کچھ عرصے پہلے پی ٹی ایم نے وانا میں جلسہ کرکے کورونا ایس او پی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے شمار افراد کی زندگی داو پر لگائی ۔لیکن اس اقدام سے بھی پی ٹی ایم قیادت کا کلیجہ ٹھنڈہ نہیں ہوا ہے کیونکہ پی ٹی ایم شروع سے ہی لاشوں کی سیاست کرتی چلی آرہی ہیں اور بہت وقت گزرا  انکو سیاست کرنے کے لیے لاش نہیں ملی تو وانا جلسے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ اب پی ٹی ایم کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں  لاشوں کی ضرورت پڑےگئی ۔پی ٹی ایم کے ایم این اے محسن داوڑنے وانا جلسے میں  حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ ایف سی اور فوج کو فوری طور پر وزیرستان سے نکالا جائے اور وزیرستان کی سیکیورٹی پولیس کے حوالے کی جائے۔وانا جلسے کے بعد یہ مطالبہ وقتا فوقتا سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر ہونے والے پروگرامات میں پی ٹی ایم اور انکے ہم خیال لوگوں کی طرف سے دہرایا جا رہا ہے ۔

محسن داوڑ کے اس مطالبے سے صاف ظاہر ہے کہ وہ وزیرستان کو ایک نئی جنگ میں دھکیل کر لاشوں کی سیاست کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتا ہے ۔کیونکہ ایسے پولیس کو وزیرستان کے امن کی ذمہ داری حوالے کرنے کا مطالبہ کرنا جو ابھی تبدیلی اور زمہ داریاں سنبھالنے کے عمل سے گزر رہی ہے اور جس کو  عدالتی احکامات کے باوجود یہاں ایک صحافی کے گھر کو قومی لشکر سے مسمار کرنے سے روکنے   میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا وہ پورے وزیرستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری کیسی لے سکتی ہے ۔حالیہ دنوں میں وزیر اور دوتانی قوم کے درمیان جاری کرکنڑہ تنازعہ میں چھوٹے اور بڑے اسلحہ کے آذانہ استعمال اور اس مسئلے کو حل کرنے میں تاخیر جیسے واقعات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

 فی الحال پولیس کی تربیت جاری ہے اور  بیشتر اوقات امن و امان کے لیئے آرمی اور ایف سی سے فوری طور پر مدد طلب کی  جاتی ہے جیسا کہ کرکنڑہ تنازعہ میں ہوا ۔کرکنڑہ تنازعہ میں ڈپٹی کمشنر کے ڈی پی اور کو سیکیورٹی کنٹرول کرنے کے لیے کئی خطوط ارسال کئے جس پر ڈی پی او صاحب کا کہنا تھا کہ غیر تربیت یافتہ پولیس فورس کی وجہ سے تا حال ہم اس قابل نہیں ہے کہ ہم حالات کو کنٹرول کر سکیں اس کے لیے ہم نے ایف سی اور آرمی سے مدد طلب کی ہے

ایسے  میں پولیس کو وزیرستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری حوالے کرنا وزیرستان کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلنا نہیں ہے تو کیا ہے ؟۔گزشتہ کئی دنوں سے مختلف حلقوں میں یہ باتیں زیر گردش ہیں کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وزیرستان کے امن کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے گی اگر یہ بات درست ہے تو یہ وزیرستان کے عوام کے ساتھ بہت نا انصافی ہوگی یہ فیصلہ ان قبائلی خاندانوں اور فوجی خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کردار ادا کرے گا جھنوں نے امن کے قیام کے لیے  قربانیاں دیں کسی نے بیٹے کی قربانی دی کسی نے بھائی کی قربانی دی،کسی نے شوہر کی قربانی دی  جبکہ کسی نے باپ جیسے عظیم رشتے کو جنوبی  وزیرستان کے امن کے خاطر قربان کیا۔

اگر وزیرستان کا امن غیر تربیت یافتہ پولیس کے حوالیا کیا گیا یا انکے لیے تربیت یافتہ پولیس بھی تعینات کی گئی تو اسکے نتائج بہت ہی خطرناک ہونگے ۔ اسی لیے حکومت کو چائیے ہیں کہ ایک ایسا ٹولہ جس کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے وقتا فوقتا لاشوں کی ضرورت پڑتی ہے ایسے ٹولے کے مطالبات کو تسلیم کرنا انکی سیاست کے لیے راہ ہموار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔حکومت کو وزیرستان کے سیکیورٹی معاملات کو پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے  کراچی میں رینجرز کی طرز پر وزیرستان میں بھی ایف سی اور آرمی کو اختیارات دینے کی ضرورت ہے تب جاکر وزیرستان میں امن کا قیام اور مقامی سطح پر قبائلوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے ۔

About the author

Hayat Ullah

Leave a Comment