Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

پشاور میں پی ڈی ایم کا فلاپ شو

گزشتہ روز پی ڈی ایم نے پشاور میں ایک جلسے کا اہتمام کیا جس میں دوسروں کے علاوہ اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر مرکزی قائدین شاہد خاقان عباسی، آفتاب خان شیرپاؤ اور اتحادی جماعتوں کے صوبائی قائدین شریک ہوئے۔ طے یہ پایا تھا کہ جلسہ ہوگا جس کے بعد حکومت کے خلاف ریلی نکالی جائے گی۔ تاہم عجیب صورتحال اس وقت پیدا ہوگئی جب قائدین سٹیج پر چڑھ گئے اور سامنے میدان کارکنوں اور عوام سے خالی پڑا دکھائی دیا۔ عام لوگ تو درکنار پارٹیوں کے ضلع پشاور کے عہدیداران نے بھی غالباً س ایونٹ میں حاضری نہیں دکھائی کیونکہ تمام صحافی اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ شرکاء کی تعداد ایک ہزار سے زائد نہیں تھی۔
صوبائی وزیر اطلاعات کامران بنگش نے شرکاء کی تعداد 250 بتائی تو وزیر اعلی نے اپنے بیان میں جلسے کو ناکام ترین قرار دے کر کہا کہ صوبے کے عوام عمران خان کے ساتھ ہیں اور پی ڈی ایم پشاور جیسے شہر میں چند ہزار افراد جمع کرنے میں بھی ناکام رہے۔ صحافیوں کی اکثریت نے بھی جہاں اس جلسے کو فلاپ شو قرار دیا وہاں بہت سوں نے اتنی کم تعداد پر حیرت کا اظہار بھی کیا بلکہ اے این پی کی صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔ ہر سطح پر اس کا مذاق اڑایا جاتا رہا۔
ان کا اشارہ پی ڈی ایم سے اے این پی کے نکل جانے کی طرف تھا کیونکہ ایک سال قبل انہی دنوں جب پی ڈی ایم کا پشاور میں جلسہ ہوا تھا تو اے این پی اس اتحاد میں شامل تھی اور اس جلسے کے شرکاء کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ اس سے قبل اسی علاقے میں جب چند ماہ قبل صرف جے یو آئی (ف)کے زیر اہتمام مفتی محمود کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تو اس میں ہزاروں کارکن شریک ہوئے۔ تاہم اب کی بار مسلم لیگ (ن) اور قومی وطن پارٹی جیسی اہم پارٹیوں سمیت تقریباً ایک درجن سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے یہ اتحاد ایک ایسے وقت میں بھی چند ہزار کارکن نکالنے میں ناکام رہا جبکہ صوبے کے 17اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کی کمپین بھی چل رہی ہے اور پشاور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس ایونٹ کی ناکامی نے پی ڈی ایم کے مستقبل اور کسی بھی مجوزہ حکومت مخالف تحریک کے امکان کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے جبکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اگر عوام حکومت سے خوش نہیں تو وہ اپوزیشن پر بھی اعتماد نہیں کر رہی۔ اس ناکام شو کو اتحادی پارٹیوں کے درمیان اعتماد اور کوآرڈینیشن کے فقدان کا نتیجہ بھی قرار دیا جارہا ہے ۔ وجہ جو بھی ہو یہ طے ہے کہ پختونخواہ میں پی ڈی ایم کی ساکھ کو سخت دھچکا لگا ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket