اللہ تعالی نے تمام قبائلی اضلاع اور بالخصوص جنوبی وزیرستان کو بے شمار جنت نظیر نظاروں اور کئی قدیمی اور تاریخی ورثا سے نوازہ ہے ۔ممحود غزنوی کے لشکر سے لے کر جنگ آذادی تک ایسے بے شمار تاریخی واقعات یہاں رونما ہوئے ہیں کہ جن کی نشانیاں آج تک کسی نہ کسی صورت میں محفوظ کئے ہیں۔ جس کی ایک چھوٹی سی مثال وادی کانیگرم ہے جو یہاں کی سب سے قدیم تاریخی وادی ہے اور یہاں بے شمار بزگان دین اور تاریخی شخصیات کے مقبریں موجود ہے ۔ان بزرگان دین کے بے شمار کرامات آج بھی کانیگرم کے باسی بیان کرتے رہتے ہیں ۔وادی کانیگرم قدیم تاریخی وادی ہونے کے ساتھ ساتھ انکی قدرتی خوبصورتی قابل دید ہے ۔پہاڑوں کے درمیان واقع اس وادی میں موسم سرما کے دنوں میں پہاڑوں کا سبزہ اس وادی کی خوبصورتی میں ایسا چار چاند لگا دیتا ہے کہ جو بھی اسے دیکھتا ہے وہ اس کا تعریف کیے بغیر نہیں رہے سکتا ۔ پہاڑوں کے دامن میں بہتی آبشاری انسان کو دلی سکون مہیا کرنے کے ساتھ گزرے دنوں کے محبتوں کی یاد کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کا ایک ایسا حسین موقع فراہم کر تا ہے کہ جس کے باعث دیکھنے والا انسان اللہ کی قدرت کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
کانیگرم کے علاوہ اللہ تعالی نے جنوبی وزیرستان کے دیگر کئی علاقوں کو بے شمار قدرتی خوبصورتی سے نوازہ ہے جس کا مثال شاید دنیا میں کہی اور نہیں ملتی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے یہاں سیاحت کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔
پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا نے یہاں کے دہشت گردانا واقعات کو شہ سرخی اور بریکنگ نیوز میں شامل کرکے پیش توکئے لیکن وہی کیمریں یہاں کی خوبصورتی کو اپنے آنکھ میں محفوظ کرنے سے قاصر رہے شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے جنوبی وزیرستان کی قدرتی خوبصورتی کو یہاں کے عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے اپنی پالیسی میں شامل ہی نہیں کیا ۔
اگر حکومت جنوبی وزیرستان میں سیاحت کے شعبے پر توجہ دیں تو سیاحت کو فروغ دینے کے باعث یہاں کے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے جنوبی وزیرستان کو پریغال جیسے 3ہزار فٹ سے ذیادہ بلندو بالا پہاڑ سے نوازہ ہے ۔پریغال پہاڑ کی بلندی اپنی جگہ لیکن یہاں پر موجود قدرتی گھنے جنگلات اور براق بابا کا مزار اور انکے کرامات کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے آج بھی بے شمار لوگ یہ ہزاروں فٹ اونچائی کا سفر پیدل طے کرتے ہیں پریغال پہاڑ اور اس کے ساتھ نچلی سطح پر پہاڑی سلسلے کے درمیان اگر چیر لفٹ لگائی جائے تو یہ نہ صرف پر لطف چیر لفٹ ہوگی بلکہ اس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر پریغال کے اونچائی پر موجود سٹیڈیم نما ہموار گراونڈ میں پکنک پوائنٹس بنائے جائے تو دور دور سے سیاح یہاں کا رخ کرینگے۔
پریغال کے قریب واقع وادی بدر بھی قدرتی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے ۔اسی طرح مرغا چینہ جہاں آج بھی عید اور قومی دنوں کے موقع پر سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث بھی سیاحت کے شوقین افراد کا جم غفیر لگا رہتا ہے اور دور دراز شہروں سے لوگوں سیاحت کے عرض سے آتے ہیں ۔ وادی شکئی بھی قدرت کے خوبصورت نظاروں سے مالا مال ہے اسی طرح وادی شوال کو تو اللہ تعالی نے قدرت کے ایسے حسین نظاروں سے نوازہ ہے کہ جہاں جانے کے بعد اللہ تعالی کی تخلیقات کی تجلیاں واضح نمایا ہے جہاں بیک وقت آپ قدرت کے کئی نظاروں سے مستفید ہوسکتے ہیں چلغوزیوں کے اونچے اونچے درخت اور اونچے پہاڑوں کا سلسلہ ایک الگ نظارہ پیش کرتا ہے۔پہاڑوں کا سبزہ اور انکے درمیان بہنے والی خاموش آبشاریں دیکھ کر انسان انگشت بدنداں ہوجاتا ہیں ۔ اس وادی کے سیر کے لیے آج بھی دور دراز سے لوگ یہاں آتے ہیں لیکن یہاں رہائش سمیت دیگر سہولیات کی عدم موحودگی کے باعث بے شمار لوگ یہاں ذیادہ وقت گزارے بغیر واپسی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اسکے علاوہ جنوبی وزیرستان خمرانگ سے آگے چلغوزی کے پہاڑی سلسلے سمیت کئی ایسے بے شمار مقامات موجود ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے بےشمارقابل دید قدرتی نظاروں سے نوازہ ہے لیکن اگر کمی ہے تو صرف سیاحت کے حوالے سے منظم پالیسی کی ہے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق آج سے تین سال پہلے صرف عید الفطر کے دنوں میں انتظامیہ پانچ ہزار سے زائید راہداریاں دے چکی تھی جس پر دیگر شہروں کے رہائشیی سیاحت کے عرض سے وزیرستان گئے تھے اور پچھلے کئی سالوں میں امن امان کی بہتر صورتحال کے باعث اس تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہوا ۔عید کے دنوں کے علاوہ آج بھی برف بھاری سے لطف اندوز ہونے کے لیے بے شمار دیگر شہروں کے لوگ موسم سرما میں وزیرستان کا رخ کرتے ہیں۔
اس سال عید الفطر کے لیے یہاں کے مقامی نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر وزیرستان سیاحت کا ایک ٹرینڈ چلایا جس کے لیے انھوں نے وزیرستان جانے کے خواہشمند افراد کے لیے باقاعدہ طور پرمخصوص گروپ بنائے ۔ اس ٹرینڈ کے باعث وزیرستان کی خوبصورتی کو سوشل میڈیا کے زریعے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
ملک کے چاروں صوبے میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ اس عید پر مقامی نوجوانوں کی مدد سے وزیرستان کی خوبصورتی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے دلوں اور کمیرے کی آنکھ میں محفوظ کر گئے اور سب سے اہم بات کہ نہ تو کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا اور نہ سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث باہر سے آنے والے افراد کوئی ناراضگی دل میں لیے واپس گئے بلکہ جس نے جتنا وقت بھی گزارہ وہ یہاں کے عوام کی مہمان نوازی، چیک پوسٹوں پر آرمی جوانوں کی خوش اخلاقی اور وزیرستان کی خوبصورتی کی تعریف کرتا نظر آیا جو کہ دنیا کے لیے وزیرستانی عوام کا ایک بہترین پیغام تھا ۔ اس پیغام نے کئی لوگوں کے پیٹھ میں مروڑ پیدا کی کیونکہ اسکی وجہ سے ان کا سفید جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈہ دھرےکا دھرہ رہ گیا۔
وزیرستان میں امن امان کے قیام کے ساتھ ساتھ پاک آرمی نے یہاں پر تاریخی ترقیاتی کام کیے جو شاید پچھلے پچاس سالوں کے دوران بھی نہیں ہوئے لیکن تاحال سیاحت کے حوالے سے یہاں پر کوئی خاطر خواہ منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ آرمی کی جانب سے ہر گاؤں کی سطح پر بنائے جانے والے پارکس جو کہ یہاں کے لوگوں کو ایک نئی سوچ دینے کے لیے ایک مثبت قدم ہے لیکن اگر ان پارکوں پر خرچ کئے جانے والے فنڈ پکنک پوائنٹس اور سیاحت کے حوالے سے دیگر منصوبوں پر خرچ کیے جاتے تو شاید انکے ثمرات بھی دیر پہ ہوتے اور اسکے باعث یہاں کے عوام کی ذندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ۔حکومت کی جانب سے اے آئی پی اور اے ڈی پی میں سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے مختص کردہ فنڈ جس میں گیسٹ ہاوس سمیت دیگر کئی منصوبے شامل ہے اگر اسکو اقربا پروری اور سیاسی اثر رسوخ کے بغیر شفاف اندازسیاحت کے حوالے سے موضوع مقامات پراستعمال کیا جائے تو اس سے سیاحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے ۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے یہاں کے مقامی نوجوان جس انداز میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں اگر انکی سروں کے اوپر حکومت اور خصوصی طور پر پاک آرمی دست شفت رکھے اور انکی حوصلہ افزائی کریں تو اسکے باعث نہ صرف سیاحت کو فروغ مل سکتی ہے بلکہ یہاں کے نوجوان کی انرجی بھی مثبت انداز میں استعمال ہوکر ملک وقوم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ۔
آج بھی جنوبی وزیرستان کے ایسے بے شمار سرمایہ کار موجود ہے کہ وہ وزیرستان میں سیاحت کے حوالے سے سرمایہ کاری کے خواہشمند ہے لیکن وہ صرف حکومتی توجہ کے منتظر ہے اگر حکومت ان سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور انکے لیے ایک منظم حکمت عملی بنائے تو وہی سرمایہ کار وزیرستان کو سیاحت کا مرکز بنا سکتے ہیں اسکے ساتھ ساتھ اگر میڈیا وزیرستان میں سیاحت کے شعبے کو پروموٹ کرنے کے لیے مثبت کر دار ادا کریں تو اسکے باعث جنوبی وزیرستان کے عوام میں وہ احساس محرومی ختم ہوجائے گی کہ میڈیا صرف ہمارا داغدار چہرہ دیکھتا ہے کیونکہ میڈیا کے توجہ کے باعث نہ صرف سیاحت کے شوقین افراد کا رخ وزیرستان کی جانب مڑ سکتا ہے بالکہ سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور بین الاقوامی سطح پر سیاحت کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنیاں بھی وزیرستان کا رخ کرینگے جو وزیرستان کی آباد کاری کے لیے اور یہاں کے عوام کو مقامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

About the author

Hayat Ullah

Leave a Comment