Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

بلدیاتی الیکشن ،نئی مردم شماری اور حکومتی ذمہ داریاں

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا حکومت سے مجوزہ بلدیاتی الیکشن کا شیڈول طلب کرکے ایک بیان میں واضح کر دیا ہے کہ 2023 کے عام انتخابات تجدید شدہ انتخابی فہرستوں کے مطابق کرائے جائیں گے۔   بیان کے مطابق نومبر میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس 14 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی تیاریاں کتنی اطمینان بخش ہیں۔

یہ امر قابل افسوس ہے کہ صوبائی حکومت بوجوہ و بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے گریز کے رویے پر گامزن ہے حالانکہ عمران خان اور انکی پارٹی کے منشور اور ترجیحات میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی روز اول سے شامل رہی ہے۔ سن 2013 کے بعد جب خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک برسر اقتدار آئے تو انہوں نے بلدیاتی الیکشن کرائے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف نئے نظام کی بنیاد ڈالی گئی بلکہ اپوزیشن کو بھی متعدد اضلاع میں کافی نمائندگی ملی اور بلدیاتی اداروں نے کافی حد تک ڈلیور بھی کیا تھا۔  تاہم گزشتہ کئی برسوں سے اسکے باوجود نئے انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جارہا کہ مرکز کے علاوہ تین صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں۔  اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے متعدد بار بلدیاتی الیکشن نہ کرانے پر حکومتوں کے خلاف جہاں کافی سخت ریمارکس دیے وہاں ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔  اب جاکر اگر کے پی حکومت نے الیکشن کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے اور اب اس کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔

صوبائی ترجمان کامران بنگش کے مطابق ان کی حکومت بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے تاہم کورونا بحران اور بعض دیگر رکاوٹوں کے باعث اس کے انعقاد میں تاخیر ہوئی۔کامران بنگش اپوزیشن کے اس  تاثر کو غلط قرار دے رہے ہیں کہ حکومت اس لیے الیکشن سے گریزاں ہے کہ اس کو اپنی ناکامی کا کوئی خوف لاحق ہے۔  ان کے مطابق اپوزیشن مل کر بھی پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ قبل ازیں جب چند ہفتے قبل پختونخوا سمیت پورے ملک کے 42 کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن ہوئے تو صوبے میں تحریک انصاف نے 20 نشستیں حاصل کیں جوکہ اپوزیشن کی تمام مجموعی سیٹوں سے زیادہ تھیں۔  ہزارہ، جنوبی اضلاع اور نوشہرہ میں پارٹی نے کلین سویپ کیا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تمام تر خدشات اور عوام میں مایوسی کے باوجود تحریک انصاف خصوصاً عمران خان کو صوبہ پختونخوا میں اب بھی مقبولیت حاصل ہے اگرچہ تنظیمی طور پر اکثر اوقات اختلافات کے باعث الیکشن میں پارٹی کو دھچکے لگتے رہتے ہیں پھر بھی اس کی مقبولیت برقرار ہے۔  یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پورے ملک میں مردم شماری کرانے کا اعلان کر دیا ہے جس سے خیبرپختونخواہ کے ووٹرز کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کی توقع ہے کیونکہ پچھلی مردم شماری کے دوران صوبے میں امن و امان کی بدترین صورتحال کے باعث کافی تعداد میں شہری مردم اور خانہ شماری کے اندراج سے محروم رہ گئے تھے۔

اب کی بار خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کو بھی مردم شماری اور بلدیاتی عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔ توقع ہے کہ اگر  درست طریقے سے وہاں نئے نظام کے تحت مردم شماری کرائی گئی تو ان علاقوں کے ساتھ ماضی میں ہونے والی زیادتی کی تلافی ہو سکے گی کیونکہ پچھلی دفعہ بھی شکایات سامنے آئی تھیں اور یہ کہا گیا تھا کہ قبائلی اضلاع کی آبادی 30 سے 40 فیصد کم دکھائی گئی ہے۔  حکومتی حلقوں کے مطابق اب کی بار یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ صوبے کے مختلف ڈویژنوں میں مرحلہ وار بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا۔روایتی طریقے پر تو ایک ہی روز الیکشن کرائے جاتے ہیں تاہم اگر حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے تو اسکے لیے لازمی ہے کہ اپوزیشن کو کے پی  اسمبلی کی سطع  پر اعتماد میں لیا جائے تاکہ بلدیاتی نظام کے فوائد کو عوام کی ترقی اور نمائندگی کے لیے احسن طریقہ سے بروئے کار لایا جاسکے اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقل کا راستہ ہموار ہو۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket