Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

بھارت کے پاکستان مخالف عزائم

پاکستان کے وزیر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک مشترکہ پریس بریفنگ میں عالمی برادری اور پاکستان کے عوام کو آگاہ کردیا ہے کہ بھارت حسب معمول افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے کوشش اورپلاننگ کر رہا ہے کہ پاکستان کے بعض بڑے شہروں میں دہشت گرد کارروائیاں کر کے یہاں عدم استحکام اور بدامنی کا ماحول پیدا کرے۔ دونوں عہدیداران کے مطابق مجوزہ پلاننگ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایسے افسران نے کی ہے جو کہ افغانستان میں بیٹھ کر اس سے قبل بھی اس نوعیت کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور یہ کہ پاکستان کے پاس مجوزہ منصوبہ بندی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ جن شہروں میں مجوزہ حملوں کی اطلاعات ملی ہے ان میں پشاور، لاہور اور کراچی شامل ہیں۔

اگر خطے میں بھارت کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ بات انہونی نہیں رہتی کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی اور علیٰحدگی پسند تحریک کو ہر دور میں سپورٹ کیا اور اس مقصد کے لئے وہ نہ صرف افغانستان کے پاور کوریڈورز اور سرزمین کو استعمال کرتا آرہا ہے بلکہ وہ بعض عناصر، پارٹیوں اور افراد کو بھی استعمال کرتا ہے جو کہ پاکستانی ریاست کو پسند نہیں کرتے اور پاکستانی ہیں۔ ماضی میں بھارت نے افغانستان کے بعض علاقوں میں پاکستانی قوم پرستوں کی نہ صرف یہ کہ فنڈنگ کی بلکہ سندھی، بلوچی اور پشتون قوم پرستوں کے لیے افغانستان میں درجنوں ٹریننگ کیمپ اور سینٹر بھی قائم کئیے۔ اب بھی افغانستان میں حکومتی سرپرستی میں بعض عناصر پناہ لیے بیٹھے ہیں۔

اس سے قبل جہاں انیس سو ستر میں ایک طرف بھارت نے سابقہ مشرقی پاکستان کے بعض قوم پرست لیڈروں کی سیاسی سرپرستی اور فنڈنگ کر کے ان کو پاکستان کے خلاف اُکسایا وہاں اس نے پشتون اور بلوچ لیڈر شپ اور بعض سیاسی قوتوں کو بھی آزادی اور مزاحمت کے نام پر کھل کر سپورٹ کیا۔ اس مقصد کے لئے کوشش کی گئی کہ افغانستان کی سرزمین اور بعض افغان حکمرانوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے اور یہی وہ مسئلہ تھا جس نے بعد میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو خراب کر کے بہت پیچیدہ بنادیا۔ سندھو دیش اور آزاد پختونستان کے نہ صرف نعرے لگوائے گئے بلکہ برسوں تک ان تحاریک کے نام پر فنڈنگ کے علاوہ مسلح کارکنوں کی ٹریننگ کا کھلے عام سلسلہ بھی چلایا گیا۔متعدد بلوچ اور سندھی قوم پرست لیڈروں کو افغانستان میں خصوصی مراعات کے علاوہ خصوصی پروٹوکول سے نوازا گیا اور اس کے بدلے میں 70 اور 80 کی دہائیوں میں پاکستان خصوصا ً صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں فورسز اور قومی املاک کے علاوہ عوام پر درجنوں حملے کرائے گئے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایک سابق اعلیٰ آفیسر آر کے یادیو کی مشہور کتاب “مشن را ” میں شواہد کی بنیاد پر اُن تمام افراد , فیصلوں اور اقدامات کی تفصیلات موجود ہیں جو کہ بھارت نے افغانستان کے حکمرانوں اور بعض پاکستانی سیاستدانوں کے ذریعے 70 اور 80 کی دہائیوں میں آزمائے اور اس مقصد کے لیے لمبی پلاننگ کی گئی۔ آر کے یادیو کے مطابق را نے پاکستان کو کمزور بنانے کے لیے بعض قوم پرست تحریک کی سرپرستی اور فنڈنگ کی بلکہ افغانستان میں ہزاروں پشتون، بلوچ اور سندھی قوم پرستوں کو افغان حکمرانوں کی سرپرستی میں ٹریننگ بھی دی ۔

بہرحال اگر اس پس منظر کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ بھارت افغانستان سرزمین کو روز اوّل سے پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اور غالباً اسی کا رد عمل تھا کہ پاکستان نے 70 کی دہائی کے اوائل میں افغانستان میں ایسے لیڈروں اور افراد کی تلاش شروع کی جو کہ پاکستان کے دوست ہوں اور ان کے ذریعے بھارت کا راستہ روکنا ممکن تھا۔ بعض تجزیہ کار پاکستان کی افغان پالیسی کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ جس عمل کو بعض افغان عناصر اور قوم پرست افغانستان میں پاکستان کی مداخلت کا نام دے رہے ہیں وہ عمل درحقیقت بھارت کے پاکستان مخالف اقدامات روکنے کی ایک کوشش کی تھی جس کا مقصد افغانستان کے راستے پاکستان کو محفوظ بنانا اور وہاں ایک دوست سیاسی نظام کا قیام تھا۔

نائن الیون سے قبل بھارت کا اثر رسوخ افغانستان میں تقریبا ًختم ہو کررہ گیا تھا تاہم نائن الیون کے بعد امریکہ ،بھارت اور افغانستان نے پھر سے اتحاد قائم کیا اور اس اتحاد میں جہاں پرانے فارمولے کو پھر اپنایا گیا وہیں قوم پرستوں کے علاوہ بعض جہادی عناصر کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا گیا۔ حالیہ مہم جوئی کو تجزیہ کار اس حوالے سے خطرناک قرار دے رہے ہیں کہ بھارت کے بعض جرنیل اور سیاستدان آن دی ریکارڈ اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کراتے آئے ہیں اسی لئے پاکستان کو ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket