Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں اور قبائلی عوام کا جوش و خروش

طریقہ کار پر صوبائی حکومت کے بعض خدشات اور متبادل تجاویز کے باوجود خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں شروع ہیں اور شیڈول کے مطابق صوبے کے 17اضلاع میں 19 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔  الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ حکام کے مطابق 23 نومبر کو پارٹیوں یا امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے جائیں گے اور یہ کہ ہائی کورٹ کے ایک حالیہ حکم کے مطابق یہ الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ نچلی سطح کے نمائندوں کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں جبکہ تحصیل اور میئرشپ کا انتخاب پارٹیوں کی بنیاد پر ہوں۔ اس ضمن میں ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے اور اپوزیشن کے مشترکہ موقف کے خلاف صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اس ضمن میں پیر کے روز فیصلہ کا اعلان کر سکتی ہے۔

 اپوزیشن کی تین پارٹیاں ان 17اضلاع میں نہ صرف اپنے امیدواروں کو میدان میں اتار کر انتخابی مہم کا آغاز کر چکی ہیں بلکہ اے این پی اور جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے کہ ان کے 200 امیدوار بلامقابلہ کامیاب بھی ہو چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں کافی پرجوش اور متحرک نظر آرہی ہے۔ تحریک انصاف کو بوجوہ اس کے باوجود ابہام کا سامنا ہے کہ پارٹی حکومت کو لیڈ کر رہی ہے اور گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے علاوہ کنٹونمنٹ بورڈ ز کے حالیہ الیکشن کے انعقاد کا کریڈٹ بھی اس پارٹی کو جاتا ہے۔ بعض شہروں اور اضلاع میں حکمران جماعت کو اختلافات کا سامنا ہے تو بعض میں اپوزیشن کے بقول اسے ویننگ امیدوار نہیں مل پا رہے۔ اس کے باوجود وزیر اطلاعات کامران بنگش اور پارٹی عہدے داران کا دعویٰ ہے کہ جب بھی الیکشن ہوں گے پی ٹی آئی متحدہ اپوزیشن کا نہ صرف یہ کہ ڈٹ کر مقابلہ کرے گی بلکہ کلین سویپ بھی کرے گی۔

یاد رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے چند ماہ قبل ہونے والے الیکشن میں تحریک انصاف کو صوبہ پختونخوا میں دوسری تمام پارٹیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں۔ تاہم اسے پشاور میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) صوبے میں دوسرے نمبر پر آئی تھی جبکہ جے یو آئی اور اے این پی کو متوقع کامیابی نہیں ملی تھی۔ اب کی بار اے این پی کی تیاری کافی بہتر لگ رہی ہے۔

خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ ضم شدہ قبائلی علاقوں کے جن تین اضلاع میں 19 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن ہو رہے ہیں وہاں کے امیدوار اور ووٹرز دوسرے شہروں اور اضلاع کے مقابلے میں نہ صرف بہت پرجوش اور فعال نظر آ رہے ہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر سب سے زیادہ امیدوار ان اضلاع سے سامنے آئے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے۔ جو کہ اگر ایک طرف انتہائی خوش آئند بات ہے تو دوسری طرف یہ ان بعض عناصر کے یکطرفہ بیانیے پر کاری ضرب بھی ہے جو کہ برسوں سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ قبائلی عوام تشدد پسند، مزاحمت کار، اینٹی ڈیموکریسی ہیں۔ اس سے قبل جب ان اضلاع میں صوبائی اسمبلی کیلئے تاریخ میں پہلی دفعہ ووٹنگ ہو رہی تھی تو اس کے دوران بھی حیرت انگیز طور پر نہ صرف ووٹر اور امیدواروں کی بڑی تعداد نکل آئی تھی بلکہ یہ ملک کی پارلیمانی تاریخ کے سب سے پرامن انتخابات بھی ثابت ہو ئے تھے۔

اس میں دو آراء ہے ہی نہیں کہ عوام کے عام مسائل کے حل اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کر نے کے علاوہ آئینی طور پر بھی مستقل بنیادوں پر مقررہ وقت کے اندر بلدیاتی اداروں کے انتخابات ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک صفحے پر ہوں اور الیکشن کمیشن اور حکومت اپنی ذمہ داریاں اور فرائض غیر جانبدارانہ طریقے سے سر انجام دیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کو بعض اوقات یا طریقہ کار پر اعتراضات ہیں یا مزید تجاویز کے ذریعے ان انتخابات کو نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے تو اس کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کی بجائے صوبائی اسمبلی یا اس میں موجود مختلف پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کے ساتھ مشاورت کرکے ابہام اور اعتراضات کو دور کرنا چاہیے تاکہ اس عمل کو کامیاب بنایا جا سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket