Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی

دنیا کے متعدد دیگر ممالک کی طرح ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے لاک ڈاؤن کا فارمولا اپنایا گیا ہے اگرچہ پاکستان کی طرح وہاں بھی بہت سے لوگ لاک ڈاؤن پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تاہم سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز میں سرگرمیاں عملاً نہ ہونے کے برابر ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ دوسروں کے علاوہ ہزاروں پاکستانی باشندے بھی اس صورتحال سے متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس وقت جن ممالک میں پاکستانیوں کو مشکلات اور لاک ڈاؤن کے اثرات کا شدت کے ساتھ سامنا ہے ان میں سعودی عرب، یو اے ای اور افغانستان سرفہرست ہیں۔

ان تین ممالک میں جو لوگ متاثر ہوگئے ہیں ان میں سے اکثریت کا تعلق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں سے ہے کیونکہ انہی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار اور ملازمتوں کی تلاش میں جاتے رہتے ہیں ۔ افغانستان میں ان کی تعداد 80 فیصد بتائی جا رہی ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں جو افغان رہائش پذیر ہیں یا کاروبار وغیرہ کرتے ہیں ان میں سے بھی اکثریت کا تعلق افغانستان کے پشتون علاقوں سے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کےلگ بھگ ہے جن میں سے 20 فیصد عالمی اور مقامی اداروں کے ساتھ ملازمت کر رہے ہیں جبکہ باقی 80 فیصد روزگار خصوصاً تجارت اور پاک افغان ٹریڈ سے وابستہ ہے۔ اکثریت کابل ، ننگرھار اور قندہار میں پائی جاتی ہے جبکہ سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد بھی کابل میں موجود ہیں۔

کرونا بحران نے دوسرے ممالک کی طرح افغانستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور کیسز اور اموات کی تعداد اپریل کے مہینے میں کافی بڑھتی دکھائی دی۔ افغان حکومت نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے کابل میں کئی روز تک کرفیو سمیت اہم شہروں میں تمام سرگرمیاں معطل کرکے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جس کے بعد وہاں موجود پاکستانیوں کی مشکلات میں حسب توقع بہت ہی ضافہ ہوا اور انہوں نے اپنے علاقوں میں آنے کی کوششیں شروع کیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ رفتہ کے دوران طورخم بارڈر کے ذریعے تقریبا 1500 پاکستانی واپس آنے میں کامیاب ہوئے تاہم اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ واپسی کے منتظر ہیں. جو 1500 پاکستانی طورخم کے راستے واپس آئے ان کے لئے لنڈی کوتل اور جمرود میں قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں ۔سرکاری حکام کے مطابق 1500 افراد میں سے اب تک تقریباً 80 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید کے ٹیسٹ رپورٹ آنا باقی ہیں تب تک باقی افراد کو ان دو مراکز میں رکھا گیا ہے جبکہ درجنوں کے ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے کے بعد اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تقریباً 10 ہزار پاکستانی افغانستان سے آنے کے منتظر ہیں اور ان میں سے سینکڑوں ایسے ہیں جو کہ لاک ڈاؤن اور دیگر مشکلات کے باعث کابل ، جلال آباد، قندھار یا دوسرےشہروں میں واپس نہیں جاسکتے ، اکثر کے پاس خرچہ اور راشن بھی ختم ہو چکا ہے۔ ان کو اس لیے آنے نہیں دیا جارہا کہ طورخم اور دیگر کراسنگ روٹس پر سہولیات کم ہیں اور قرنطینہ سنٹرز میں اتنی تعداد میں آنے والے افراد کو فی الحال بیک وقت نہیں رکھا جا سکتا تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے رابطے پر بتایا کہ حکومت کو اپنے شہریوں کے مسائل اور اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے اور مزید افراد کی واپسی کیلئے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت واپس آنے والوں کو سکریننگ کے مرحلے سے گزارے بغیر اپنے علاقوں اور گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر اقدامات کیے جائیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت تمام ممالک سے واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے مرحلہ وار اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری طرف وزیرستان سے ملحقہ افغان صوبے پکتیکا میں موجود اُن پاکستانیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے جو کہ حکومت پاکستان کی مرضی اور اجازت کے بغیر وزیرستان آپریشن سے قبل افغانستان منتقل ہوگئے تھے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لازمی ہے کہ حکومت فوری طور پر نہ صرف افغانستان میں پھنسے ہوئے شہریوں کی واپسی کے اقدامات اور انتظامات کو تیز اور بہتر بنائیں بلکہ متعلقہ سفارتی عملے کو ہدایت جاری کرے کہ وہ متاثرہ اور ضرورت مند افراد کی سرپرستی، رہنمائی اور مالی معاونت کرے کیونکہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں افغانستان کے مسائل اور صورتحال مختلف ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو چمن، غلام خان اور دیگر بارڈر زپر بھی واپسی کے انتظامات کئے جائیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket