Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بڑھتے ہوئے زمینی تنازعات

فاٹا انضمام کے بعد آئین پاکستان کا دائرہ اختیار اُن علاقوں تک پہنچ گیا جہاں پر اب تک برطانیہ کا رائج کالا قانون ایف سی آر لاگوں تھا ۔فاٹا انضمام کے ایک سال گزرنے کے بعد جہاں فاٹا انضمام کے ثمرات یہاں کے لوگوں کو ملنا شروع ہو گئے وہاں فاٹا انضمام کے باعث عوام کے لیے کئی مسائل نے جنم لیا۔ ان میں اکثر مسئلے یہاں کے زمینی تنازعات ہے جو کہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں لیکن سابقہ فاٹا میں انکو یہاں پر موجود رسم رواج اور قانون کی مدد سے یا تو دبایا گیا تھا یا پھر انکو حل کیا گیا تھا۔ اس میں اکثر تنازعات ایسے ہیں جن کو طالبان نے طاقت کے ذریعے اور جرگے کا سہارا لیکر حل کر دیاتھا اورفریقین نے نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی ۔
حالات معمول پر آنے کے بعد اور فاٹا انضمام کے باعث اکثر زمینی تنازعات دوبارہ پیدا ہونے لگے ہیں۔ ان میں اکثر ایسے تنازعات ہیں جو کہ مقامی بڑے بڑے قبیلوں کے درمیان (برید) یعنی بارڈر پر پیدا ہو رہے ہیں جو آہستہ آہستہ خونی تصادم کی شکل اختیار کرتے چلے جارہے ہیں ۔ مستقبل قریب میں اگر یہ مسائل برقت حل نہ کیے گئے تو یہ بڑے خونی تصادم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں وزیر اور داوڑ قوم کے درمیان( برید )، کرم ایجنسی میں اہل تشی اور سنی کے درمیان برید کا تنازعہ ،جنوبی وزیرستان میں وزیر اور محسود قوم کے درمیان برید کا تنازعہ ،جنوبی وزیرستان میں دوتانی اور وزیر قوم کے درمیان برید کا تنازعہ اور جنوبی وزیرستان میں ہی محسود اور بیٹنی قوم کے درمیان برید کا تنازعہ شامل ہے ۔ان تنازعات پر پہلے بھی خونی تصادم ہوچکے ہیں اور یہ تنازعات مستقبل میں اس پٹی میں امن امان کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماضی میں یہاں پر موجود قانون ایف سی آر کے ذریعے انتظامیہ ایسے تنازعات کو حل کیا کرتی تھی لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ان زمینی تنازعات کے حل کے لیے اب یہاں کوئی قانون موجود نہیں ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ پہلے یہاں کے تحصیلدار اور اے سی کے پاس جرگے سمیت دیگر ایسے اختیارات موجود تھے جسکو استعمال میں لاتے ہوئے اس قسم کے تنازعات کے حل کے لیے وہ کردار ادا کر سکتے تھے لیکن فاٹا انضما کے بعد وہ اختیارات اب انکے پاس نہیں رہے البتہ حکومت کی جانب سے جرگہ نظام کو فعال تو کیا گیا لیکن اس نظام کے تحت بھی محدود اختیارات انتظامیہ کو دئیے گیے جسکے تحت ایسے تناعات حل تو نہیں ہوسکتے البتہ اس میں بگاڑ لایا جا سکتا ہیں اگر کوئی جرگہ کسی مسئلے پر کوئی فیصلہ کرتی بھی ہے تو فوری طور پر اسکو عدالت میں چیلنج کر دیا جاتا ہے ۔
دوسری جانب عدالت اور پولیس کے پاس بھی ایسے تنازعات کے حل کے لیے کوئی قانونی راستہ موجود نہیں ہے کیونکہ قبائلی علاقاجات میں تاحال پٹواری نظام موجود نہیں ہے اور ان علاقوں کے زمینوں کا حکومت کے پاس بھی کوئی ٹھوس ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔ برطانیہ کے دور کا جو ریکارڈ تھا وہ تو شاید موجود ہے لیکن صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ان علاقوں تک بڑھنے کے بعد اب اسکی کوئی خاص حثیت نہیں رہی اگر حثیت ہے تو کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ کئی تنازعات کا ریکارڈ صرف زبانی کلامی ہے۔ انکا کوئی تحریری ریکارڈ میسر نہیں ہے ۔ان تنازعات کے بارے میں مقامی لوگوں کی اکثر رائے یہ ہے کہ یہ تنازعات مخصوص سازش کے تحت پیدا کیئے جارہے ہیں تاکہ قبائلی علاقہ جات کے امن کو بگاڑا جائے۔
اگر حکومت کی جانب سے ان مسائل کے بروقت حل کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو دہشت گردی کے جنگ کے بعد ان اضلاع میں ان تنازعات کے باعث بننے والی جنگ دوسری خونی جنگ ہوگی جس میں مقامی افراد کے جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہاں پر دوبارہ امن کا قیام لانا ایک چیلنج ثابت ہوگا۔ اسی لیے حکومت کو چائیے کہ ضم شدہ اضلاع میں پٹوارخانے کے نظام کو فعال بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ جب تک پٹواری نظام یہاں پر مکمل فعال نہیں ہوتا تب تک مقامی سیول انتظامیہ کو ان تنازعات کے حل کے لیے خصوصی اخیارات دئیے جائے تاکہ موجودہ تنازعات کا پر امن حل نکل سکیں ۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket