Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, September 27, 2022

ولی خان کی کتاب , پاکستان کا پرچم اور ایمل ولی خان

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے خیبر نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں بالکل واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ ، اِن کے کارکن اور پارٹی پاکستان کے بارے میں کسی ابہام کا شکار نہیں ہیں اوراُنہیں اُن کو ان لوگوں کی ذہنیت اور اعتراضات پر حیرت ہے جنھوں نے اِن سمیت بعض دوسرے لیڈروں کی ٹویٹر پروفائل پر پاکستانی جھنڈا لگانے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دو الگ ممالک ہیں، ہم نہ صرف یہ کہ پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں بلکہ اس کے اہم عہدوں اور وزارتوں پر فائز رہے ہیں اور اس ملک کے اندر رہتے ہوئے آئین کے مطابق صوبائی خودمختاری کے حصول کی پرامن سیاسی جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ “لروبر “کا مطلب ان کی نظر میں یہ ہے کہ افغان ہمارے بھائی ہیں تاہم بعض حلقے اس نعرے کو اگر کسی اورمقصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے ہمارا نہیں ۔
چند روز قبل جب ان سمیت بعض دوسرے لیڈروں نے ٹویٹر پروفائل پر پاکستانی پرچم کی تصویر لگائی تو اے این پی کے بعض کارکنوں سمیت ان حلقوں نے اس پر حیرت کے علاوہ شدید اعتراضات کیے جن کا خیال ہے کہ اے این پی کوئی ریاست مخالف پارٹی ہے یا ان کی نظرمیں اے این پی کے نعرے لر او بر کا مقصد یا مطلب یہ ہے کہ یہ پارٹی پشتونوں کو افغانستان کے ساتھ ملانے کی کوئی خواہش یا پالیسیوں رکھتی ہے ۔ یہ غیر ضروری بحث کئی روز تک جاری رہی مگر اس مسئلہ کا ایمل ولی خان نے حالیہ انٹرویو میں جو تفصیلی اور واضح جوابات دئے اس کے بعد اس مسئلہ پر مزید بحث نہیں کرنی چاہیے تھی۔ تاہم انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے پھر سے مخالفانہ تبصرے شروع کئے اور یہ سلسلہ تادم تحریر جاری ہے حالانکہ انہوں نے کوئی انہونی بات نہیں کی ہے۔
ایمل ولی خان نے مذکورہ انٹرویو میں جو موقف اپنایا ہے سچی اور تاریخی بات تو یہ ہے کہ اے این پی کا ہمیشہ سے یہی نقطہ نظررہا ہے۔ یہی وہ موقف تھا جس پر 70 کی دہائی میں بلوچ سربراہان سے خان عبدالولی خان نے اپنا راستہ الگ کیا اور نیشنل عوامی پارٹی ٹوٹ گئی۔ ولی خان نے نہ صرف پاکستان مخالف کوششوں سے ماضی میں کئی بار معذرت اور لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ وہ پشتونستان کے نام و نہاد تحریک کے بھی عملاً بڑے مخالف رہے ۔ان کی مشہور کتاب “باچا خان اور خدائی خدمت گاری “میں ایک افغان حکومتی عہدیدار دوران فرہادی کے ساتھ ان کی تفصیلی گفتگو کا وہ حصہ موجود ہے جس میں ولی خان افغان حکمرانوں کے رویے پر باقاعدہ چارج شیٹ کرتے بہت مدلل انداز میں لراوبر اور پشتونستان کے مسائل پر اپنا موقف بیان کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ تاثر بہت سے حلقوں میں اب بھی موجود ہیں کہ این پی ریاست مخالف قوت رہی ہے یا یہ بھارت اور افغانستان کی بہت قریب رہی ہے تاہم اس پس منظر پر شاید ہی کسی نے غور یا بحث کی ہو کہ ماضی کے بعض پاکستانی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور منفی رویوں نے اے این پی سمیت بعض دیگر پارٹیوں کو بھی مزاحمت اور مخالفت پر مجبور کیا مگر جب بھی ریاست نے ان لیڈروں اور پارٹیوں کو گلے لگایا انہوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا جس کی سب سے بڑی مثال اُن لیڈروں کا 1973 کے آئین کی تشکیل میں وہ تاریخی کردار ہے جس نے ایک نئی وفاقی ڈھانچے اور ملک کی بنیاد رکھی۔ جو حلقے اےاین پی کو حب الوطنی کے طعنے دے رہے ہیں ان کو بھی یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ پارٹی پانچ بار پاکستان کے دو صوبوں یعنی پختونخوا اور بلوچستان میں برسراقتدار رہی ہے بلکہ 2008 کے بعد سندھ میں بھی یہ شریک اقتدار رہی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ بات اے این پی کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کے پشتون نہ تو بلوچوں کی طرح علیحدگی پسند ہیں اور نہ ہی ایسے کسی ایسے نعرے یا سیاست کو عوامی سطح پر کوئی پذیرائی ملی ہے ۔اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے سیاسی انتظامی اور دفاعی ڈھانچے میں پشتونوں کی وہ نمائندگی یا حصہ ہیں جو کہ بلوچوں یا سندھیوں کے مقابلے میں نہ صرف بہت زیادہ ہیں بلکہ سیاسی نعروں کے برعکس ان کی بالادستی کا نقشہ بھی پیش کرتی ہے۔
اس کے برعکس افغانستان میں پشتون واضح اکثریت میں ہیں مگر ہر دور میں افغان ریاستی اداروں میں ان کی نمائندگی آبادی کے مقابلے میں کم رہی ہے۔
حالیہ انٹرویو میں پیش کیا گیا ایمل ولی کا موقف پوری اے این پی کا موقف ہے اس لئے اس کے بعد بعض نادیدہ خواہشوں کے علاوہ غلط فہمیوں کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket