Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

محنت اور شہرت کے سیمبل رحیم اللہ یوسفزئی کا انتقال

خیبر پختونخوا کی زرخیز سرزمین پر جنم لینے والے عالمی شہرت یافتہ صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی علالت کے باعث گزشتہ روز 67 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اُن کو اُن کے آبائی قبرستان کاٹلنگ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔  ایک عہد تھا جو تمام ہوا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کی موت نے زندگی کے ہر شعبے اور طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو افسردہ کر کے رکھ دیا۔

سن 1954کو پیدا ہونے والے رحیم اللہ یوسف زئی 50 برس تک شعبہ صحافت سے وابستہ رہے کیونکہ انہوں نے دوران طالب علم ایک پروف ریڈر کی حیثیت سے اس شعبے کے ساتھ وابستگی اختیار کی تھی ۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف ملکی صحافت بلکہ عالمی سطح پر بھی بے پناہ شہرت حاصل کر کے اس صوبے کے صحافیوں کو معتبر بنایا اور ان کی عالمی شناخت بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔  وہ مسلسل جدوجہد ، دیانت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ایک سیمبل تھے۔  انہوں نے جہاں خود بے مثال صحافت کو فروغ دیا وہاں انہوں نے پشاور کے کئی نامور اور ترقی یافتہ صحافیوں کی تربیت اور رہنمائی کا فریضہ بھی احسن طریقے سے نبھایا۔  90 کی دہائی میں انہوں نے افغانستان کو بطور خاص اپنی رپورٹنگ اور تجزیہ کاری کا حصہ بنا کر عالمی سطح پر خود کو منوایا اور ان کو افغانستان اور قبائلی اضلاع کے ایشوز پر اتھارٹی کا مقام حاصل رہا جو کہ ان کی وفات تک ان کا خاصہ رہا۔  اُن کو حکومت پاکستان کے متعدد ایوارڈز کے علاوہ پاکستان میں شعبہ صحافت کا سب سے بڑا اعزاز اے پی این ایس ایوارڈ بھی ملا جبکہ عالمی سطح پر بھی ان کے کام اور خدمات کو سراہا گیا۔

رحیم اللہ یوسفزئی مزاج میں بہت نرم خو،  ہمدرد اور اعتدال پسند شخصیت کے مالک تھے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کے دوستوں ، شاگردوں ، قارئین اور مداحوں کا حلقہ بہت وسیع رہا۔  اپنی اقدار اور روایات سے جڑے رہے اور انہوں نے عالمی شہرت حاصل کرنے کے باوجود غرور کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔  وہ صحافیوں کے حقوق کے بڑے علمبردار رہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ان کی سر انجام دینے والی عملی خدمات کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کو مختلف ادوار میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹوں  اور عہدوں کی پیشکش ہوتی رہیں جب کہ متعدد بار ان کو نگران سیٹ اپس میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں مگر وہ اپنے شعبے سے ہی وابستہ رہے اور اپنی موت تک وہ کام کرتے رہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبرپختونخوا میں درجنوں شہرت یافتہ صحافی تجزیہ کار اور لکھاری موجود ہیں تاہم رحیم اللہ یوسف زئی کا نام اس ملک، صوبے اور خطے کی صحافتی تاریخ میں ہمیشہ بطور ایک مثال یاد رکھا جائے گا

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket