Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

ٹی ٹی پی کی نئی صف بندی اور درپیش چیلنجز

میڈیا رپورٹس اور طالبان ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) پھر سے متحد ہورہی ہے اور جو گروہ ماضی میں باہمی اختلافات کے باعث ٹی ٹی پی سے الگ ہو گئے تھے وہ اس تنظیم یا تحریک میں پھر سے شامل ہوگئے ہیں یا ہونے جا رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مرکزی سربراہ نورولی محسود اس مقصد کے لئے کافی عرصے سے مصروف عمل تھے اور بعض کمانڈروں کے ساتھ رابطے میں تھے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تقریباً چار دوسرے گروہوں نے ٹی ٹی پی میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ہے جبکہ چار کی شمولیت کے امکانات اور اطلاعات ہیں۔
سال 2007 کے دوران قائم ہونے والی ٹی ٹی پی کئی برسوں تک پاکستان بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں اپنے خودکش بمباروں اور حملہ آوروں کے ذریعے سینکڑوں حملے کرا چکی ہے جبکہ اس کے خلاف تقریباً درجن بھر فوجی آپریشنز کیے گئے ہیں جن میں سانحہ اے پی ایس کے بعد تین بڑے اور ملک گیر فوجی آپریشن سے بھی شامل ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے ریاستی کارروائیوں اور اقدامات میں تیزی لائی گئی ، ہزاروں مارے گئے تو ہزاروں گرفتار کئے گئے تاہم آپریشن ضرب عضب اور راہ نجات کے دوران ہزاروں نے افغانستان اور بعض دیگر ممالک میں جا کر پناہ لی۔ اسی تناظر میں حال ہی میں اقوام متحدہ نے تفصیلات جاری کیں جس میں بتایا گیا کہ افغانستان میں 6000 سے زائد پاکستانی طالبان موجود ہیں جو کہ پاکستان کے اندر متعدد حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ فوجی آپریشنز کے بعد چونکہ ان کے ٹھکانے ختم کیے گئے اس لیے ان کی وہ قوت نہیں رہی چونکہ پہلے تھی، تاہم افغانستان میں افغان طالبان کی طرف سے قوت پکڑنے کے بعد ٹی ٹی پی کی بھی حوصلہ افزائی مشاہدے میں آئی۔ اس لئے بعض گروہوں نے اس میں پھر سے شمولیت اختیار کرنی شروع کی جن میں جماعت الاحرار ،حزب الاحرار، شہریار محسود گروپ اور لشکر اسلام کے علاوہ وزیرستان اور پنجاب کے بعض گروہ شامل ہیں ۔
کہا جا رہا ہے کہ نئی صف بندی میں بعض نظریاتی اور تنظیمی تبدیلیاں کی جارہی ہیں جبکہ اس عمل کو افغانستان کے بدلتے حالات اور ٹی ٹی پی سمیت دوسروں کی غیر فعالیت کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح کی بعض تبدیلیاں اس دوران افغان طالبان داعش اور القاعدہ کے علاقائی تنظیموں میں بھی مشاہدے میں آئی۔ مثال کے طور پر حال ہی میں ڈاکٹر شہاب المہاجر کو داعش خراسان کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جن کے بارے میں پراسراریت کا یہ عالم ہے کہ بعض لوگ ان کو عراقی بعض شامی تو بعض انہیں پاکستانی یا افغانی شہری قرار دے رہے ہیں اور ان کی جہادی پروفائل بہت بڑی کہلائی جا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے مطابق مفتی نورولی محسود کی یہ کوششیں اب عملی شکل اس لیے اختیار کر رہی ہے کہ وہ مفاہمت کی پالیسی پر چل کر ٹی ٹی پی کو ماضی کی طرح فعال بنانا چاہتے ہیں اور ان کی قائدانہ صلاحیتیں دوسروں کو راغب کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اتحاد کے سلسلے میں القاعدہ کا ایک گروہ کمانڈر منیب کی قیادت میں اور حرکت الجہاد اسلامی عثمان کرد گروہ ان گروہوں سے قبل ٹی ٹی پی میں شامل ہوگئے ہیں تاہم حزب الاحرار کی شمولیت کو ماہرین اس حوالے سے بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں کہ 2015 کے دوران اس گروہ کے قیام سے ٹی ٹی پی کی طاقت اور صلاحیت پر بہت بڑا برا اثر پڑا تھا اور یہ گروہ ایک موثر طاقت کے طور پر سامنے آیا تھا۔
بعض حلقوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نئی صف بندی بدلتے علاقائی حالات کے علاوہ خطے میں داعش کی بڑھتی حکمت عملی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ افغان طالبان اور داعش کے سخت مخالف ہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے مطابق ٹی ٹی پی کے بعض سابق کمانڈرز نےبھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی اور سینکڑوں سخت گیر پاکستانی طالبان بھی بوجوہ داعش کا حصہ بن گئے تھے۔ دفاعی ماہرین اس صف بندی کو ٹی ٹی پی کی دوبارہ فعالیت کی کوشش قرار دے رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر اب ٹی ٹی پی کے لیے کاروائیوں کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے ۔
بعض باخبر حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجو اور ان کی قیادت کو کھلی چھوٹ کیسے دی گئی ہے اور ان کے خیال میں ٹی ٹی پی کی اس کوشش کو بعض غیرملکی پراکسیز یا ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل ہو سکتی ہے تاکہ ان کے بقول مستقبل میں ٹی ٹی پی کو پھر سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ وہ افغانستان اور بعض دیگر ممالک کے کردار اور مبینہ سرپرستی کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔
عوامل اور اسباب جو بھی ہو بدلتے حالات کے تناظر میں اگر ٹی ٹی پی پھر سے قوت پکڑ لیتی ہے تو خدشہ ہے کہ اس کے پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کی امن و امان کی نسبت اب بہت بہتر صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اس لیے ریاستی اداروں کواس معاملے پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket