Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

پختونخوا کی روایات، چارسدہ کے واقعات اور حکومتی ذمہ داریاں

اس تاریخی بدقسمتی اور حالات کی ستم ظریفی سے قطع نظر کہ خیبر پختونخوا تقریباً دو دہائیوں تک شدت پسندی اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اب حالات ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔ ایک تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ فرقہ واریت کے معاملے میں یہ خطہ بہت اعتدال پسند رہا ہے اور دہشت گردی کے بدترین دور میں بھی حملہ آور تنظیموں نے دوسرے مذاہب اور مخالف مسالک کے لوگوں ، عبادت گاہوں کو بہت کم تعداد میں نشانہ بنایا۔
اس صوبے کی خوش قسمتی یہ رہی کہ یہاں کے عوام سندھ اور پنجاب کے برعکس سنی اور حنفی ہیں اس لئے یہاں کا فرقہ وارانہ ماحول ہر دور میں کافی بہتر رہا ہے اور بریلوی دیوبندی کشیدگی بھی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت کم رہی ہیں۔
حال ہی میں جب صوبے کے سیاسی گڑھ چارسدہ کے علاقے مندنی میں سینکڑوں مقامی افراد نے ایک محبوط الحواس شخص کے ہاتھوں ایک مسجد میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد جس پر تشدد رویے کا مظاہرہ کرکے بعض پولیس سٹیشنوں اور چوکیوں کو نذر آتش کیا، گاڑیاں اور املاک جلا ڈالیں تو اس پر نہ صرف یہ کہ سخت عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا بلکہ اس واقعے پر اس حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا کہ یہ صوبے کی ثقافت اور روایات کا حصہ نہیں ہے۔

چارسدہ سیاسی قائدین، تعلیم یافتہ لوگوں اور بیوروکریٹس کے علاوہ ادبی اور ثقافتی تحریکوں کا بھی مرکز رہا ہے تاہم حالیہ واقعہ نے اس تاریخی علاقے کے دامن کو داغدار کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی اس علاقے میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور باچاخان یونیورسٹی کو جہاں حملے کا نشانہ بنایا گیا وہاں بعض فی میل سٹوڈنٹس کو ہراساں کیا گیا۔اسی طرح ڈسٹرکٹ کورٹس میں دو تین بار متعدد افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
حالیہ واقعہ کے بعد پولیس نے تقریباً 45 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں بعض پر دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئ ہیں۔ تاہم اصل ضرورت اور تشویش اس بات کی ہے کہ یہ واقعہ پیش کیوں آیا اور اس کے پس پردہ کردار اور محرکات کون اور کیا ہیں؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بھی لازمی ہے کہ چارسدہ کو انتظامی مسائل اور انتظامیہ کی نااہلی، غیر ذمہ داری کی صورتحال کا سامنا کیوں ہے؟محض روایتی رسمی کارروائیوں سے بات نہیں بنے گی۔ حکومت کو منتخب نمائندوں سے باز برس جبکہ علماء اور سیاسی مشران سے مشاورت اور تعاون کا راستہ اپنانا ہوگا اور ساتھ میں واقعے کی روک تھام میں ناکامی پر متعلقہ افسران کا محاسبہ بھی کرنا ہوگا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket