Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

اگر ایسا ہے تو فورسز پر حملے کون کرا رہا ہے؟

شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت متعدد دوسرے علاقوں میں گاہےبگاہے حملوں اور ٹارگٹڈ آپریشنز کا سلسلہ اسلئے سال بھر جاری رہتا ہے کہ یہ علاقے ماضی میں انتہا پسند مذہبی گروہوں کے مراکز رہے ہیں۔ جبکہ اس سلسلے کی بڑی وجہ افغانستان کی بگڑتی اور غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔ جہاں ایک معتبر امریکی رپورٹ کے دوران دوحہ معاہدے کے بعد طالبان نے فورسز اور عوام پر روزانہ کی بنیاد پر کم ازکم 15 حملوں کا ریکارڈ قائم کیا . جس کے نتیجے میں مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران 533 افراد جاں بحق جبکہ 770 شدید زخمی ہوگئے. اس کے باوجود نہ تو افغان حکومت نے قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ روکا اور نہ ہی عوام سڑکوں پر نکل آئے کیونکہ ایک تو مفاہمت کی کوشش ہو رہی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ بڑی تعداد میں اب بھی لوگوں کی ہمدردیاں ہیں۔
اسی طرح سال 2020 کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان میں نہ صرف بعض سیاسی کارکنوں اور سماجی شخصیات پر حملے کیے گئے بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ابتدائی چار مہینوں کے دوران فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان تقریباً ایک درجن جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث 5 فوجی افسران سمیت کم از کم 25 سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائیوں میں 35 سے زائد حملہ آور بھی مارے گئے۔ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا کیونکہ لاتعداد جنگجو اب بھی زندہ ہے اور وہ موقع پاتے ہی فورسز اور اپنے مخالفین پر حملے کرتے رہیں گے کیونکہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور پراکسیز بھی موجود ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ان دو اہم اضلاع میں بعض  گروہ فورسز اور ریاستی پالیسیوں کی مخالفت کی آڑ میں روایتی گڈ اور بیڈ طالبان کا نعرہ لگاکر فورسز کی درکار کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید ریاستی ادارے بعض طالبان کو غیر اعلانیہ طور پر سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس طرز عمل یا پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب فورسز گرفتار یاں کرتی ہیں یا حملہ آور مارے جاتے ہیں تو یہ عناصر نہ صرف رکاوٹیں ڈالتے ہیں بلکہ گرفتار یا مارے جانے والے افراد کو پرامن شہری اور معصوم افراد قرار دے کر ان کے حق میں مہم بھی چلاتے ہیں۔ ایسا متعدد بار ہوا کہ جب فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کسی گھریاٹھکانے کا گھیراؤ کیا تو بعض غیر طالبان گروہ نے یہ کہہ کر مخالفت اور مزاحمت کی کہ مذکورہ افراد پرامن قبائلی ہیں۔ تاہم جب کاروائیاں ہوتی ہے تو پتہ چل جاتا ہے کہ جن کو پرامن قرار دیا جا رہا تھا وہ ہارڈ کور حملہ آورتھے۔ یہاں ہم حیات آباد پشاور کے ایک واقعے کی مثال لیتے ہیں جب ایک گھر کا گھیراؤ کیا گیا تو ایک مخصوص گروہ نے شور مچانا شروع کیا کہ گھر کے باسی عام اور پرامن لوگ ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ صورتحال قطعاً مختلف تھی۔ وزیرستان کے علاقے خیسور میں بھی کچھ عرصہ قبل ایسی ہی صورتحال اور مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ سرکاری حکام کا موقف ہے کہ ان علاقوں میں حکومت واقعتا ًکسی طالبان گروہ کو سپورٹ کر رہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پانچ افسران سمیت درجن بھر فوجی اہلکاروں کو کس نے نشانہ بنایا اور 25 سے زائد جنگجو مختلف کاروائیوں میں فورسز کی کارروائیوں کا نشانہ کیسے بنے؟
یہ موقف بھی کافی وزنی ہے کہ حکومت کے حمایت یافتہ افراد بشمول عوامی نمائندوں کو کون نشانہ بناتے ہیں اور اگر کوئی حکومت مخالف شخص یا کارکن کسی ذاتی یا سیاسی پس منظر کے باعث گاہے بگاہے نشانہ بنتا ہے تو اس کی ذمہ داری حملہ آوروں کی بجائے فورسز پر بغیر کسی ثبوت کے کیوں ڈالی جاتی ہے؟ اس کا جواب دینا لازمی ہے۔
حکام یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایک مخصوص گروہ حکومت کی مخالفت میں طالبان کو غیر اعلانیہ سپورٹ فراہم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس طرز عمل کے نتیجے میں وہ نہ صرف عوام میں بدگمانی پیدا کرتے ہیں بلکہ نام نہاد گڈ طالبان کا کارڈ استعمال کر کے بلاواسطہ حملہ آوروں کی معاونت بھی کررہا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں حال ہی میں ایک گروہ کے رہنما کو نشانہ بنایا گیا تو اس واقعے کو حکومت کی کارروائی کا نتیجہ قرار دے کر نہ صرف مہم چلائی گئی بلکہ افغانستان سمیت متعدد دیگر ممالک میں مظاہرے بھی کیے گئے حالانکہ افغانستان کے اندر طالبان اور غیر ملکی افغان فورسز کی کارروائیوں کے خلاف 19 سال کے طویل عرصے میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلاف شاید ہی کوئی بڑا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہو۔ اس صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تضاد بیانی اور یکترفہ مہم جوئی کی بجائے حقائق کا سامنا کرتے ہوئے پشتونوں کو ایک اور لڑائی اور کشیدگی میں دھکیلنے سے گریز کیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket