Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

یہ بات بہت حوصلہ افزا ءاور خوش آئند ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی کوئی کمی نہیں ہے جو کہ اپنے فرائض نہ صرف ایمانداری سے نبھاتے ہیں بلکہ معاشرے کی تشکیل اور بہتری کے لیے غیر معمولی خدمات بھی سرانجام دے رہے ہیں حالیہ کرونا بحران کے دوران بھی متعدد ادارے، افراد اور گروہ ایسے سامنے آئے جنہوں نے عوام کی بہتری کیلئے اپنے فرائض سرانجام دینے کے علاوہ اپنی ہمت، جذبہِ خدمت اور کچھ خاص کرنے کی نئی مثالیں قائم کیں اور معاشرے کے حساس اور ذمہ دار لوگوں نے ان کے کام کو سراہا ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ان میں بعض باہمت خواتین بھی شامل ہے۔
پشاور کی اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سارا رحمن نے کرونا بحران کے دوران مرد افسران کے برعکس اپنے فرائض کی بجاآوری میں نہ صرف یہ کہ دن رات ایک کئے اور ٹیم سے اپنی قیادت میں بہتر کام لیا بلکہ انہوں نے لاک ڈاؤن کو ممکن بنانے کے لیے بہترین حکمت عملی بھی ترتیب دی اور بعض بااثر افراد اور تاجروں کے دباؤ اور اثر رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قدم قدم پر جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کرکے عملا ًیہ ثابت کر دکھایا کہ خواتین بحرانی کیفیت میں بھی نتائج کی پرواہ کیے بغیر غیرمعمولی نتائج دے سکتی ہیں۔ انہوں نے اس تمام عرصہ کے دوران جہاں ایک طرف متعلقہ سرکاری اداروں کی زبردست نگرانی کو ممکن بنایا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بازاروں میں خود نکل کر عوام اور تاجروں کو نہ صرف سمجھاتی رہی بلکہ جہاں کہیں کسی نے ان کو دباؤ میں ڈالا، انہوں نے پرواہ کئے بغیر ان کا قبلہ بھی درست کیا۔ اس سے قبل وہ ناجائز تجاوزات کے خاتمے میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتی پائی گئی اور قانون شکن افراد کے لیے خوف کی علامت بنی رہی۔ اس بحران کے دوران مختلف اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دینے والی عورت قرت العین وزیر المعروف مس وزیر بھی بہت متحرک اور فعال رہی۔ وزیرستان سے تعلق رکھنے والی اس بہادر خاتون نے اس سے قبل جہاں پشاور میں تجاوزات کے خاتمے اور پورے ملک کی سطح پر اضافی چارج کے ذریعے ریلوے سے تجاوزات ختم کرنے کے مشکل کام میں بڑا نام کمایا۔ وہاں انہوں نے حالیہ کرونا بحران کے دوران سارا رحمن کی طرح نوشہرہ جیسے اہم شہر میں لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لئے میدان میں خود نکل کر فرائض سرانجام دیے۔ وہ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سڑکوں پر خود نکل کر گاڑیوں اور بازاروں کی چیکنگ کرتی رہی اور بہترین نتائج دیتی رہی۔
اس تمام بحران اور فرائض کی کامیاب بجاآوری میں تخت بھائی (مردان) کی اسسٹنٹ کمشنر انیلہ فہیم بھی بہت نمایاں رہی، جنہوں نے سارا رحمان اور مِس وزیر کی طرح خواتین اور جاگیرداروں کے بیچ رہ کر میدان میں اپنی ٹیم کی قیادت کی بلکہ تمام تر دباؤ کے باوجود بذات خود ان لوگوں کے ساتھ انتہائی سختی کے ساتھ پیش آتی رہی جو کہ حکومتی ہدایات اور احکامات کو نظر انداز کرکے من مانی کر رہے تھے۔ انہوں نے کئی دکانوں اور شاپنگ مالز کو خود سیل کیا اور جو سرکاری اہلکار غفلت کے مرتکب پائے گئے ان کا محاسبہ بھی ممکن بنایا ۔ ان تین خواتین نے اس عرصے کے دوران لاتعداد قانون شکن افراد کے خلاف دباؤ اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر سخت کارروائیاں کیں اور مرد افسران کے لئے مثال قائم کی۔ ان کی طرح بعض دیگر شعبوں کے مختلف افراد میں بھی ذاتی حیثیت سے عوامی خدمت کا بٹیرہ اٹھایا اور لوگوں کی رہنمائی کرتے رہے۔ مثال کے طور پر کرکٹر شاہد خان آفریدی ایک مہینے سے اپنی ٹیم کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے دورے پر ہیں جہاں وہ ضرورت مند افراد کی مدد کر رہے ہیں اور ان کی ترجیح اُن علاقوں یا شہریوں پر ہے جن کو سرپرستی کی اشد ضرورت ہے۔ دبئی کی ایک پیٹرولیم کمپنی نے جہاں خیبرپختونخوا کے نادار اور معاشی طور پر کمزور فنکاروں اور ہنرمندوں کے لیے نقد امداد کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں فوڈ پیکجز کا اہتمام کیا اور عام ضرورت مندوں کو اپنی ٹیم کے ذریعے امداد پہنچائی، وہاں اس کی مینجمنٹ نے یہ ہدایت بھی کی کہ امداد دیتے وقت امداد لینے والوں کی کوئی تصویر کشی نہ کی جائے تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ اس گروپ نے افغانستان میں بھی یہی طریقہ اپنایا ۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی تو مثال ہی نہیں ملتی اس سلسلے میں نئی نسل کے پڑھے لکھے نوجوان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مثال کے طور پر سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں ایک درجن کے قریب نوجوان اور تعلیم یافتہ اساتذہ نے دی ہاؤس آف وِزڈم کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا جہاں وہ روزانہ کی بنیاد پر اکٹھے ہوکر دس سے زائد مضامین انٹرنیٹ کے متعلقہ فورمزسے ہزاروں اُن سٹوڈنٹس کو آن لائن اور ریکارڈ شدہ شکل میں پڑھا رہے ہیں جو کہ تعلیمی اداروں کی غیر معینہ بندش کے باعث پڑھائی اور کلاسز کی سہولت سے محروم ہیں۔ یہ نوجوان لڑکے کسی سرکاری یا سیاسی سرپرستی کے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف انٹرنیٹ کی دستیاب سہولتوں کا بہترین استعمال کرکے ہزاروں اسٹوڈنٹس کو پڑھا رہے ہیں بلکہ کرونا وائرس سے بچنے کی آگاہی مہم بھی چلا رہے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہاللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو بہترین صلاحیتوں اور خزانوں سے نوازا ہے ضرورت محض اس بات کی ہے کہ ایسے افراد کی عزت افزائی اور سرپرستی کی جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket