Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات ایک بڑا چیلنج

اسلامیہ کالج پشاور کی درجنوں طالبات نے دو روز قبل ایڈمنسٹریشن اور تدریسی عملے کے بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر ہراسانی کی کوششوں یا اقدامات کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا گورنر پختونخوا شاہ فرمان نے نوٹس لے کر ایک انکوائری کمیٹی قائم کرکے اسے شکایات کے ازالے کی رپورٹ تین روز کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف مظاہرہ کرنے والی طالبات نے الزام لگایا ہے کہ ادارے کے بعض متعلقہ افسران اور اساتذہ کافی عرصے سے مختلف حیلے بہانوں سے طالبات کو نہ صرف تنگ کرتے آرہے ہیں بلکہ متعدد ہراسانی کی وارداتوں یا کوششوں میں بھی ملوث ہیں۔ طالبات میں سے بعض نے مظاہرے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہفتہ دس روز قبل ان کی ایک طالب علم کو ہراساں کرنے کی عملی کوشش کی گئی۔ طریقہ کار کے مطابق انہوں نے اس حرکت کے ذمہ دار شخص کے خلاف کالج میں موجود تین رکنی ہراسانی کمیٹی کو باقاعدہ تحریری درخواست دے کر شکایت کی مگر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا بلکہ ایڈمنسٹریشن کے بعض اہلکاروں نے درخواست اور شکایت واپس لینے کے لئے الٹا دباؤ ڈالنا شروع کیا جس کے باعث وہ مجبور ہوئیں کہ مظاہرہ اور احتجاج کر کے اعلیٰ حکام تک یہ سنگین مسئلہ پہنچا دیں ۔ ان کے مطابق اسلامیہ کالج یونیورسٹی سمیت متعدد دوسری یونیورسٹیوں اور اداروں میں بھی ہراسانی کی شرح بڑھتی جارہی ہے جس کے باعث طالبات اور ان کے والدین خوف اور تشویش میں مبتلا ہیں اور صورتحال دن دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔

شورش زدہ اور جنگ زدہ صوبے میں تعلیم کی مجموعی صورتحال کو ویسے بھی کئی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہیں ایسے میں ایک روایت پسند صوبے کے بعض اداروں میں ہراسانی کی کوششیں نہ صرف طالبات کی حوصلہ شکنی کی وجہ بن سکتی ہے بلکہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ بعض اساتذہ بھی اس شرمناک عمل میں ملوث ہیں حالانکہ والدین کے بعد اساتذہ نہ صرف ان بچیوں کے نگہبان سمجھے جاتے ہیں بلکہ وہ ان کی اخلاقی تربیت کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔

کورونا کی دوسری لہر نے ایک بار پھر طلباء کے لئے مشکل صورتحال پیدا کی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کیسز بڑھنے کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ہراسانی کے واقعات طلباء کے لئے مزید پریشانی اور خوف کا باعث بن رہے ہیں اس لیے لازمی ہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات کے حالیہ مظاہروں اور مسلسل شکایات کا حکومتی سطح پر سخت ترین نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور اس مظاہرے کو بھی بنیاد بنا کر طالبات کو عملی طور پر یہ یقین دلایا جائے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کی عزت اور حقوق کے تحفظ سے لاتعلق نہیں ہیں۔ اس سے قبل گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے ایک رجسٹرار کے خلاف بھی اس نوعیت کی شکایات مل رہی تھیں مگر ان کے خلاف بھی بڑی تاخیر کے بعد اس وقت نوٹس لیا گیا جب موصوف اور ایک خاتون کی گفتگو پر مشتمل ویڈیو قومی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آگئی ۔

بچیوں، طالبات اور خواتین کو ویسے بھی متعدد مشکلات ،شکایات اور چیلنجز کا سامنا ہے ۔ وہ والدین اور طالبات قابل تحسین ہیں جو کہ ان مسائل کے ہوتے ہوئے تعلیم کے حصول پر توجہ دیتے ہیں اور خواتین کو ملازمت کرنے کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔ ایسے میں ہراسانی کی مکروہ اور شرمناک حرکتوں کو کسی بھی صورت کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر چہ یہ رویہ دنیا میں بہت عام ہے اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے کہ جو طالبات یونیورسٹیوں کی سطح پر تحقیقی مد میں ریسرچ کرتی ہیں ان کو محض ان کے سپروائزر کے رحم وکرم پر نا چھوڑا جائے بلکہ ایک مربوط نظام وضع کر کے مانیٹرنگ کو فعال بنایا جائے کیونکہ بسا اوقات ریسرچ پراسیس کے دوران سپروائزر زیادہ نمبر دینے یا بعض سہولت دینے کی لالچ میں طلباء اور طالبات دونوں کا استحصال کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بعض مواقع پر ہراسانی کے واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں ۔

ممتاز سماجی کارکن کمر نسیم کے مرتب کردہ ایک تعلیمی سروے اور رپورٹ کے مطابق پختونخواہ کے ضم شدہ اضلاع کی 79 فیصد طالبات اور 69 فیصد طلباء اسکولوں میں داخلے کے بعد ابتدائی چند برسوں کے دوران سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق صوبے میں 64 فیصد لڑکیاں اور 36 فیصد لڑکے اس کے باوجود تعلیم سے محروم ہیں کہ سابقہ اور موجودہ حکومت نئے شرح تعلیم بڑھانے کے لئے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں اور حالیہ صوبائی بجٹ میں 16 فیصد کا ریکارڈ اضافہ کرنے کے علاوہ سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی ٹریننگ پر بھی توجہ دی ہے۔

اس تمام صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال اور کرونا سے پیدا شدہ مشکلات سے نمٹنے کے لیے حکومت ،اساتذہ اور طلباء سب کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket