Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

سوشل میڈیا اذیت پسندی اور ہم

سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری استعمال پر بعض سنجیدہ اور اعتدال پسند حلقے پہلے دن سے خدشات اور تشویش کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ذمہ دار ممالک میں سوشل میڈیا کی ریاستی سطح پر سخت مانیٹرنگ کی جاتی ہے جس کے دوران غیر مصدقہ معلومات اور نفرت و بےچنی پھیلانے والے مواد پر سخت گرفت کی جاتی ہے تاہم پاکستان کے متعلقہ ادارے اس ضمن میں اپنے فرائض پورے کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ جس کے باعث عوام بعض اوقات نہ صرف یہ کہ غیر مصدقہ مواد پھیلاتے ہیں بلکہ دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی اور غیراخلاقی تبصروں سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ملک کے ایک ممتاز صحافی اور ایک مشہور عالم دین کے درمیان معمول کے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ایک مسئلے کے رائے میں اختلاف سامنے آیا تو ہمارےشاہین مفت سوشل میڈیا صارفین نے مورچے سنبھال کر یہ تاثر دینے کی احمقانہ کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ اس گفتگو سے خدانخواستہ توہین اسلام یا اظہار رائے یا آزادی صحافت سے متعلق کوئی جرم سرزد ہوا ہے یا کوئی قومی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ تقریباً ایک ہفتے تک چلائی جانے والی اس مہم کے دوران دلائل کم اور گالیاں و الزامات زیادہ سننے اور پڑھنے کو ملے۔ خدا بھلا کرے دونوں مدعیان کا جنہوں نے ایک دوسرے سے خود رابطہ کرکے معذرت کی اور یوں سینکڑوں ہزاروں صارفین کا شور ناتمام اپنے انجام کو پہنچ گیا ۔
ایسے واقعات اور تبصروں کے دوران ایک بات بار بار ہمارے سامنے آتی رہتی ہے اور اس بات کا تعلق ہماری بنیادی تربیت، اخلاقیات اور احساس ذمہ داری سے رہا ہے۔ ہم تہذیبی اور شخصی نرگسیت کے علاوہ ازیت پسندی اور دل آزاری کے ایسے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں جس نے ہر طبقے، ہر عمر اور ہر طبقہ فکر کے پڑھے لکھے لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ہم سوچے سمجھے بغیر دوسروں پر کھیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک کار سوار خاتون اور خیبرپختونخواہ پولیس کے چند اہلکاروں کے درمیان ہونے والی تلخی کی ایک ویڈیو مشہور ہوئی جس میں خاتون خود کو ایک فوجی افسر کی اہلیہ قرار دے کر پولیس والوں سے راستہ کھولنے کا کہتی ہیں۔ ویڈیو سامنے کیا آئی کہ معززین صارفین نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس کی آڑ میں ایک ادارے کو ایسے آڑے ہاتھوں لینا شروع کیا جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ خاتون اور پولیس اہلکاروں کی تکرار ہی ہو۔ یہ بجا ہے کہ خاتون کا رویہ جارحانہ اور لہجہ بہت غیر ذمہ دارانہ تھا اور ان کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تھا لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو کہ پولیس کے ساتھ اس نوعیت کا تکرار نہیں کرتے یا اس انداز میں اپنا تعارف نہیں کرتے کہ وہ کون ہے؟ یا وہ کس کی رشتہ دار ہیں؟ سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم ہر روز نہ صرف پولیس اور سرکاری دفاتر بلکہ فوجی چیک پوسٹوں پر متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ تکرار اور جھگڑا کرتے ہیں بلکہ سب اپنی حیثیت کے مطابق اسی انداز میں اپنا تعارف کروا کر سہولتیں حاصل کرنا پیدائشی حق بھی سمجھتے ہیں ۔ یہ کوئی انہونی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ان واقعات اور رویوں کا ایک اظہار تھا جن کا ہم روزانہ سامنا کرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اس تکرار اور دوطرفہ ردعمل کی ویڈیو مشہور ہوئی اور باقی واقعات ہم معمول میں لیتے ہیں ۔
خاتون نے کارِ سرکار میں مداخلت کی تھی جس کے خلاف پولیس کے مدعیت میں ایف آئی آر کاٹی گئی اور اس ایف آئی آر کی رو سے ان کے خلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز کارؤائی ہونی چاہئے تاہم دوسری طرف اس بات یا حرکت کا بھی نوٹس لینا چاہیے کہ پولیس نے اس واقعے کی ویڈیو کیوں اور کس قانون کے تحت بنائی اور اگر اپنے دفاع کے لیے بنائی تو پھیلائی کیوں ؟
اس امر کا جائزہ لینا بھی لازمی ہے کہ ایسے واقعات یا اتفاقیات کے بعد ہم چند افراد کے رویے یا غلطیوں کو کسی خاندان یا قومیت یا ادارے کے کھاتے میں ڈالنے کی اجتماعی عادت یا مرض میں کیوں اور کس لئے مبتلا ہوگئے ہیں مگر اس کے لیے سوچنا شرط ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket