Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

پختونخواہ کی پارلیمانی تاریخ کو خطرہ لاحق؟

 ایک عام تاثر یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ پولیٹیکل میچورٹی کے لحاظ سے ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں تاہم سب سے بڑی وجہ یہاں کے عوام کی اکثریت کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی کی روایت اور عادت ہےیہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں ملک کی ہر پارٹی کو نہ صرف نمائندگی ملتی رہی ہے بلکہ اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک کی 70 فیصد پارٹیوں کی ٹاپ لیڈرشپ یا سربراہ کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے۔

گزشتہ کچھ برسوں سے صوبے کی سیاست اور معاشرت میں تلخی اور کشیدگی کا عنصر تیزی سے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اس روئیے نے جہاں اس صوبے کی متعدد مثالی روایات کو نقصان پہنچایا ہے وہاں اس کی شدت میں اضافے کا رجحان بھی کافی تشویشناک امر ہے۔اے این پی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی مسلسل محاذ آرائی ،غیر ضروری بیانات اور بعض اوقات نازیبا الفاظ کے استعمال سے اس بری روایت کا آغاز ہوا تاہم اول الذکر پارٹی نے اس دوران دوسری پارٹیوں کو بھی نہیں بخشا اور متعدد بار اس کے کارکن جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی پر بھی چڑھ دوڑے دوسری طرف اس پارٹی نے افغانستان کے مسئلہ کو ذاتی خواہشات اور پھر انا کا مسئلہ بنا کر لمبے عرصے تک تلخی اور کشیدگی کو بڑھاوا دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس روئیے نےصوبے کی معاشرت کو پراگندہ کر دیاہے۔

چند روز قبل پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان، وزرا ءکے درمیان بعض بھرتیوں کے معاملے پرتصادم، بدکلامی اور لڑائی کا جو منظر دیکھنے کو ملا اس پر نہ صرف یہ کہ افسوس کیا جانا چاہئے بلکہ اس سے اس تاثر کو بھی تقویت ملی کہ ہمارے لیڈرز اور ارکان اسمبلی جہاں اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں وہیں وہ ایسے رویوں سے اپنے کارکنوں، ووٹرز اور عوام کو یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ ان میں اخلاقیات اور برداشت کی بھی شدید کمی ہے۔اے این پی کے ایم پی اے نثار مہمند اور معاون خصوصی کامران بنگش نے جس طریقےسے ایک دوسرے کو مخاطب کیا اور لڑائی مارکٹائی پر اتر آئے اس نے اس ایوان کے تقدس کے علاوہ اس کی اہمیت پر بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے ۔صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی ایک قبائلی رکن اسمبلی کے بارے میں ذاتیات پر مبنی جو ریمارکس دیے وہ بھی قابل افسوس ہیں کیونکہ پارلیمانی نظام میں حکومتی بینچوں پر نہ صرف زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ وہ معاملہ سلجھانے کی کوشش کے بھی پابند ہوتے ہیں ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس صورت حال نے اس ایوان کی ماضی کی شاندار تاریخ کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور یہ رویہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے اس لیے اس پر نظر ثانی کی جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket