Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

ایک مثالی روایت کا آغاز

اس بحث سے قطع نظر کے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اے این پی کے بعض لیڈروں اور شہداء کے بارے میں ایک متنازع بات کس پیرائے اور پس منظر میں کہی، خوش آئند امر یہ ہے کہ وہ وزیر دفاع پرویز خٹک کے ہمراہ گزشتہ روز باچا خان مرکز خود چل کر آ گئے اور انہوں نے پارٹی لیڈران کی موجودگی میں بیان کی وضاحت کر کے سیاسی کشیدگی کو کم کرکے جاری صورتحال میں ایک اچھی مثال قائم کر لیں۔ اے این پی کے لیڈروں اور کارکنوں نے بھی توبہ کی روایات کے مطابق دونوں وزراء کانہ صرف استقبال کیا بلکہ ان کی معذرت قبول کرکے ان کی مہمان داری بھی کی۔

اس سے قبل بھی اعجازشاہ ایک اخباری بیان میں یہ کہہ کر اپنی بات کی وضاحت کرچکے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اے این پی نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہے تاہم پارٹی کو اُن کے سابقہ بیان سے اتنا دکھ پہنچا تھا کہ اعلیٰ ترین قیادت نے ردعمل میں 11 نومبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا تھا اور اس کی تیاری ہو رہی تھی کہ دونوں وزرا ءنے خود باچا خان مرکز آکر ایک اچھی مثال قائم کرتے ہوئے کشیدگی کو آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ اس دو طرفہ عمل کو اُن عوامی اور سیاسی حلقوں نے بہت سراہا جو کہ ملک میں سیاسی مخالفین کے درمیان مکالمہ اور شائستگی پر مبنی رویہ اپنانے کے خواہشمند ہیں۔

حالیہ سیاسی تاریخ میں ہمیں زیر بحث اقدام کی مثال نہیں ملتی اور اس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ تلخ نوائی اور تشدد کا شکار ہو چکا ہے اور اس کی بڑی مثال حکومتی وزراء اور اپوزیشن کے بیانات اور الزامات ہیں جو کہ پی ڈی ایم کے قیام اور جلسوں کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔

سیاسی مخالفت کو جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے اور نظریات اور دلائل کی بنیاد پر اگر اس کلچر کو آگے بڑھایا جائے تو اس سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے تاہم بعض دیگر ممالک کی طرح ہمارا بھی ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ بعض اوقات ہمارے لیڈرز سیاسی مخالفت میں ذاتیات پر اتر آتے ہیں جس کا نتیجہ غیر ضروری کشیدگی کی شکل میں نکل آتا ہے۔

ماضی میں مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے خلاف سیاسی مخالفت کی جبائے ذاتیات پر مبنی رویہ اپنایا تو اس پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردارکشی سے بھی گریز نہیں کیا ۔ یہی رویہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بارے میں بھی اپنایا گیا ۔تحریک انصاف 2018 کی انتخابی مہم میں اتری تو اس نے بھی ردعمل میں یہی طریقہ استعمال کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو بڑی پارٹیوں کی نہ صرف دوریاں بڑھ گئی بلکہ حکومتوں کے قیام کے بعد اس کے منفی اثرات نے سماجی سطح پر بھی پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اے این پی کے بارے میں عمران خان یا ان کی حکومت کا مجموعی رویہ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں کافی مثبت اور بہتر رہا ہے تاہم ان کے برعکس روز اوّل سے اےاین پی عمران خان اور ان کی پارٹی پر مسلسل حملہ آور ہوتی رہی ہے اور بسا اوقات بعض لیڈرز تمسخر اڑانے کے علاوہ ذاتیات پر بھی اتر آتے ہیں حالانکہ یہ پارٹی ماضی میں شاندار جمہوری روایات کی حامل ایسی قوت رہی ہے جس نے کبھی کسی کی غیر ضروری مخالفت یا مزاحمت نہیں کی مگر بعد میں اے این پی بی اپنی اس روایت کو جاری نہ رکھ سکیں۔ بہرحال دونوں وفاقی وزراء کی جس طریقے سے باچا خان مرکز پشاور میں مہمان نوازی گئی اس سے جہاں دونوں پارٹیوں کی دوری اور تلخیاں کم ہونے میں بہت مدد ملے گی وہاں اے این پی پی کی قد کاٹھ میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس وقت پی ڈی ایم کے اجتماعات بعض سیاسی بیانات اور گلگت بلتستان کے انتخابی جلسوں سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو تلخی دیکھی جا سکتی ہے اس پر ملک کے عوام اور سنجیدہ حلقے کافی پریشان ہیں کیونکہ عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور درپیش چیلنجز اور مشکلات کا حل محض حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ فریقین سیاسی مخالفت کے باوجود سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کر کے نظام کو چلنے دے اور غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کا راستہ اپنایا جائے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اپوزیشن روزانہ کی بنیاد پر عوامی جلسے کر رہی ہے اور گلگت بلتستان کی انتخابی مہم بھی جاری ہے تاہم فریقین کو ان سرگرمیوں کے دوران تلخ نوائی سے جتنی گریز کریں گے اتنا ہی جمہوریت ، ملک اور عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket