Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

قبائلی اضلاع کے ساتھ مزید زیادتی نامنظور

اگر سیفران کی سینیٹ کی ایک کمیٹی کی یہ خبر یا رپورٹ درست ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران شورش زدہ قبائلی علاقہ جات کے لیے مختص 40 ارب روپیہ غائب ہے یا خرچ نہیں ہوئے ہیں تو اس پر نہ صرف یہ کہ انکوائری کرنی چاہیے بلکہ جو ادارے یا افراد اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف عملی طور پر سخت کاروائی بھی ہونی چاہیے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین برائے سفیران سینیٹر ہلال الرحمن جو کہ خود مہمند سے تعلق رکھتے ہیں نے بھی تصدیق کی ہے کہ قبائلی علاقوں کو دی گئی رقم میں 40 ارب روپے کاریکارڈ اور تفصیلات نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ صوبے کے ترقیاتی فنڈز گزشتہ کئی برسوں سے ناقص پلاننگ کے باعث لیپس ہوتے آئے ہیں تاہم حالیہ انکشاف جہاں سنگین نوعیت کا ہے وہاں تشویش ناک بھی ہے کیونکہ یہ پہلے ہی سے پسماندگی اور بدامنی کا شکار قبائلی عوام کے زخموں پر نمک پاشی اور ان کی تکالیف، شکایات کا مذاق اڑانے والی بات ہے۔

صوبائی حکومت کو چاہیے کہ اس رپورٹ کی تفصیلات فوری طور پر طلب کرکے نہ صرف اس کی وضاحت کرے بلکہ اگر واقعی ایسا کیا گیا ہے تو مسئلے کی شدت کو مدنظر رکھ کر جہاں اس کی تلافی کرے وہاں ذمہ داران کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے۔ گزشتہ چند مہینوں سے قبائلی علاقوں میں انضمام کے مخالفین کی سرگرمیوں اور دھمکیوں میں بے حد اضافہ مشاہدے میں آرہا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک تحریک کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے جس کی قیادت اگرچہ جے یو آئی (ف) کے ہاتھ میں ہے تاہم تعمیر نو اور گورننس کے طریقہ کار اور سست روی سے مایوس لوگوں کی بڑی تعداد بھی اس میں شامل ہے اور انہوں نے احتجاجی اجلاس میں مظاہرے بھی شروع کر دیے ہیں۔

اس سے قبل دوسروں کے علاوہ فاٹا انضمام کے بعض اہم قائدین اور سرخیل بھی وقتاً فوقتاً اس بات کی شکایت کرتے دیکھے گئے ہیں کہ جن مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے تحریک چلائی تھی وہ پورے نہیں ہو رہے اور عوام مایوس ہو رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی کابینہ میں قبائلی علاقوں کی جو دو وزراء نمائندگی کر رہے ہیں وہ بوجوہ نہ تو اسمبلی میں کوئی پالیسی بیان دیتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی یہ حضرات میڈیا کو دستیاب ہیں حالانکہ اقبال وزیر نامی ایک منسٹر کے پاس دو دیگر محکموں کے علاوہ تعمیر نو اور آبادکاری کا غیر معمولی اور اہم محکمہ بھی ہے۔ یہ شکایت بہت عام ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں قبائلی اضلاع کے معاملات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہیں اور اب وزیراعظم کے لئے بھی پہلے کی طرح ان علاقوں پر توجہ دینا شاید ممکن نہیں رہا۔

 آج اگر ان علاقوں میں پہلے کی نسبت امن ہے اور تعمیر و ترقی کا کوئی کام جاری ہے تو اس کا زیادہ کریڈٹ بھی پاک فوج اور اس کے متعلقہ اداروں کو جاتا ہے۔ 2021 کے دوران قبائلی علاقوں میں بوجوہ فورسز پر حملوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث آرمی کی زیادہ توجہ سکیورٹی بحال رکھنے پر مرکوز ہے۔ ایسے میں گورننس کے معاملات کی ذمہ داری سول اداروں پر عائد ہوتی ہے جو کہ بدقسمتی سے پوری ہوتی نظر نہیں آرہی اور یہ صورتحال عوام کی بیزاری اور مایوسی کو جنم دینے کی وجہ بنی ہوئی ہے۔

 قدرت نے قبائلی علاقہ جات کو بے پناہ قدرتی اور افرادی قوت سے نوازا ہے اگر ان علاقوں کے لیے مختص رقم ان پر خرچ کی جائے اور طے شدہ فارمولے کے تحت این ایف سی میں مختص تین فیصد کا حصہ دوسرے صوبے ادا کرنا شروع کردیں تو یہ علاقے چند برسوں میں نہ صرف یہ کہ اپنے پیروں پر کھڑے نظر آئیں گے بلکہ پورے صوبے کو بھی مالی سپورٹ فراہم کریں گے۔ ملازمتوں میں ان کو ترجیحی بنیادوں پر حصہ نہ دینے کی شکایات کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے تاکہ نئی تعلیم یافتہ نسل کو انگیج کرکے اہم ترین جغرافیائی پٹی کو پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ بنایا جاسکے اور متوقع خطرات اور چیلنجز کا راستہ بھی روکا جا سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket