Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

خیبرپختونخوا کے وسائل اور درکار اقدامات

مشترکہ مفادات کونسل کے ایک حالیہ اجلاس کے دوران بجلی سے متعلق معاملات درست کرنے کے لئے ایک طویل مدتی پلان کی منظوری دی گئی ہے۔  اعلامیہ کے مطابق اُور بلنگ پر قابو پانے کے علاوہ جن علاقوں کے صارفین بروقت بل ادا کرتے ہیں ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی جبکہ بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی بعض تجاویز پر بھی کونسل کے اجلاس میں غور کیا گیا۔

تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بجلی کا ہمارا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم انتہائی ناکارہ ہو چکا ہے جس کے باعث جہاں سیکڑوں میگاواٹ بجلی ضائع ہو رہی ہے وہاں  ناقص نظام اور طریقہ کار کے باعث بھی 21 ویں  صدی کے دوران بھی اور بلنگ اور زیادتی پر قابو نہیں پایا جا سکا ۔اس ضمن میں خیبرپختونخوا کی مثال دی جاسکتی ہے جس کے تین سے پانچ ڈیمز اور پاور پلانٹ چار ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ کی سستی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔  صوبے کی کل ضرورت 1300 سے 1600 میگاواٹ کے درمیان ہے۔  تاہم اس کو محض 900 سے 1000 میگا واٹ بجلی کی فراہمی کی جارہی ہے۔جس پر موجودہ اور سابقہ صوبائی حکومتوں نے متعدد بار وفاقی حکومت اور واپڈا سے شکایتیں بھی کیں۔

  دوسرا ظلم یہ کیا جا رہا ہے کہ پانی سے پیدا ہونے والی اس بجلی کی فی یونٹ پر تقریباً تین روپے کا خرچہ آتا ہے مگر صوبے کے عوام پر یہ یونٹ اسی قیمت پر فروخت کی جارہی ہے جس پر کوئلے کی بجلی بھی بیچی جاتی ہے حالانکہ 1973 کے آئین ،  اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے متفقہ اور طے شدہ فیصلے کے مطابق جس علاقے میں جو چیز پیدا ہوتی ہے وہاں نہ صرف یہ کہ رائلٹی دی جائیگی بلکہ قیمتوں میں کمی سمیت بعض دوسری سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔  یہی رویہ خیبرپختونخوا کے ساتھ قدرتی گیس کی مد میں بھی اپنایا گیا ہے حالانکہ صوبے میں پیدا ہونے والی بجلی اور گیس کی ضرورت اور استعمال میں سے کئی گناہ زیادہ ہیں مگر مقامی آبادی کو بعض بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔خیبرپختونخوا کو قدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انصاف پر مبنی پالیسیاں اپنا کر اس جنگ زدہ صوبے کے حقوق کا تحفظ کر کے موجودہ شکایات،  زیادتی اور خدشات کا ازالہ کیا جائے۔

 این ایف سی ایوارڈ  کا اجراء کر کے صوبے کے شیئرز میں اضافہ کیا جائے،  افغانستان کے ساتھ تجارت کو آسان بنا کر صوبے کی اکانومی کو بے پناہ ترقی دی جا سکتی ہے۔  اس کے علاوہ امن و امان کی جاری بہتر صورتحال سے فائدہ اٹھا کر سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر آمادہ اور راغب کیا جائے ۔ اس سے نہ صرف صوبے کی معیشت اور معاشرت کو استحکام ملے گا بلکہ پاکستان کی اکانومی میں بھی بہتری واقع ہوگی۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket