Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

افغان عوام کو ہماری مدد کی اشد ضرورت

طورخم باڈر گزشتہ کئی روز سے افغان حکومت کے خدشات اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ہر قسم کی تجارت کے لیے بند ہے جس کے باعث جہاں پاکستان اور افغانستان کی بزنس کمیونٹی اور اس کے متعلقہ لیبر فورس کو سخت نقصان کا سامنا ہے وہاں پڑوسی ملک کے عوام کو دوسری چیزوں کے علاوہ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف افغان حکومت نے چند روز قبل پی آئی اے کی فلائٹ یا آپریشن کو اس لیے بند کر دیا ہے کہ ان کے بقول پاکستانی ایئر لائن زیادہ کرایہ وصول کر رہی تھی۔ طورخم کے علاوہ غلام خان اور چمن کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو بھی ایسی ہی صورتحال اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

سال 2020 کے مقابلے میں پاک افغان تجارت میں رواں برس 400 فیصد کی کمی واقع ہو گئی ہے جو کہ تشویشناک امر ہے۔  اگرچہ بعض حلقے اس صورتحال کو افغانستان کے جاری حالات اور بے یقینی کا عارضی نتیجہ قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جیسے ہی وہاں گورننس کے معاملات درست ہونگے تجارت اور آمدورفت میں اضافہ ہو جائے گا۔  تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ افغانستان کی طالبان حکومت اس تعاون یا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی دکھائی نہیں دے رہی جس کی توقع کی جارہی تھی۔ پاکستان نے اپنے مسائل اور عالمی دباؤ سے قطع نظر جہاں افغان حکومت کے لیے عالمی سطح پر لابنگ کی وہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،  دوائیاں اور دوسری اشیاء کی بڑی تعداد بھی 15 اگست کے بعد بھیجتا رہا۔ اس کے باوجود تعلق حیلوں، بہانوں سے افغان حکام کی جانب سے رکاوٹیں اور مشکلات پیدا کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی آمدورفت اور تجارت بدترین حالات میں بھی جاری رہی ہیں اس وقت اگر یہ کہا جائے کہ افغانستان کی اشیائے ضرورت کا 50 فیصد انحصار بوجوہ پاکستان پر ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ دوسرے پڑوسی ممالک اور افغانستان کے درمیان جہاں لمبی مسافت یا دوریوں کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ ہے وہاں دوسرے ممالک کے تجارتی اور کاروباری حلقے خوف کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔

افغانستان کے تقریباً 15 صوبوں کا تجارتی انحصار پاکستان سے جانے والی اشیاء پر ہے کیونکہ اکثر صوبے پاکستان کی سرحدوں پر واقع ہیں اور اس بزنس سے ہزاروں افغان بھائیوں کا روزگار بھی وابستہ ہے ایسے میں طورخم، چمن اور غلام خان جیسے پوائنٹس پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ان کی بندش سے مشکلات میں گھرے افغان بھائیوں کے مسائل میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہوگا۔ یہ درست ہے کہ نئی افغان حکومت کو معاملات سنبھالے چند ہفتے گزر گئے ہیں اور پڑوسی ملک کو مسائل کا بھی سامنا ہے تاہم پاکستان کے ساتھ معاملات کو درست اور نارمل رکھنا افغانستان کی ضرورت ہے اور نئی افغان حکومت کو یہ مسائل جلد از جلد حل کرنے ہونگے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے حکام کو بھی چاہیے کہ وہ افغان حکومت اور عوام کی جانب سے زیادہ کرایہ کی شکایت کا فوری نوٹس لے کر یہ مسئلہ حل کرے کیونکہ افغان عوام کو ہمارے غیر معمولی تعاون کی ضرورت ہے۔ پی آئی اے کو کوئٹہ اور پشاور سے بھی فلائٹس چلانے کی تجویز اور آپشن کا جائزہ لینا چاہیے۔

ادھر حال ہی میں کابل کے پاکستانی سفارتخانے کے ایک اعلان کے مطابق سینکڑوں افغان سٹوڈنٹس طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہونے بارڈر پہنچے جو کہ ایک پالیسی اور طریقہ کار کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم اُن کو اُس وقت سخت مایوسی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ان کو بوجوہ پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ اس مسئلہ کا حل نکالنا پاکستان کے متعلقہ اداروں کے لیے بہت ضروری ہے جبکہ ویزوں کے اجراء سے متعلق شکایات کا نوٹس لینا بھی لازمی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر آمدورفت،  تجارت اور ویزوں کی سہولتوں سمیت دیگر اُمور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ مشکلات سے دوچار افغان بھائیوں کی بروقت مدد کی جاسکے۔ جبکہ افغان حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوآرڈینیشن کو بہتر کرکے غیر ضروری مشکلات سے گریز کیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket