تحریر: محمد عاصم علی جان

حیران رہ جاتا ہوں جب آج کل چیئرمین ماوٴ، لینن، سٹالن وغیرہ جیسے جمہوریت مخالف لوگوں کے نظریاتی اور سیاسی وارثوں اپنے مقامی قوم پرستوں کو جمہوریت پہ لیکچر دیتے دیکھتا ہوں بیچارے افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی کی ڈولتی جمہوری کشتی میں سوار ہیں، دامے درمے سخنے اس پہلے سے ٹوٹی ہوئی کشتی کو بچانے کی نہ صرف اپنی سی ناکام کوشش کر رہے ہیں بلکہ افغان قبائلی معاشرے کے بنیادی رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور مذہبی اقدار سے بے پروا ہو کر اس مسلط کردہ نظام حکومت کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آ تے ہیں۔  یہ سیاسی یتیم دنیا کی وہ واحد مخلوق ہے جو ابھی تک ایک متروک سیاسی فلسفے کو اس امید پہ سینے سے لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید پھر سے بہار آ جائے، کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کے نظریاتی اکابر کے ہاں تو لفظ جمہوریت ہی کفر تھا وہ تو جدید دور کے ایسے سفاک آمر ہو گزرے ہیں کہ چنگیز و ہلاکو کی ارواح بھی پناہ مانگے لیکن حالات کا جبر دیکھیئے کہ اپنے ڈرائینگ رومز کو کارل مارکس اور چی گویرا کی تصاویر سے سجانے والے، اُن کے افکار اور سیاسی فلسفے کا دم بھرنے والے ہمارے یہ قوم پرست پاکستان جیسے ممالک میں جمہوریت میں ہی اپنی پناہ اس لئے ڈھونڈتے ہیں کہ ایک مذہبی معاشرے میں یہ لوگ اپنے افکار اور سیاسی سوچ  کا کھل کر اظہار نہیں کر سکتے سو سادہ لوح عوام کو جھوٹی سچی باتیں بتا کر اُن کا اعتماد حاصل کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں، ابھی تک یہ طبقہ کم از کم خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اسی طرح کی لسانی تقسیم کو ہوا دے کر ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہوتا رہا لیکن جیسے جیسے عوام باشعور ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے یہ جماعتیں بھی سکڑتی جا رہی ہیں۔

میرا خیال تو یہی تھا کہ پاکستان کی سکڑتی ہوئی قوم پرست جماعتوں نے ماضی سے سیکھ لیا ہو گا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے اگر افغانستان کے حالات سے اپنے آپ کو الگ کر کے عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے پہ توجہ دیتے تو شاید آنے والے الیکشن میں کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے اور دھاندلی کا شور نہ مچاتے لیکن گزشتہ انتخابات میں اپنے آبائی علاقوں سے بوریا بستر گول ہونے کے باوجود بھی میں نہ مانوں والی اپنی ضد پہ اڑے ہیں، پتہ نہیں کہ افغانستان کی اندرونی سیاست میں ایسا کیا ہے جو ان لوگوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا یا شاید ہم جو ہندوستان کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا یہاں بھی وہی معاملہ کارفرما ہے کہ پاکستان میں رہنے، سیاست کرنے اور پوری مراعات لینے کے باوجود بھی یہ لوگ ابھی تک دل سے پاکستانی نہیں ہوئے لیکن پاکستان کی سالمیت پہ وار کرنے کے جو تیر ان کے ترکش میں تھے ماضی میں وہ سب آزمائے جا چکے سب سازشیں، سب تدبیریں، سب تمنائیں، سب امیدیں، وقتاً فوقتاً ناکامی سے دوچار ہوتی رہیں حتی کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والے یہ قوم پرست عناصر وقت کے ساتھ ساتھ خود اتنے کمزور ہوتے گئے کہ اب ان کو پارلیمان میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے جیسے کہ فرمایا گیا ہے کہ ہر گروہ اور قوم کے لئے وقت مقرر ہے پاکستان کے وہ علاقے جہاں پہ کبھی ان قوم پرستوں کا طوطی بولتا تھا اب اُن کے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ پاکستان میں قوم پرست جماعتیں اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہیں اور صوبوں میں مذہبی اور وفاقی بنیادوں پہ سیاست کرنے والی جماعتیں تیزی سے اُن کی جگہ لے رہی ہیں۔

جدید دنیا میں جہاں کثیر النسلی اور ملٹی کلچرل سوسائٹیز کا تصور فروغ پا رہا ہے وہاں لسانی بنیاد پہ سیاست کرنے والی قوتیں اب معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں گو کہ یہ اپنی تئیں ایک نظریاتی سیاست کے امین ہیں (جس سے میرا اور آپ کا متفق ہونا ہرگز ضروری نہیں) لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کا نظریہ اور سیاست اتنی فرسودہ ہو چکی ہے کہ یہ نئی نسل کو اپنے طرف متوجہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں اس پہ ستم بالائے ستم یہ کہ ان کو اس نقصان کا ادراک بھی نہیں، ریت تیزی سے ان کی مٹھی سے پھسلتی جا رہی ہے لیکن یہ لوگ پاکستان کی بجائے افغانستان میں اپنے (نظریاتی سرمایے) کو بچانے کی فکر میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔

ہم نے تو دیکھا تھا کہ اپنے وقت میں سوویت یونین کے کمیونسٹ نظریات سے متاثر اقوام اور ممالک اس حد تک دھن کے پکے تھے کہ جہاں پہ وہ برسراقتدار نہیں بھی تھے تب بھی سوویت قیادت میں صرف نظریے کی وجہ سے ہمیشہ ایک پیج پہ نظر آتے، ان سب کے دوست اور دشمن مشترک ہوتے لیکن پاکستان میں جہاں خالص چیزوں کا ملنا مشکل ہے وہاں اشتراکی نظریات سے متاثر ان لوگوں کی نظریاتی بنیاد بھی اتنی ہی ناخالص اور کھوکھلی ہے کہ ایک طرف افغانستان میں جن طالبان کی حکومت میں آنے کی یہ لوگ مخالفت کر رہے ہیں انہی طالبان کے اساتذہ کے ساتھ یہ لوگ پاکستان میں اتحاد بنائے بیٹھے ہیں، پاکستان میں سیاست کرتے ہیں، مراعات لیتے ہیں لیکن جب بات پاکستان اور افغانستان کی آتی ہے تو مجال ہے کہ ان لوگوں نے کبھی پاکستان کے لئے کلمہ خیر کہا ہو بلکہ الٹا ان کی نظر میں افغانستان کے سارے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہ لوگ اپنی سیاست سے یا تو مایوس یا اس حد تک بے پروا ہو چکے ہیں کہ نئے دور کے سیاسی میدان میں ناکامی اور اپنی سکڑتی ہوئی پونجی بچانے کے لئے ان کی طرف سے ماضی قریب میں کوئی ایک ایسی مخلصانہ کوشش بھی کم از کم میری نظر سے نہیں گزری جس سے لگے کہ قوم پرستوں نے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوئی سنجیدہ سعی کی ہو ایسی کوئی تگ و دو نہ کرنا شاید ایک طرح سے ان عناصر کی طرف سے اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ موجودہ پاکستان میں ہم اپنی اسی طرز سیاست کے ساتھ مزید سروائیو نہیں کر سکتے لیکن متبادل کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب یہ قوتیں ابھی تک دینے سے قاصر ہیں، بدقسمتی سے ان لوگوں کی سیاست اس حد تک بانجھ ہے کہ اپنی تمام تر (نظریاتی سیاست) میں یہ لوگ رہنمائی کے لئے نہ صرف سوویت یونین کو دیکھتے بلکہ سوویت عینک سے دنیا کو بھی دیکھتے رہے ہیں اب صرف تبدیلی اتنی سی ہوئی ہے کہ ماسکو کے بجائے واشنگٹن کو اپنا قبلہ بنا بیٹھے ہیں ان لوگوں کی مثال برگد کے اُس گھنے درخت کے نیچے اُگے ہوئے اُن چھوٹے چھوٹے پودوں کی سی ہے جن کی برگد کی وجہ سے نشونما نہیں ہو پاتی اور وہ بونے رہ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام تر نظریاتی سیاست کے شور و غوغا کے باوجود ان سب قوم پرستوں میں ایسی کوئی ایک بھی شخصیت نہیں ہے جو ان لوگوں کو ایسی کوئی  نئی سیاسی سوچ، نیا فلسفہ، یا نیا نظریہ دے سکے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو ان کے مقابلے میں جو وفاقی یا مذہبی سیاسی جماعتیں ہیں وہ سب کے سب اپنے نظریات رکھتے ہیں کوئی دائیں طرف تو کوئی ہلکے سے بائیں طرف کوئی مذہبی تو کوئی معتدل مزاج رکھنے والی سینٹر کی جماعتیں ہیں جن سے ہم اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن نہ تو ان میں کوئی نظریاتی انتشار ہے نہ ہی پاکستان کے حوالے سے ان کی کوئی دوسری رائے ہے اور نہ ہی وہ افغانستان کو پاکستان پر مقدم رکھتے ہیں۔

بہتر تو یہ ہوتا کہ ان سو سو سال کی تاریخ رکھنی والی جماعتوں کی آواز قومی سطح پہ اتنی توانا اور موثر ہوتی کہ افغانستان کی محبت میں کم از کم افغانستان کے حوالے سے کوئی پالیسی مرتب کرتے وقت ان لوگوں کے جذبات کا خیال رکھا جاتا لیکن کیا کرے جو لوگ اپنے گھر میں ہی اپنی وقعت کھو دیں تو باہر کے لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں ۔ پھر بھی منافقت کی انتہا دیکھئیے کہ افغانستان کے معاملے میں بھی یہ لوگ نظریاتی تعصب کا شکار نظر آتے ہیں اگر ان کے دوست افغان سیکولر عناصر سوویت یونین یا امریکہ کی مدد سے برسراقتدار آتے ہیں تو ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن اگر کابل میں مذہبی افغان عناصر کی حکومت بنتی ہے تو ان لوگوں کی آنکھوں میں نہ صرف وہ حکومت کھٹکتی ہے بلکہ یہ اُس کا زمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ اب اگر حالات کا ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے سیکولر عناصرکی پاکستان سے دشمنی اور ہندوستان سے دوستی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں جبکہ پاکستان میں بھی یہی وہ سیکولر طبقہ ہے جو ہندوستان کے بارے بالکل افغان سیکولرز ہی کی طرح کے خیالات رکھتا ہیں گزشتہ بیس سالوں میں ان ہی لوگوں کی وجہ سے افغانستان میں پاکستان کے سرحدوں کے قریب انڈیا کے قونصل خانے پاکستان خاص کر بلوچستان میں حالات خراب کرنے کے لئے کھولے گئے تھے تو ان میں سے کسی نے بھی اس پر صدائے احتجاج بلند نہیں کی کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے بلکہ ان ہی علاقوں سے پاکستان میں حملے ہوتے رہے ہمارے لوگ شہید ہوتے رہے لیکن انسانی حقوق کے یہ چمپیئن خاموش رہے اب اگر ایک ایسے دشمن افغانستان کی جگہ جہاں سے پاکستان کو مسلسل مسائل کا سامنا ہو ایک پاکستان دوست حکومت بنتی ہے اور پاکستان اس کی حمایت نہ کرے تو پاکستان سے بڑا بیوقوف شاید ہی کوئی اور ملک ہو یہ موقع جب روس کو ملا اور کابل میں اپنی پسند کی حکومت بنائی تو پاکستان میں یہی قوم پرست پاکستانی سرحدوں پہ روس کے استقبال کے دن گننے لگے تھے یہی موقع جب امریکہ کو ملا تو یہی لوگ کابل جا جا کر امریکی کٹھ پتلی حامد کرزئی کی مہمانداری سے لطف اندوز ہوتے رہے اور تو اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی ڈھنکے کے چوٹ پہ حمایت بھی کرتے رہے۔ افغان حکومت اگر کلین شیوڈ ہوں تو ان کو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر داڑھی اور پگڑی والے افغان آ جائیں تو پھر نہ وہ افغان ہیں نہ ہی انسان۔

ہماری قوم پرست جماعتیں سو سال گزرنے کے باوجود بھی اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پائیں کہ پشتون معاشرے کی اکثریت انتہائی مذہب پرست ہے سو سال تک سیکولرازم کا چورن بیچنے کے باوجود بھی وہ ان قدامت پرست مذہبی لوگوں کو اپنے پسند کے قالب میں ڈھالنے میں ناکام رہے ہیں جہاں تک عملی جدوجہد اور اپنے مقصد کے لئے قربانی دینے کی بات ہے تو اُس میدان میں بھی پشتون مذہبی لوگ ان نام نہاد سیکولر لوگوں سے کہیں آگے ہیں وہ یہ بات سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ثابت کر چکے ہیں اور حال ہی میں امریکہ اور نیٹو کے خلاف بھی قربانیوں کی لازوال داستان رقم کرکے اُن کو پسپائی پہ مجبور کر چکے ہیں ان حالات میں اگر پاکستانی قوم پرست افغانستان کے معاملات میں مداخلت کر کے ایسے پرعزم مذہبی نظریاتی لوگوں کی مخالفت کریں گے یا اُن کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کریں گے تو شاید پاکستان کے یہ قوم پرست سیاستدان پھر قلعہ بند ہو کے صرف سوشل میڈیا پہ ہی اپنے فالورز سے جی بہلانے تک محدود ہو جائیں۔

About the author

Muhammad Asim Ali

1 Comment

Leave a Comment