تحریر: محمد عاصم علی

مجھے اچھی طرح یاد ہے ابھی سابق امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سنھبالے کچھ ہی ہفتے ہوئے تھے کہ  افواج کے سربراہوں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے موصوف نہایت متکبرانہ اور رعونت آمیز لہجے میں کہہ رہے تھے “امریکی افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں مجھ سے پہلے جو لوگ وائٹ ہاؤس میں مقیم تھے وہ افغان جنگ کے بارے میں یکسو نہیں تھے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا طالبان دہشتگرد ہیں اور اُن سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی یا وہ یا تو سرنڈر کریں یا امریکی غیض و غضب کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں”۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی تاریخ میں ایک غیر روایتی صدر رہے ہیں بہت سے لوگ اُن کے اہم فیصلے اور بیانات ٹویٹر کے ذریعے جاری کرنے کی وجہ سے اُن کو امریکہ کا ٹویٹر صدر بھی کہتے رہے بہرحال شروع کے دنوں میں افغانستان کے بارے میں اُن کے عزائم سے یہی لگ رہا تھا کہ طالبان کے ساتھ جنگ میں مزید شدت آئیگی اور شاید اُن کا یہ دور افغان جنگ کا فیصلہ کن دور ثابت ہو لیکن Mother of all Bombs جیسے ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود بھی جب مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے تو اُن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ جس مہم کو وہ محض فوجی طاقت سے سر کرنا چاہتے تھے وہ ناممکن ہے امریکی جنرلز پہ برستے ہوئے اُن کو کہنا پڑا کہ “جب روس، انڈیا اور پاکستان وہاں پہ ہیں تو ہم جو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے ہیں ہم وہاں کیا کر رہے ہیں امریکی جنرلز کو میں نے اربوں ڈالرز دئیے لیکن اس کا نتیجہ صفر نکلا” دوسرے الفاظ میں یہ طالبان کے خلاف نہ صرف اس مہم میں امریکی شکست کا باضابطہ اعتراف تھا بلکہ افغانستان پہ مسلط کی گئی کٹھ پتلی حکومت کو بھی آئینہ دکھایا گیا تھا۔

جہاں تک موجودہ امریکی انخلا کا تعلق ہے بہتر ہوتا کہ اس سے پہلے وہ افغان مسئلے کا کوئی قابل قبول تصفیہ کر جاتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا ہے جس کے بعد افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی انتخابات میں ہار پہ جہاں بہت سے لوگوں نے سکون کا سانس لیا وہاں یہ افغان طالبان کے لئے زیادہ اچھی خبر ثابت نہیں ہوئی کیونکہ اپنے پیش روؤں کے برعکس صدر ٹرمپ دنیا میں مستحکم حکومتیں دیکھنا چاہتے تھے اپنے انتخابی مہم میں وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کو لیبیا، عراق اور شام جیسے ممالک میں سیکولر حکومتیں گرا کے وہاں بنیاد پرستوں کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیتے تھے لیکن افغان طالبان کے اثر و رسوخ اور عزم کو دیکھتے ہوئے وہ اس خیال کے حامی ہو چکے تھے۔

اگر افغانستان میں کوئی ایک گروپ مستحکم حکومت قائم کر سکتی ہے تو وہ طالبان ہی ہیں لہذا ان کو سہولتیں دیکر ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اگر مناسب ضمانتیں لیکر کوئی مستحکم حکومت قائم ہو جاتی ہے تو سب کے فائدے میں ہو گی اسی لئے ان سے مزاکرات شروع کئے گئے اور کابل حکومت کے احتجاج اور خواہش کے باوجود اُن کو ان مزاکرات سے دور رکھا گیا جو واقفان حال ہیں ان کے مطابق طالبان کی حالیہ پیش قدمی پہ امریکی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ پس پردہ مزاکرات میں جو ڈیل ہوئی ہے اس کے مطابق امریکی انخلا کے بعد طالبان کے کابل اور پھر پورے افغانستان پہ قبضے کو زیادہ ایشو نہیں بنایا جائے گا لیکن اس معاملے میں طالبان سے جو ضمانتیں لی گئی ہیں شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ طالبان کا رویہ ماضی کے برعکس اپنے مفتوحہ علاقوں میں عوام اور سرنڈر کرنے والی افغان افواج کے ساتھ  نہایت دوستانہ ہے ایسا کر کے طالبان نہ صرف اس معاہدے کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ دکھا رہے ہیں بلکہ با الفاظ دگر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی پابندی کی جائے تو افغانستان میں القاعدہ اور دیگر تنظیموں کے حوالے سے کئے گئے معاہدوں پہ بھی عالمی برادری کے اطمینان کے مطابق من و عن عمل کیا جائے گا۔ یہ تحریک طالبان کی سوچ اور اپروچ میں ایک مثبت تبدیلی کا اشارہ اور بین الاقوامی برادری کے لئے بھی اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی خواہش کا اظہار ہے۔

امریکی انخلا کے فیصلے کے بعد اشرف غنی کی حکومت ابھی تک سکتے کی عالم میں ہے طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور اپنی افواج کی ناکامی پہ بوکھلاہٹ کے شکار افغان صدر نے ملک کے وزیر دفاع اور فوجی سربراہ کو بھی تبدیل کر دیا ہے اپنے حالیہ امریکی دورے میں موصوف نے مختلف سینیٹرز، اعلی فوجی حکام اور امریکی صدر سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اشرف غنی صاحب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ “وہ امریکہ سے محض فوجی شراکت داری نہیں بلکہ باہمی مفادات کے نئے باب میں داخل ہو رہے ہیں” پتہ نہیں اب فوجی شراکت داری اور باہمی مفادات کی یہ معصومانہ سی خواہش کرتے وقت جناب صدر کے پیش نظر عجلت میں کیا گیا امریکی انخلا کا فیصلہ کیوں نہیں تھا، کیا اُن کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ امریکہ اب اس جنگ سے اکتا چکا ہے یا صدر صاحب اور اُن کی حکومت ابھی تک افغانستان کے حوالے سے خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئی؟

بہتر تو یہ ہوتا کہ جب امریکیوں نے طالبان سے مزاکرات کے دوران اُن کی حکومت کو درخور اعتناء نہیں سمجھا تو وہ باعزت طریقے سے مستعفی ہو جاتے شاید اس طرح تاریخ میں یاد رکھے جاتے کہ اصولوں پہ سمجھوتہ نہیں کیا لیکن شاید قدرت کو جناب صدر صاحب کے بارے میں کچھ اور ہی منظور ہو ویسے تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی کے افغان صدور کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوا اللہ نہ کرے کہ اشرف غنی صاحب بھی ویسی کسی صورتحال سے دوچار ہوں بہرحال امریکی صدر جوبائیڈن نے نہایت Polite طریقے افغان صدر کی اس خواہش کو رد کر کے معاشی اور فوجی مدد کا (وعدہ) کر کے افغان قیادت کو اپنے مسائل خود حل کرنے پر زور دیا۔

افغان حکومت شاید فوجی مدد والے رسمی وعدے پر ہی خوش ہو لیکن ابھی کچھ دن پہلے سینٹکام کے کمانڈر جنرل میکنزی نے ایک انٹرویو میں پوری بات الم نشرح کر دی تھی کہ امریکی فوج انخلا کے بعد افغان فوج کی کوئی مدد نہیں کرے گی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کاغذی معاہدے کے علاوہ کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جن کی ایک دوسرے کو یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔ امریکی حکومت شاید کابل انتظامیہ کی نکمے پن سے اس حد تنگ آ چکی ہے کہ اپنے اعلان کردہ گیارہ ستمبر کے انخلا کی تاریخ سے بھی پہلے افغانستان سے نکل جائے اور جنرل میکنزی کی افغان فوج کی مدد نہ کرنے کی بات شاید طالبان کے لئے اشارہ ہے کہ ہمارے جانے کے بعد کابل حکومت کے ساتھ جو چاہو کرو۔
امریکہ اور مغربی ممالک کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ اپنا نظام جمہوریت اور نظام حکومت دنیا کے دوسرے قدرے کمزور ممالک پہ بزور مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ مغربی طرز جمہوریت مغرب میں تو کامیاب ہو سکتی ہے لیکن دنیا کے دیگر خطوں میں ایسا بالکل بھی نہیں کیونکہ ہر قوم اور ملک کے لوگوں کا اپنا مزاج، معاشرہ، رہن سہن، طور طریقے، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور سب سے بڑھ کر مذہب اور پھر مذہب سے وابستگی ایسے عوامل ہیں کہ جن کو  نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اب افغانستان کے قدامت پرست اور قبائلی معاشرے میں جمہوریت پہ لکچر دینا بھلا تو لگے گا لیکن جب تک اس ںظام کے لئے رائے عامہ ہموار نہیں کی جاتی تب تک یہ خواب رہے گا، گزشتہ بیس سال میں کی گئی امریکی کوشش کے نتیجے میں ایک چھوٹا سا ایسا جمہوریت پسند گروپ تو وجود میں آ چکا ہے لیکن اس کی جمہوریت پسندی اس حد تک کھوکھلی ہے کہ اس کا تلخ تجربہ گزشتہ بیس سال سے افغان عوام بھگت رہی ہے۔

ایک ایسا ملک جو چار دہائیوں سے جنگ کا شکار ہو جہاں پہ لاقانونیت کا راج ہو جہاں گھر گھر خطرناک آتشیں اسلحے کے ڈھیر لگے ہوں، علاقے مختلف وار لارڈز میں تقسیم ہوں معذرت کے ساتھ لیکن ایسے معاشرے اور قوم کو پہلے ایک قانون اور ضابطے کے تحت لانا ہو گا جو جمہوری رویوں سے ممکن نہیں اس حوالے سے موجودہ نظام حکومت کی بیس سالہ کاکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو مایوسی کے علاوہ اس میں کچھ نہیں ملے گا بلکہ ان لوگوں کی موجودگی میں افغان معاشرے میں لاقانونیت اور افراتفری میں اضافہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغان عوام کے سامنے اس جمہوریت کے جو فضائل بیان کئے گئے تھے اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔  افغان مسئلے کا حل افغانستان میں ایک ایسے مضبوط حکومت کے قیام ہی سے ممکن ہے جو سختی سے قانون کی عملداری یقینی بنائے جبکہ بین الاقوامی برادری بھی اب یہ جان چکی ہے کہ اس رستے زخم کا علاج صرف طالبان ہی کے پاس ہے۔

جدید دنیا میں لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے چین میں ون پارٹی رول ہے، رشیا میں جمہوریت کے نام پہ پوٹن کا تماشہ ہے، عرب ممالک میں آمرانہ بادشاہتیں قائم ہیں، سنٹرل ایشیا کے ممالک میں صدارتی جمہوریت کے نام پہ عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے، شمالی کوریا میں کم جانگ ان کی فرعونیت ہے، ترکی میں جمہوریت کے نام پہ صدارتی آمریت، ایران میں قدامت پسندوں کی آمریت نما جمہوریت جبکہ پاکستان میں جمہوریت کا حال ہم سب کے سامنے ہے اب جب ایک طرف دنیا ان سب ممالک میں ایسی حکومتیں برداشت کر رہی ہے جو ان کے معیار کے طرز جمہوریت پہ پوری نہیں اترتی اور دوسری طرف افغانستان کے استحکام کے لئے طالبان کے علاوہ باقی سب تجربے بھی ناکام ہو چکے ہیں تو اس قبائلی معاشرے کو ایک قانون اور ضابطے کا پابند کرنے کے لئے نئے دور کے نئے طالبان کو آزمانے میں آخرحرج ہی کیا ہے؟

About the author

Muhammad Asim Ali

Leave a Comment