تحریر: حیات اللہ محسود

ایک وقت تھا کہ قبائل اپنے بچوں  کو لڑاکو بنانے کے لیے انکی مختلف طریقوں سے تربیت کرتے انکو مختلف جنگجوؤں اور علاقے کے لڑاکا افراد کے قصے اور کہانیاں سناتے۔بلکہ یہاں تک کہ ہماری موسیقی جو امن کی علامت سمجھی جاتی ہے وہ بھی اس پر مبنی تھی ۔ہوش سمبھالتے ہی بچے کو بندوق چلانے کا طریقہ سکھایا جاتا تھا۔بندوق سے نشانہ بازی اور بندوق کی صفائی سکھانا لازم تھا ۔

یہ رسم پورے قبائلی اضلاع اور بالخصوص جنوبی وزیرستان میں اپنی مثال آپ تھی ۔بندوق ہمارےرسم ورواج کا حصہ تھی ۔ہر کسی کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ اچھی سے اچھی بندوق خریدے ۔جسکے پاس جتنا ذیادہ اسلحہ ہوتا تھا وہ سب سے خوش قسمت تصور کیا جاتا تھا ۔طالبانزیشن کے وجود میں آنے کے بعد اس کلچر کو مزید پروان چڑھایا گیا اور ساتھ میں اس کلچر میں جدت آتی گئی اور آخر کار بندوق کلچر جدید دور کے جدید اور بھاری اسلحہ رکھنے تک جا پہنچا ۔اپریشن راہ نجات کے بعد یہ کلچر آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا اپریشن کے خاتمے کے بعد قبائلی اضلاع کا انضمام بھی ہوا اسی طرح بچا کچھہ بندوق کلچر ے دم تھوڑنے لگا ۔

عسکری اپریشن کے باعث جہاں قبائلی اضلاع کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تو وہیں ان قبائلی اضلاع کے عوام کو ترقی کی دوڑ میں دیگر اقوام کے ساتھ شریک ہونے کے لیے بے شمار مواقع بھی میسر ہوئے ۔جس میں سب سے بڑا موقع تعلیم کا حصول تھا ۔تعلیم کے حصول  کے میدان میں قبائلوں کی اترنے کی دیر تھی کہ پاک آرمی نے تعلیم کے ساتھ قبائلوں کی محبت کو دیکھتے ہوئے قبائلی اضلاع میں کیڈٹ کالج اے پی ایس اور دیگر جدید طرز کی تعلیم فراہم کرنے والے تعلیمی اداروں کا جال بچھایا ۔ان تعلیمی اداروں کے قیام کے بعد  قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے غریب اور امیر دونوں والدین کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ انکا بچہ بہتر سے بہتر تعلیمی ادارے میں پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل سنوارے اور یوں بندوق کلچر سے بیزار ہوکر قلم کےکلچر کو فروغ دینے کی ایک لہر دوڑ گئی ۔

وہ والدین جو اس سے پہلے تعلیم یافتہ بچوں کو پنجابی وغیرہ کے نام سے یاد کرتے تھے وہی والدین اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کےلیے سرگرم ہوگئے ۔وہ والدین جو اس سے پہلے ہوش سمبھالتے ہی اپنے بچوں کو بندوق کی تربیت دیتے تھے وہ اپنے بچوں کو سکول جانے کی تربیت دینے لگے ۔اسکی بدولت 18 سال کے اس قلیل عرصے میں پاکستان سمیت بیرونی دنیا میں بہترین پوزیشن پر قبائلی نوجوانان فائز ہیں ۔بندوق کلچر کی  بجائے قلم کتاب کلچر نے قبائلی اضلاع میں ایک مقام بنا لیا ۔

قلم کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے یہاں کے مقامی تعلیم یافتہ طبقوں نے مختلف غیر سرکاری تنظیمں قائم کیں جس نے قلم وکتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے بہت محنت کی انہی غیر سرکاری تنظیموں کی بدولت آج گھر گھر تعلیم کی شمع روشن ہو رہی ہے ۔ جس طرح قبائلی اضلاع کے عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اور بندوق کلچر کو ختم کرکے قلم وکتاب کلچر کو فروغ دینے کے ریاست نے بہترین اقدامات اٹھا کر حقیقی ماں کا کردار ادا کیا اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ وہ ان غیر سرکاری تنظیموں کو سپورٹ کرنے کے لیےقدم بڑھا کر انکے حوصلے بڑھائے کیونکہ انہی غیر سرکاری تنظیموں کی بدولت آج ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں  قبائلی اضلاع کےغریب یتیم اور مستحق  طالبعلم اپنے علم کی پیاس بجھانے میں مصروف عمل ہیں ۔

جنوبی وزیرستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم ماوا کی بدولت ترکی سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے وفد نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کرکے وزیرستان میں  تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ۔ترکی کے اس وفد کی وزیرستان آمد اور یہاں پر تعلیمی ماحول کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کرنے کے اعلان کے بعد یہ وفد جب ترکی واپس تو وہ وزیرستان کا تذکرہ کرتے ہوئے یہاں کے عوام کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کی بجائے تعلیم سے منسلک ہونے والی قوم کے طور پر یادکریگا۔

بندوق کلچر سے قلم وکتاب کے کلچر تک کے سفر میں کردار ادا کرنے والے قوم کے محسنوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اگر دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو صدارتی ایوارڈ دیا جاسکتا ہے تو ان محسنوں کو بھی صدارتی ایواڑڈ دیتے  وقت یاد رکھنا چائیے  جنھوں نے بندوق کلچر کو قلم وکتاب کلچر میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اسکو فروغ دیا ۔

About the author

Hayat Ullah

Leave a Comment