Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

اسرائیل سے متعلق پاکستان کا واضح موقف

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ ہم فلسطین کے مسئلے اور وہاں ہونے والے مظالم پر بہت واضح موقف رکھتے ہے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کے حالات کا براہ راست ذمہ دار اور فریق ہے ۔فلسطین کے سفیر کے علاوہ بعض دیگر عرب ممالک کے سفیروں اور میڈیا نے عمران خان کے اس موقف پر اُن کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ دوسری طرف متعدد مسلم ممالک نے متحدہ عرب امارات کے حالیہ اسرائیل حامی پالیسی اور اعلان پر سخت تنقید کی ہے ان ممالک میں ترکی اور ایران سرفہرست ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی تقریبا ًتمام سیاسی قوتوں نے بھی یو اے ای اے کے حالیہ اعلان پر سخت ناراضگی کا اظہار کر کے اسے ایک جارح اور قابض ریاست کا نام دیا ہے۔ ان سیاسی پارٹیوں میں مذہبی پارٹیوں کے علاوہ پیپلز پارٹی اور اے این پی جیسی لبرل قوتیں بھی شامل ہے۔ پاکستان کے عوام اور میڈیا نے بھی اسرائیل سے متعلق حکومتی مؤقف کو سراہا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل کے وجود اور رویے کے بارے میں پہلے دن سے پاکستان کا موقف بہت واضح اور دو ٹوک ہے۔ ایک وجہ یا دلیل تو یہ ہے کہ عوامی اور سیاسی سطح پر یہ سوچ بہت گہری اور پرانی ہے کہ باہر سے ایک مسلم ریاست پاکستان میں ہر دور میں فلسطین پر اسرائیل کے قبضے اور مظالم کو کبھی بھی دونوں ممالک کا اندرونی مسئلہ قرار نہیں دیا کیونکہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل اس علاقے میں موجود ہے اور اس خطے کے ساتھ پاکستان یا مسلمانوں کا عقیدے اور وابستگی کا رشتہ قائم ہے۔
دوسری وجہ پاکستان کی مخالفت کی یہ رہی ہے اور اب بھی ہے کہ ریاست پاکستان اسرائیل کو پاکستان کا نہ صرف مخالف اور دشمن سمجھتا ہے بلکہ ان شواہد اور ثبوتوں کی فہرست بھی کافی لمبی ہے جن سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیل ریاست پاکستان کے خلاف متعدد مہمات کا حصہ رہا ہے اور اس ضمن میں اس ملک نے پاکستان کے روایتی دشمن بھارت کے ساتھ بھی اتحاد کر رکھا ہے حالانکہ اسرائیل کے خلاف فلسطین یا اور لبنانیوں کے حق میں پاکستان کا کردار اخلاقی اور سیاسی حمایت تک محدود رہا ہے اور پاکستان ان کی حمایت یا اسرائیل کی مخالفت میں ایران یا بعض دوسرے ممالک کی طرح کبھی بھی عملی مدد کا حامی نہیں رہا۔
اس واضح فرق کے باوجود اسرائیل عملی طور پر متعدد بار پاکستان کے خلاف سازشوں میں براہ راست یا بلاواسطہ ملوث رہا اور ان سازشوں کے بعض ثبوت بھی موجود ہیں۔ سال 1947 میں پاکستان جبکہ 1948 کو اسرائیل وجود میں آیا۔ برٹش لائبریری لندن کے ریکارڈ کے مطابق دنیا بھر میں موجود یہودی اسرائیل کو اس کے قیام کے دوران پاکستان کے مخالف کے طور پر متعارف کروا تی تھی اور ان کی دلیل یہ تھی کہ مذہب کے نام پر بننے والے پاکستان کا مستقبل میں راستہ روکنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ مشرقی وسطیٰ میں طاقت کا توازن (بقول ان کے) برقرار رکھنے کے لئے بھی مذہب ہی کی بنیاد پر اسرائیل کے نام سے یہودی ریاست کا قیام مغربی مفادات کا تحفظ بھی کرے گی۔ یہی وجہ تھی کہ اسرائیل کے قیام میں امریکہ کے علاوہ سوویت یونین، جر منی ، برطانیہ اور بعض دوسرے یورپی ممالک نے بھی نہ صرف حصہ ڈالا بلکہ یہ ممالک اب بھی کھلے عام اسرائیل کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ عرب اسرائیل جنگ جب 70 کی دہائی میں چھڑی اور بعض عرب ممالک نے مصر کو اسرائیل کے سامنے اکیلا چھوڑ دیا تو اسرائیل کا کردار اور جارحانہ رویہ صرف محدود یا مخصوص علاقہ تک نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی سیاست اور جوڑ توڑ میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور جنوبی ایشیا میں اس نے بھارت کو قریبی اتحادی اور دوست بنایا یہ دونوں ممالک محض پاکستان کی مخالفت میں اتحادی بنے ورنہ اسرائیل کا بھارت کے ساتھ اتنی قربت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
جنرل (ر) پرویز مشرف اور اس کے بعد عمران خان کی موجودہ حکومت کے دوران بعض مخالف سیاسی پارٹیوں کا الزام رہا کہ پاکستان کے یہ حکمران اسرائیل کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور روایتی پرانی پالیسی پر نظر ثانی کی جارہی ہے تاہم موجودہ حکومت نے ہر فورم پر اس الزام کی تردید کی اور اب عمران خان، ان کی حکومت کے واضح موقف کو عوام کی خواہشات کا مظہر سمجھا جا رہا ہے۔ سیاست اور ممالک کے خارجہ تعلقات میں کوئی بھی پالیسی یا بات صرف آفر نہیں ہوتی تاہم پاکستان کے پاس اسرائیل کے کردار کے تناظر میں اس کی مخالفت کاٹھو س جوازموجود ہے اس لیے اس معاملے پر رائے زنی یا شکوک پھیلانے کے رویے سے گریز کرنا چاہیے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket