سن 1988ء میں جنیوا معاہدے کے بعد جب افغانستان سے سویت افواج کا انخلاء شروع ہوا تو مجاہدین نے نجیب کی کٹھ پتلی حکومت گرانے کیلئے جدوجہد شروع کی، نجیب کو حکومت چلانے کیلئے مسلسل روس سے امداد مل رہا تھا، اگلے چند سالوں میں جب روس معاشی طور کمزور ہوا تو اس نے وسط ایشیائی ریاستوں کو آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کی امداد بھی بند کردی۔ امداد بند ہونے سے نجیب نے اپریل 1992ء میں استعفیٰ دیا اور حکومت چھوڑ دی۔ نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد مجاہدین کے درمیان حکومت بنانے کے کسی فارمولے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث اقتتدار کی جنگ شروع ہوئی جس نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی اور اگلے دو سال تک افغانستان مختلف مجاہد گروپوں کے درمیان واضح طور پر مندرجہ ذیل 9 حصوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔ کابل اور اس کے زیر انتظام شمالی علاقے،مشرقی افغانستان کے صوبے، شمالی افغانستان، شمال مغربی افغانستان ،خوست اور اس کے نواح میں پاکستانی سرحد سے متصل علاقےبامیان درہ ،کیان اور پل خمری، مشرقی افغانستان میں صوبہ کنڑ۔
خانہ جنگی کو ختم کرنے اور انتخابات کے ذریعے پُرامن انتقال اقتتدار کیلئے مجاہدین کے درمیان کئی بار مصالحانہ کوششیں ہوئیں، پہلی بار اپریل 1992ء میں تمام مجاہد تنظیموں کے درمیان حکومت سازی کیلئے ایک معاہدے پر اتفاق ہوا مگر اس معاہدے کو حکمت یار نے مسترد کیا اور وہ خود کابل کے قریب اپنے مورچوں میں پہنچ گئے تاکہ شہر پر قبضے کی کاروائی کی براہ راست قیادت کرسکیں۔
اپریل ہی میں پشاور کے گورنر ہاؤس میں مجاہد راہنماؤں کا طویل اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نواز شریف بھی موجود تھے، وہ اجلاس بھی بغیر نتیجے کے ختم ہوا۔

مجاہدین کا ایک اور اجلاس پشاور میں ہوا جس میں حکومت پاکستان اور سعودی حکومت نے متفقہ طور پر اُس معاہدے کی توثیق کی جس میں مجددی کو دو ماہ کیلئے عبوری افغان حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ مجددی نے دوماہ بعد صدارت چھوڑ کر اقتتدار ربانی کے حوالے کیا جس نے چار ماہ کے اندر انتخابات کروا کر اقتتدار منتخب حکومت کے حوالے کرنا تھا لیکن ربانی انتخابات کرانے میں ناکام رہا۔ مولانا جلال الدین حقانی نے بھی مصالحت کی کئی کوششیں کیں لیکن تمام بےسود ثابت ہوئیں۔

سعودی عرب کے شاہ فہد نے خاص طور پر اصلاح احوال کی کوشش کی اور ان کی دلچسپی کے باعث وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر اعجازالحق کو نمائندہ بناکر کابل بھیجا، شاہ فہد کی جانب سے شہزادہ نائف بن سلطان بھی ان کے ساتھ تھے، اس وفد نے مجاہد تنظیموں کے مابین ایک معاہدہ کیا جسے “معاہدہ ضیاءالحق” کا نام دیا گیا۔

مارچ 1993ء میں پاکستان کی کوششوں سے ایک اور معاہدہ ہوا اور ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کو دیکھتے ہوئے اس معاہدے کی توثیق حرمین شریفین میں کرائی گئی مگر افسوس کہ اس معاہدے پر بھی عمل درآمد نہ ہوا۔

ان مصالحتی کوششوں کے دوران مجاہدین مسلسل ایک دوسرے سے برسرپیکار رہے اور پھر جب مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہوجانے کے بعد صلح جُو رہنما مایوس ہوکر گوشہ نشین ہوگئے تو ملک میں مرکزیت کا دور دور تک کوئی امکان نہ رہا، ان حالات میں ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے سینکڑوں جنگجو کمانڈر اپنی اپنی جگہ عملاً خود مختار حکمران بن گئے کیونکہ انہیں کسی بالادست قوت سے باز پرس کا اندیشہ نہ تھا۔ ان کمانڈروں نے جگہ جگہ چوکیاں بنالیں اور سڑکوں پر پھاٹک اور آہنی زنجیریں نصب کرکے متوازی حکومتیں قائم کرلیں۔ کوئی گاڑی انہیں ٹیکس ادا کئے بغیر وہاں سے نہیں گزر سکتی تھی، مسافروں اور تاجروں کو ہر ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی نہ کوئی زنجیر تنی ہوئی نظر آتی اور ٹیکس ادا کرنا پڑتا، صرف کندھار سے سپین بولدک تک 20 سے زائد زنجریں تھیں۔

ان کمانڈروں کی خرمستیوں کا یہ عالم تھا کہ خواتین کی عصمتیں تک محفوظ نہ رہی تھیں، وہ جسے چاہتے گاڑی سے اُتار کر اغوا کرتے اور عصمت دری کرکے قتل کردیتے۔ حد تو یہ تھی کہ لڑکے تک ان ہوسناکی کا شکار بننے لگے تھے، یہ مسلح لوگ نہ صرف راہزنی کے عادی تھے بلکہ اپنے زیر تسلط بستیوں میں دن دیہاڑے غنڈہ گردی کرتے تھے، یہ لوگ مجاہدین کے روپ میں مفادپرست عناصر تھے جنہوں نے منشیات فروشی کے ذریعے خوب دولت کماکر اسلحے کے بڑے بڑے ذخائر جمع کرلئے تھے اور کرائے کے غنڈوں اور اجرتی قاتلوں کو بھرتی کرکے لوگوں پر دہشت بٹھادی تھی۔

اس لاقانونیت کی وجہ سے ایک طرف افغان عوام کا جینا دوبھر ہوگیا تھا جبکہ دوسری طرف اندرونی اور بیرونی تجارت کے راستے بھی بند ہوگئے تھے ہاں مگر منشیات کی تجارت کو خوب فروغ حاصل ہورہا تھا۔ افغانستان گویا جرائم پیشہ افراد کی جنت بن چکا تھا جہاں وہ ہر طرح کی من مانی کرسکتے تھے جہاں ہر طرف غنڈوں اور بدمعاشوں کا راج تھا اور شریف انسان اپنی زندگی سے عاجز تھا۔ یہ ملک بھیڑیوں کا شکارگاہ بن چکا تھاجو کسی پر رحم کرنا نہیں جانتے تھے، یہ انسان کے روپ میں شیطان تھے، ان کے مظالم اور شرمناک کارستانیوں نے لوگوں کو سابقہ اداوار کے مصائب بھلا دئیے تھے۔ افغانستان کے چپے چپے سے گھٹی گھٹی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں، اس کا ذرہ ذرہ بلک رہا تھا۔
اپریل 1992ء سے 1994ء کے آخر تک بدترین خانہ جنگی رہی اور پھر ناامیدی کی ان گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں اچانک افغانستان کے جنوبی افق پر روشنی کی ایک کرن نمودار ہوئی، یہ نئی طاقت “سٹوڈنٹس” کے نام سے ظہور پذیر ہوئی، یہ دینی مدارس کا ایک گروہ تھا جو حالات کی اصلاح کیلئے میدان میں اُترا تھا۔
سٹونٹس کون تھے؟ کیسے آئے؟ اپنے دور حکومت میں کیا کیا کام کئے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت کیا ہے؟ ان سب پر اگلے نشستوں میں بات ہوگی۔ انشاءﷲ

About the author

Najeeb Agha

Leave a Comment