Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

اعلیٰ سطح پاکستانی وفد کا دورہ کابل

پاکستان کے اعلٰی سطح وفد نے گزشتہ روز افغانستان کا دورہ کیا جہاں وفد کے ارکان نے دوسروں کے علاوہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے ساتھ بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔  وفد کی قیادت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کر رہے تھے جبکہ اس کے دیگر اہم شرکاء میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید ،سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان بھی شامل تھے۔ عرصہ دراز کے بعد اس سطح کے اہم ترین وفدکا افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا ۔ دورے کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے متعلقہ حکام پر مشتمل ٹیموں کے درمیان مختلف امور پر  اجلاس منعقد ہوا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان بعض غلط فہمیوں اور شکوے شکایات پربات ہوئی تاہم اس بات پر دو طرفہ اتفاق کا اظہار کیا گیا کہ خطے کے امن اور استحکام کو ممکن بنانے کے لیے ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے گا جبکہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے آغاز،  امریکی انخلاء اور سرحد پار دہشتگردی سے متعلق مسائل کے حل کے بارے میں مختلف تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے اس اہم نکتے پر دو طرفہ امور پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک علاقائی امن کے لیے ایک دوسرے کی سرزمین ایک دوسرے کےخلاف استعمال نہیں کریں گے۔  اگرچہ اب کے بار بھی بعض حلقوں نے حسب سابق اس اہم دورے پر منفی تبصرے کیے تاہم افغان صدارتی دفتر سے جاری کردہ بیان میں اس دور کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس عمل کو خطے کے امن اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کیلئے اہم قرار دیا گیا اور پاکستان کے کردار کے تناظر میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اس دورے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔  دوسری طرف امریکہ نے بھی اس دورے کو بڑی پیش رفت قرار دیکر امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعاون کے مزید راستے کھلیں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت پر کیا گیاجب زلمےخلیل زاد اپنی ٹیم کے ہمراہ قطر ،پاکستان اور افغانستان کے اہم دورے پر تھے اس ملاقات کے اگلے روز زلمے خلیل زاد نے بھی کابل میں اشرف غنی اور دیگر افغان حکام سے ملاقاتیں کیں۔

اس ضمن میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکا اور عالمی برادری افغان امن کے لیے نہ صرف پاکستان پر انحصار کر رہی ہے بلکہ سب پاکستان کے حالیہ کردار کی تعریف اور مسلسل ستائش بھی کر رہے ہیں   تاہم افغانستان کے اندر حکومت میں شامل بعض حلقے اور سابق عہدیداران علاقائی پر اکسیز کا حصہ بن کر پاکستان کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے بلکہ سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ افغان امن پاکستان کے تعاون کے بغیر مشکل ہے تاہم یہ حقیقت دوسروں کے علاوہ اب اعلیٰ افغان قیادت کو بھی معلوم ہے کہ یہ گروہ  امن اور بعض متوقع تبدیلیوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اس لیے وہ غلط فہمی پھیلانے میں مصروف عمل ہے اور اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔  جنگ اور پراکسیز اب افغان سیاست اور معاشرت پر اتنی چھا گئی ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو بہت اہم لوگوں اور گروہوں کا رزق خطرے میں پڑ جاتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ یہ عناصر دوحہ مذاکراتی عمل سے لے کر انٹرا افغان ڈائیلاگ اور طالبان کی متوقع شراکت داری کے عمل کی نہ صرف مخالفت کرتے آرہے ہیں بلکہ وہ اب بھی پاکستان کو زیادہ تر مسائل کا سبب قرار دے کر روایتی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ ماضی کے برعکس افغان حکمران اب پاکستان کو ہر مسئلے اور اپنی ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیتے اور کافی عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہوگئے ہیں۔ تاہم اس اہم مرحلے پر اب ان کی قیادت کو ان عناصر پر کڑی نظر رکھنی ہوگی جو کہ اس تمام مثبت عمل کو سبوتاژ اور ناکام بنانے کے ایجنڈے پرگامزن ہے۔  اگر اب کے بار بھی عالمی اور علاقائی امن کوششیں ناکام ہوگئیں تو اس سے افغانستان 90 کی دہائی کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا اور شیشوں کے گھروں اور دفاتر میں بیٹھے امن دشمن عناصر افغانستان کی بدامنی اور تباہی پر تالیاں بجاتے نظر آئیں گے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket