Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

خیبرپختونخوا کرونا سے سب سے زیادہ متاثر

وہی ہوا جس کاخدشہ اور ڈر تھا ۔ اکثریتی عوام نے کرونا وائرس کو مذاق سمجھتے ہوئے سازشی باتوں کا روایتی انداز اپنا کر حفاظتی اقدامات اور حکومتی ہدایات کو نظرانداز کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں کیسز متاثرین اور اموات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ۔ جب کہ مئی کو خطرناک مہینہ قرار دیا جارہا ہے ۔ اتوار 19 اپریل کو ایک ہی دن پاکستان میں چوبیس اموات واقع ہوئیں ۔جس کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 197 ہوگئی جبکہ مجموعی تصدیق شدہ کیسز یا متاثرین کی تعداد 9505 ہوگئی۔ یہ اس جانب اشارہ ہیں کہ اموات اور کیسز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہونے لگا ہے اور اگر ہمارے لوگ اب بھی اس عالمی وبا ءکو سازش اور مذاق سمجھتے رہے تو آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں صورتحال خطرناک شکل اختیار کرجائے گی۔
اتوار 25 اپریل کے روز خیبرپختونخوا میں دس اموات ہوئیں جس کے بعد صوبے میں کل اموات کی تعداد 67 ہوگئی جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1235 ہوئی۔ پشاور اموات کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست رہا جبکہ سوات کا دوسرا نمبر رہا۔
اتوار کے روز جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دس، سندھ میں 8، پنجاب میں 5 اور بلوچستان میں 3 نئی ہلاکتیں سامنے آئیں تھیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں آبادی کے لحاظ سے خیبرپختونخوا تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب کی آبادی باقی تین صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے اس تناظر میں اگر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ کرونا وائرس کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا اور دوسرے صوبے بوجوہ خیبر پختونخوا کے مقابلے میں نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔
ابھی تک صوبائی حکومت یہ بتانے سے قاصر یا غافل نظر آرہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں زیادہ اموات اور متاثرین کے بنیادی اسباب کیا ہیں اور تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔ حکومت کی تمام تر توجہ بریفنگ دینے اور عوام سے اپیلیں کرنے پر مرکوز ہے حالانکہ کیسز کی تعداد اور اموات کی شرح میں اضافے کے اسباب کا سراغ لگانا انتہائی ضروری امر ہے اور اگر اس کی وجہ عوام کی غیر ذمہ داری یا بد احتیاطی ہے تو نتائج کی پرواہ کیے بغیر سخت ترین اقدامات کیے جائیں ۔
یہ دعویٰ یا جملہ زمینی حقائق کے برعکس محض خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہیں کہ حالات تسلی بخش ہیں ۔ یہ بیانیہ بھی خطرناک ہے کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اموات یا متاثرین کی تعداد کم ہیں۔
بل گیٹس سمیت تین دیگر طبی اداروں کے عالمی سربراہان نے پیر 20اپریل کے روز کہا کہ کرونا وائرس کی ویکسین آئندہ برس کی آخر تک تیار ہوسکے گی ۔ اس کا واضح مطلب یہ ہیں کہ اس لمبے عرصے کے دوران اگر اس وبا ءپر قابو نہ پایا جا سکا اور اس کے پھیلنے کی یہ شرح برقرار رہی تو پاکستان جیسے ممالک اور معاشرے کیلئے صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا اور ہم اپنے جغرافیائی مسائل، معاشی بحران اور انتظامی کمزوریوں کے علاوہ بڑی آبادی جیسے عوامل کے باعث بدترین حالات سے دوچار ہوجائیں گے۔
اب تک جو عالمی تحقیقات سامنے آئی ہیں ان کو سامنے رکھ کر ہی ہم اپنا کوئی حفاظتی لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں۔ امریکا ، اٹلی فرانس اور ایسے دیگر ممالک نے ہماری طرح بداحتیاطی کا مظاہرہ کرکے عوامی سرگرمیوں کے پیش نظر سخت اقدامات اور لاک ڈاؤن سے گریز کیا جس کا نتیجہ ہزاروں ہلاکتوں اور لاکھوں نئے کیسز کی شکل میں نکل آیا جبکہ چین ، روس ، بھارت ، بنگلہ دیش ، سعودی عرب اور یو اے ای اے نے روزمرہ کے معاملات کے اثرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سخت اقدامات اُٹھائے اور صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب رہے ۔ معاشی اثرات اپنی جگہ مگر اس وباء سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کی سخت اقدامات کئے جائیں اور جو لوگ تعاون نہیں کر رہے ان سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے۔ کراچی اور لاہور کی آبادی پشاور سے کئی گنا زیادہ ہے ان کے مقابلے میں چند روز کے دوران پشاور میں 30 سے زائد اموات اور صوبے میں 60 سے زائد اموات نہ صرف عوام اور حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ اس جانب سے واضح اشارہ اور پیغام ہے کہ دو تین مہینوں کی آگاہی مہم ،حکومتی ہدایات اور جزوی لاک ڈاؤن جیسے اقدامات پر عوام نے حقیقی معنوں میں مؤثر عمل نہیں کیا جو کہ بڑی خطرناک بات ہے۔
چند روز بعد رمضان کا آغاز ہوگا جس کے بعد مساجد اور بازاروں میں عوام کے ہجوم میں غیرمعمولی اضافے کا راستہ ہموار ہوجائے گا اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی، مذہبی اور حکومتی سطح پر اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لے کر حفاظتی تدابیر کو یقینی بنایا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket