Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

یوم استحصال کشمیر اور عالمی برادری

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور جاری زیادتی کو دنیا اور متعلقہ عالمی اداروں کی توجہ مبذول کرانے کے علاوہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ مختلف فورمز پر اس دن مسئلہ کشمیر کا تاریخی پس منظر پاکستان کا اس مسئلہ پر مؤ قف اور بھارت کے ایک طرف رویے کو زیر بحث لایا گیا اور اس بات کا سفارتی اور سیاسی سطح پر علمی جائزہ لیا گیا کہ اس سنگین مسئلے کا خطے کی مجموعی صورت حال اور مستقبل پر کون سے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس بات سے قطع نظر کہ تقسیم ہندؤ یا آزادی ہند کے دوران دونوں جانب کے اُس وقت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا کیا کردار اور موقف رہا، تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر بھارتی قیادت کی بدنیتی، غرور اور غیر ذمہ داری کے باعث پیدا ہوا اور اس رویے کا نتیجہ ہے کہ اس مسئلہ پر اب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان تین سے زائد بڑی چھوٹی جنگیں ہوئی ہیں اور اب بھی یہ یقینی خدشہ موجود ہے کہ اگر بھارت کی ہٹ دھرمی اسی طرح قائم رہی تو مستقبل میں ایک اور جنگ کا خطرہ کسی بھی وقت عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ چند سال قبل جب بھارت میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو علاقائی توازن میں غیر معمولی بگاڑ نے جنم لیا۔ مودی نے نہ صرف بزور طاقت مقبوضہ کشمیر اور بعض دیگر اُن متنازع علاقوں کی سٹیٹس تبدیل کی جن پر اقوام متحدہ کی شدید تحفظات تھے بلکہ بعض علاقوں میں کئی دھائیوں سے انسانی حقوق اور بنیادی آئینی تحاریک کی کوششیں بھی جاری تھی۔ ان علاقوں میں مسئلہ کشمیر سرفہرست اس حوالے سے رہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کا ایشو اقوام متحدہ اور بعض دیگر فورمز کے ایجنڈے پر ہے۔
مودی یا بھارت کا رویہ نہ صرف بہت جا رحا نہ رہا بلکہ اس سرکار نے بھارت کے سیکولر امیج کا بیڑا غرق کر کے مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتوں کے بنیادی حقوق اُن علاقوں میں بھی سلب کئے جو کہ مین سٹریم انڈیا میں شامل ہیں اور اسی کا نتیجہ یا ردِعمل تھا کہ دلی سمیت پورے ہندوستان میں کئی مہینوں تک لاکھوں افراد نے احتجاج کر کے مظاہرے کئے اور بھارت کا رویہ عالمی میڈیا اور مختلف فورمز میں زیر تنقید رہا۔
سال 2020-21 کے دوران مسئلہ کشمیر کے مسئلے پر بھارت اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف کشیدہ رہے بلکہ متعدد بار دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کے خطرات بھی سر منڈلانے لگے اور کئی بار امریکہ اور بعض دیگر اہم ممالک کو درمیان میں مداخلت کرنا پڑی۔ پاکستان چونکہ مسئلہ کشمیر کا دوسرا حصہ دار ہے اس لئے اس نے سفارتی اور سیاسی سطح پر کوشش کی کہ حالات کو معمول پر لاکر بھارت کو جارحیت سے روکنے کے لیے صبر سے کام لیا مگر بھارت کی ہٹ دھرمی جاری رہی جو کہ اب بھی شدت کے ساتھ موجود ہے ۔
بھارت کی اس وقت حالت یہ ہے کہ یہاں اقلیتوں کو سنگین خطرات کا سامنا ہے جبکہ پاکستان کے علاوہ چین، نیپال، برما اور سری لنکا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات بہت کشیدہ ہیں جبکہ متعدد اہم اسلامی ممالک بھی بھارت کی دوستی سے ہاتھ کھینچ چکے ہیں۔ عالمی میڈیا میں بھارت پر کشمیر اور متعدد بھارتی ریاستوں میں سنگین انسانی حقوق کی خبریں اور تبصرے جاری ہے مگر مودی سرکار مذہبی جنونیت کے عملی اقدامات کے خطرناک ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔جس کے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر سنگین اثرات اور نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کا فرض بنتا ہے کہ وہ ساؤتھ ایشیا کے امن اور مستقبل کے لیے اب کھل کر میدان میں نکل آئے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket