Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

آرمی چیف اور افغان صدر کے درمیان اہم تبادلہ خیال

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو ٹیلی فون کر کے ان کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور مذاکراتی عمل کی اب تک کی پیش رفت پر نہ صرف اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا بلکہ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ ایسا کرنے کے نتیجے میں پورے خطے کو خوشحال بنایا جاسکے ۔افغان صدارتی محل (ارگ) سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تفصیلی ٹیلی فونک رابطے کے دوران ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ پاکستان کے آرمی چیف نے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ دوحہ مذاکرات کے معاہدے کے بعد انٹرا افغان ڈائیلاگ کا مرحلہ بھی احسن طریقے سے طے ہو جائے گا اور یہ کہ اس ضمن میں پاکستان ایک پڑوسی اور برادر ملک کی حیثیت سے حسب معمول مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گا۔ آرمی چیف نے اشرف غنی کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور ان کو ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق اس رابطے کے دوران مذاکراتی عمل کے علاوہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس عزم کا دوطرفہ اظہار کیا گیا کہ خطے کے امن اور استحکام کے علاوہ علاقائی ترقی کے لئے مشترکہ کام کیا جائے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اور آرمی چیف نے کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر افغان صدر نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے علاوہ ان سینکڑوں افغان باشندوں کو سہولت دینے اور سفر کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا جو کہ کاروبار یا دیگر سرگرمیوں کے سلسلے میں پاکستان آئے تھے اور سرحدوں کی بندش کے باعث پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ آرمی چیف نے اس ضمن میں افغان صدر کو بتایا کہ حکومت نے افغان مہاجرین کی ریلیف کے لئے خصوصی پیکیج اور دیگر اقدامات کے اعلانات اور فیصلہ کر رکھے ہیں اور یہ کہ طورخم اور چمن کی سرحدیں بھی ان افغان بھائیوں اور تاجروں کے لیے کھول دی جائیں گی جو کہ اپنے ملک واپس جانا چاہ رہے ہیں ۔ دونوں شخصیات نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کی مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بزنس اور آمدورفت کو تیز اور آسان بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر بعض دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں افغان بھائیوں کے لئے صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
دیکھا جائے تو اس اعلٰی سطح رابطہ اور تفصیلی تبادلہ خیال کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے جاری مذاکراتی عمل اور انٹر افغان ڈائیلاگ کے سلسلے میں بھی مدد ملے گی۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں گزشتہ دو تین برسوں کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے اور الزامات کے روایتی رویہ میں غیرمعمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ مسئلے کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے کردار کو نہ صرف افغان قیادت بلکہ امریکی قیادت اور بعض دیگر متعلقہ ممالک کے علاوہ عالمی میڈیا نے بھی کئی بار سراہا۔ جہاں تک کرونا سے پیدا شدہ صورت حال کا تعلق ہے پاکستان نے 4 اپریل کو ایک اعلامیہ جاری کیا ، اس میں اعلان کیا گیا کہ طورخم اور چمن کے بارڈرز6 سے 9 اپریل تک تین دنوں کے لئے کھول دئیے جائیں گے تاکہ افغان بھائی واپس جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ افغانستان میں اشیاءخوردونوش کی کمی کی صورت میں بھی خوراک کی مواد کی فراہمی کے سلسلے میں اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے لیے 200 ملین روپے کےخصوصی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے تاکہ کرونا بحران سے متاثرہ افراد کی بحالی اور امداد کو ممکن بنایا جاسکے۔ اس کے علاوہ افغان حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری اور ممکنہ تعاون کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس وقت افغانستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اتوار کے دن تک افغانستان میں کروناسے 9 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ افغان حکومت نے پاکستان سے واپس جانے والوں کے لیے طورخم بارڈر کے دوسری جانب ایک بڑا قرنطینہ مرکز بھی بنایا ہے جہاں ان کی سکریننگ کی جائے گی۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket