Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, May 16, 2022

عوام، سیاست، صحافت اور ریاست

سیاست میں سیاسی اختلافات کی بجائے ذاتیات کا جو خطرناک فیکٹر شامل ہو گیا ہے اس نے ریاستی اور صحافتی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جو کہ تشویشناک اور قابل افسوس ہے۔ صحافی سیاستدان جب کہ سیاستدان صحافی بن گئے ہیں ۔عوام کی بات کوئی نہیں کر رہا اور غالبا ًاسی کا نتیجہ ہے کہ عوام نہ صرف حکومت سے نالاں ہیں بلکہ ان کو میڈیا اور اپوزیشن پر بھی اعتماد نہیں رہا جس کا بڑا ثبوت گزشتہ ہفتے پشاور میں پی ڈی ایم کا ناکام جلسہ ہے۔
مسائل اور ایشوز پر بات نہیں ہو رہی اور نہ ہی مسائل کا کوئی حل بتایا جا رہا ہے۔ چند مخصوص طبقوں اور حلقوں کے درمیان جاری محاذ آرائی، بدکلامی اور اسکینڈلز تک تو پہنچ چکی ہے آگے کیا ہو گا اس کا شاید بلیم گیم کے مرکزی کرداروں اور کھلاڑیوں کو بھی اندازہ نہیں۔

ماضی سے چمٹے سیاستدان ہر برائی کا سبب مقتدر قوتوں کو سمجھ رہے ہیں حالانکہ آج جو پارٹی اپوزیشن میں ہے ماضی میں وہ متعدد بار حکمرانی کے مزے لیتی رہی ہیں ۔عمران خان کے اکثر وزراء اور ترجمان اپنی وزارت چلانے کی بجائے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کے روایتی بیانات اور الزامات کے جواب میں ایک دوسرے سے بازی لینے میں مصروف نظر آرہے ہیں تو دوسری طرف بعض ناراض صحافی اور تجزیہ کار عمران خان سے اپنی ناراضگی کا غصہ بعض اہم ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کی مہم پر ہیں۔ ثالث کوئی نہیں رہا سب مدّعی بنے بیٹھے ہیں اور منافرت پھیلانے کا کاروبار پورے عروج پر ہے۔ کوئی بھی اس ملک کی اونر شپ اور اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں حالانکہ آج جو حلقے بوجوہ ایک دوسرے سے مشت و گریبان ہو کر اس ملک کو کٹہرے میں لا کھڑا کر چکے ہیں اس ملک نے ان کو بہت کچھ دیا ہے۔
اشرافیہ کی لڑائیوں میں پاکستان کو بد نام کیا جارہا ہے اور اس قسم کا تاثر دینے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے جیسے خدا نخواستہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہو۔ ذاتیات پر مبنی سیاست نے معاشرے کو آلودہ کر کے رکھ دیا ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے؟
کوئی مذہب کی دوکان لگائے بیٹھا ہے تو کوئی جمہوریت کا چیمپئن بنا ہے۔ بعض نے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی دکان کھول رکھی ہے ۔ فرقہ واریت اور قوم پرستی کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ ہر کوئی اپنا اپنا سودا بیچ رہا ہے مگر اس ملک اور یہاں کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
وقت آگیا ہے کہ بعض لکھیریں کھینچ کر پاکستان کی تقدیر اور اس کے مستقبل سے کھیلنے والے تمام عناصر کا راستہ روکا جائے اور ماضی پرستی کی بجائے مستقبل بینی کا رویہ اپنایا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket