Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

جلال آباد میں بھگدڑ کے باعث متعدد ہلاکتیں اور اسباب

افغانستان کے دوسرے بڑے شہر جلال آباد میں گزشتہ دنوں پاکستانی قونصلیٹ سے ویزوں کی حصول کے دوران ایک قریبی واقع اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں 10 خواتین سمیت 15 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے جس پر دوسروں کے علاوہ کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان، نمائندہ خصوصی برائے افغان امور صادق خان اور وزیراعظم عمران خان نے انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا پھر اظہار کیا کہ پاکستان کو کووڈ ۱۹ کے باوجود افغان بھائیوں کو ویزوں سمیت ہر درکار سہولت فراہم کرتا رہے گا۔

پاکستانی سفیر نے افغان حکومت کے مسلسل اصرار اور عوام کی مشکلات کے تناظر میں 10 اکتوبر کو پاکستانی سفارت خانے کو افغان باشندوں کو مسلسل ویزے دینے کی ہدایات جاری کی تھیں جس کے نتیجے میں صرف ایک روز یعنی 12 اکتوبر کو صرف کابل سفارتخانے سے 2400 افغانیوں کو ویزہ جاری کئے گئے ۔ اسی روز کندھار اور جلال آباد کے کونسلیٹ کو بھی حسب سابق ویزے جاری کرنے کا حکم دیا گیا تاہم بعض سیکورٹی مسائل کے باعث کام میں تاخیر ہوتی رہی مگر جب گزشتہ روز جلال آباد میں ویزے دینے کا عمل شروع کیا گیا تو افغان حکومت نے اس کے باوجود سکیورٹی انتظامات سے لاتعلقی اختیار کی کہ ویزوں کے حصول کے لیے ہزاروں باشندے قریبی اسٹیڈیم میں جمع تھے جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

اس دوران افغان باشندے بھگدڑ مچ جانے سے ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے جس کا نتیجہ 10 خواتین سمیت پندرہ افراد کے جاں بحق ہونے کی صورت میں نکل آیا۔ خواتین میں متعدد حاملہ خواتین بھی شامل تھیں جن کو مرد حضرات نے بھگدڑ کے دوران کچل ڈالا اور یوں بڑا سانحہ رونما ہوا۔ کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور جلال آباد کے پاکستانی قونصل جنرل عباداللہ کے مطابق سیکورٹی انتظامات کی ذمہ داری افغان اداروں کی تھی اور متعلقہ حکام کو اس حصے سے آگاہ کیا بھی گیا تھا مگر وہ انتظامات میں بدقسمتی سے ناکام رہے جس کے باعث یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا کیونکہ ہزاروں افراد ٹیم میں جمع ہوگئے تھے اور قونصلیٹ کے زیادہ سے زیادہ ویزوں کی فراہمی کے انتظامات خواہش کے باوجود متعلقہ حکام عوام کے ہجوم پر قابو پانے میں ناکام رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پاکستانی حکام اس موقع پر ویزوں کے اجراء اور پاسپورٹ کے حصول میں مسلسل مصروف عمل تھے مگر ہجوم بڑھتا گیا اور سینکڑوں افراد باری لینے کی کوشش میں ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے جس کے باعث صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا کیونکہ افغان حکام کے سیکورٹی انتظامات اس کے باوجود نہ ہونے کےبرابر تھےکہ عوام کی تعداد بے تحاشا تھی اور پاکستانی قونصلیٹ پر اس سے قبل بھی متعدد بار حملے بھی کرائے جا چکے ہیں۔
اس افسوسناک واقعے کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اتنے بڑے ہجوم کیلئےعملاً کوئی سیکورٹی نہیں تھی اور افغان حکام اس ایونٹ سے لاتعلق رہے۔ اس کے باوجود پاکستانی سفارتخانے نے اعلان کیا کہ ویزوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ افغانیوں کے سفر کو ممکن بنایا جاسکے۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ جب سے افغانستان میں حالات پھر سے خراب ہونے لگے ہیں افغان حکام اور اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوگئی ہے اور اسی رویہ کا نتیجہ ہے کہ جب چند روز قبل تخار میں افغان فضائیہ نے طالبان کے بہانے ایک مسجد پر بمباری کی اور درجنوں افراد اس میں لقمہ اجل بنائے گئے تو نائب صدرامراللہ صالح نے دوسروں کے علاوہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو کھلے عام دھمکیاں دی جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket