Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

کراس بارڈر ٹیررازم کی نئی لہر

یہ امر قابل توجہ اور غور طلب ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ہفتہ رفتہ کے دوران پولیس اور فورسز پر تین چار حملے کیے گئے ہیں ۔ ان علاقوں میں ضلع دیر، ضلع اورکزئی اور ضلع شمالی وزیرستان شامل ہے۔ اوّل الذکردونوں اضلاع میں پولیس فورس کو جبکہ آخری حملے میں پاک فوج کو نشانہ بنایا گیا ۔جس کے نتیجے میں دونوں فورسز کی تقریبا ً دس افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ حملے شاید افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں اور غیریقینی صورتحال کا بھی نتیجہ ہے کیونکہ وہاں پر حالات نارمل نہیں ہے اور وہاں کے حالات بعض دیگر علاقوں کی طرح ان تین اضلاع میں اس لیے اثر انداز ہو تے ہیں کہ ماضی میں یہ اضلاع حالت جنگ میں رہے ہیں ۔ یہاں پر کالعدم تنظیمیں فعال رہی ہیں اور سب میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ علاقے افغانستان کی سرحد پر واقع ہیں۔ افغانستان کے متعدد سرحدی صوبوں میں نہ صرف یہ کہ کالعدم تحریک طالبان کے مراکز اور جنگجو موجود ہے بلکہ بعض سرحدی علاقوں میں داعش بھی متحرک اور فعال ہے اور داعش میں اُن آٹھ دس پاکستانی کمانڈروں کے اہلکار یا جنگجو بھی شامل ہیں جنہوں نے دو برس قبل ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کرکے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی، اور ان میں سے اکثر کا تعلق اورکزئی ،مہمند، شمالی وزیرستان اور باجوڑ کے اضلاع سے ہیں ۔
یہ نکتہ یا مسئلہ بھی بہت اہم ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ یقین دہانی بھی شامل ہے کہ افغان سرزمین پڑوسیوں سمیت کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دائش کے جو جنگجو ماضی قریب میں افغانستان بھاگ کر پناہ لے چکے ہیں ، افغان حکومت اور اب طالبان اُن کے خلاف کیا ایکشن لیتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ ماضی میں متعدد بڑے حملوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان نے ہفتہ رفتہ کے دوران داعش کے خلاف متعددکارروائیاں کیں اور قطر دفتر کے ترجمان اِن کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے آئے ہیں۔ تاہم حالیہ حملوں کے تانے بانے اگر افغانستان میں موجود گروپوں کے ساتھ ملتے ہیں تو حکومت پاکستان کو یہ مسئلہ افغان حکومت کے علاوہ افغان طالبان اور امریکہ کے ساتھ بھی اٹھانا ہئے یہ تاکہ مستقبل کے چلینجز اور حملوں سے بچا جا سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket