہ فوری طور پر بند کرکے مسائل اور بداعتمادی کے حل اور خاتمے پر توجہ دی جائے تاکہ جنگ زدہ عوام کے زخموں پر مرہم پٹی رکھ کر خطے کو مزید تصادم کشیدگی اور بد اعتمادی سے بچایا جا سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket