Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

پاک افغان تعلقات اور تجارت کے لیے نئے دور کا آغاز

یہ خبر فیصلہ اور اقدام انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی بندرگاہ گوادر کے ذریعے گزشتہ اتوار کے روز پڑوسی ملک افغانستان کے لیے متحدہ عرب امارات سے سامان کا پہلا کھیپ پاکستان پہنچ گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل میں نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس میں تیزی لائی جائے گی پاکستان اور افغان کی کاروباری طبقے نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور ان کو توقع ہے کہ کراچی فورٹ کے ساتھ ساتھ نسبتاً جدید اور کم فاصلے والے گوادر بندرگاہ کے باعث جہاں ایک طرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا اور بعض رکاوٹیں دور ہو جائیں گی بلکہ مستقبل قریب میں جب سی پیک کا منصوبہ مکمل ہوگا تو پاکستان چین اور بعض دیگر ممالک کے لئے سنٹرل ایشیا کے ساتھ تجارت کا علاقائی خواب بھی تعبیر میں بدل جائے گا اور ایسا ہونے سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ پاکستان اس خطے کی علاقائی اور عالمی تجارت کا مرکز بھی بن جائے گا جس سے یہاں کی کمزور معیشت کو ناقابل یقین حد تک فائدہ ہوگا۔ سال 2003 سے سال 2018 کے درمیان کہا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ساڑھے تین سے پانچ ارب ڈالرز تک دو طرفہ تجارت ہوا کرتی تھی۔ سال 2010 کے دوران پاک افغان ٹرانزٹ ایگریمنٹ کی مدت ختم ہوئی اور تعلقات بگڑنا شروع ہو گئے تو اس کے بعد یہ محض 80 کروڑ سے ایک ارب ڈالرز کے درمیان رہ گیا جس کا ایران بعض وسطی ایشیائی ریاستوں اور ہندوستان نے فائدہ اٹھایا ۔
پاکستان کی خوش قسمتی اور جغرافیائی اہمیت یہ رہی کہ یہ افغانستان اور وسطی ایشیاء کے لئے باقی دنیا کی ضروریات کے مطابق سب سے آسان اور قریب ترین راہ کا حامل ملک ہے اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہ آسان اور سستا سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کوششوں اور سازشوں کے باوجود کسی متبادل راستے کو پذیرائی اور کامیابی نہیں ملی۔ گوادر پورٹ پر یہ سہولت فراہم کرنے سے پاکستان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور کراچی کے مقابلے میں یہ زیادہ سود مند ، جدید اور با سہولت فورٹ ثابت ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ حالیہ فیصلے کو بہت سراہا جا رہا ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ پر پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے نہ صرف بہتر اور جدید سہولیات دی جائیں گی بلکہ غیر ضروری اور ناقابل برداشت ٹیکسز کی شرح بھی مناسب رکھی جائے گی اور جدید نظام متعارف کیا جائے گا ۔سی پیک کا روڈ سسٹم اور ریلوے ٹریکس بھی تکمیل کے مراحل میں ہے جس کے بعد سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ طورخم اور چمن پر جدید ترین ٹرمینل بھی ہنگامی بنیادوں پر مکمل کی جانے کی ہدایات جاری کی گئی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے بعض مشکلات کے باوجود نہ صرف طورخم اور چمن بارڈ کو 24 گھنٹے تک بھارت کے لئے کھولنے کا اقدام اٹھایا بلکہ حال ہی میں جب پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کا ذکر اور سفارتی وفد نے آرمی چیف کی قیادت میں کابل کا دورہ کیا تو اس کا بنیادی مقصد بھی تجارت اور بہتر تعلقات کو از سر نو ترتیب دینا تھا جس کی تجاویز کا افغان حکومت نے شاندار الفاظ میں خیر مقدم کیا۔
چند روز قبل پاکستان نے جہاں ایک طرف غلام خان، خرلاچی اور انگوراڈہ کی کراسنگ کو محدود عوامی آمدورفت اور تجارت کے لئے کھول دیا وہاں پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کی واگہ بارڈر افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر بھی کھول دیں تاکہ افغانستان کو بھارت تک رسائی بھی دی جاسکے اس فیصلے کا بھی افغان حکومت اور تاجروں نے خیرمقدم کیا۔
گوادر پورٹ کو افغان تجارت کے لئے کھولنے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق سفیر اور موجودہ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان نے کہا کہ اس کے افغانستان اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات اور تجارت پر تاریخی اثرات مرتب ہونگے ان کے مطابق پاکستان نہ صرف یہ کہ افغان امن کے لیے مثبت اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اس کے استحکام اور معاشی ترقی کے لیے بھی بہت سنجیدگی سے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
معتبر تجزیہ کاروں ،معاشی ماہرین، تاجروں اور عوام نے اس پیشرفت اور عملی اقدامات کو بہت خوش آئند اور وقت کی ضرورت قرار دے کر اُمید ظاہر کی ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک شرائط و ضوابط کو مؤ ثر اور آسان بنا کر مزید عملی اقدامات اٹھائیں گے تاکہ دونوں ممالک اور یہاں کے عوام کی ترقی کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket