پختونخواہ میپ کے ایک اہم رہنما اورسینیٹر عثمان خان کاکڑ کی موت پرزندگی کےہرطبقے سےتعلق رکھنے والے افراد نےدکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور شائد ان کی ذاتی مقبولیت ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کے جنازے میں ریکارڈ تعداد نے شرکت کی تاہم حسب سابق ان کی موت کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کیا گیا اور بعض حلقوں نے نہ صرف ان کی موت کو قتل قراردیا بلکہ جنازے کے قافلے میں افغانستان کے جھنڈے لہرانے کےعلاوہ بعض ایسے نعرے لگائے گئے جس کے باعث اتنے بڑے سانحہ کو سیاسی ایونٹ میں تبدیل کیا گیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پرالزامات کو جہاں مسترد کرکےعثمان کاکڑ کو حکمران جماعت کے اکثر لیڈروں کا ذاتی دوست قرار دیا وہیں واضح طور پراعلان کیا کہ اگرمرحوم کے ورثاء اور پارٹی لیڈر واقعتا اس واقعے یا موت کو قتل اور مبینہ سازش سمجھتے ہیں تو حکومت ہرسطع پر تحقیقات کرانے کو تیار ہے دوسری طرف ایک غیرسرکاری معتبر ہسپتال کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ مرحوم کے سراورجسم پرتشدد کی کوئی علامات نہیں پائیں گئیں۔اس کے باوجود الزامات اور بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔

قتل کے خدشے اورالزام کا روایتی سلسلہ پہلے دن یعنی سترہ جون کی شام سے سوشل میڈیا کے مخصوص افراد کی پوسٹوں سے شروع ہوا۔ ان کے فیملی ممبرز اور پارٹی رہنما بیماری کے دوران رابطوں کے جواب میں یہی بیان دیتے رہے کہ عثمان کاکڑ لو بلڈ پریشر کے مریض تھےاور وہ اس قسم کی صورتحال کا پہلے بھی متعدد بار سامنا کرچکے تھے تاہم سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم سے وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے جبکہ بعض غیر ملکی میڈیا اداروں نے جان بوجھ کرمرحوم کے صاحبزادےاوربعض پارٹی عہدے داران سےزبردستی ایسے فقرے کہلوائے جس سے بہت سی بدگمانیان پیدا ہوئیں اور غیرضروری طور پر بعض ریاستی اداروں کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہاں یہ امرافسوسناک ہے کہ ایک نئی روایت کی بنیاد ڈال کرجنازہ گاہ کو سیاسی اسٹیج میں تبدیل کرکےغیرمتعلقہ نعرے لگوائے گئے اورمیت کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔

جبکہ دوسری طرف اس واقعے یا الزامات سےان عناصرنے بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جو کہ ریاست پاکستان کے ساتھ اپنی پوائنٹ سکورنگ کے لئے موقع کی تاک میں رہتے ہیں اس پر ان مخصوص افغانیوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا جوکہ افغانستان کے زمینی حقائق کے اعتراف کی بجائے اس ملک کے ہر مسئلے کا سبب پاکستان کو قرار دیتے آئے ہیں۔

اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ عثمان کاکڑکی شخصیت اور مقبولیت کے علاوہ ان کی موت اورمیت کو بھی متنازعہ بنایا گیا جبکہ افغانستان کے جھنڈے لہرانے ٓاورنعرے لگانے والوں پر ان پاکستانیوں نے بھی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا جو کہ عثمان کاکڑ کی موت پر ناصرف بہت رنجیدہ تھے بلکہ ان کو بوجوہ پسند بھی کرتے تھے۔ایسے میں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پختونخواہ میپ کی اعلیٰ قیادت اس معاملے پرواضح انداز میں پالیسی سٹیٹمنٹ دے کراپنی پوزیشن واضح کرے۔

دوسرا یہ کہ بلوچستان حکومت اپنے طور پر عثمان کاکڑ کے ورثاء سے رابطہ کرکے ان کے خدشات کے تناظر میں ان سے تفصیلات لے کران کی تسلی کرآئے اوراگر ضرورت ہو تو ایک انکوائری کمیشن قائم کر کے اس معاملے کی تحقیقات کرائے۔ جہاں تک ایک مخصوص طبقے کا روایتی طرز عمل اور مہم جوئی کا تعلق ہے اگر وہ واقعی پشتونوں کا بھلا چاہتے ہیں اور امن کے خواہاں ہیں تو وہ یک طرفہ ٹریفک چلانے کی بجائے زمینی حقائق اور بعض سنگین قسم کے علاقائی چیلنجز کا ادراک کرکے ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے نفرت ،بدگمانی پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ پشتون مزید کسی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

About the author

Aqeel Yousafzai

Aqeel Yousafzai is an accomplished journalist who hails from Swat. He is currently associated with AVT Khyber TV channel where he hosts a program Date Line Peshawar. He is also editor of Akhbar-e-Khyber AVT Channels Network (PVT) LTD. He is a leading columnist of KPK who writes regularly with leading national newspapers/periodicals. He is a member of Peshawar Press Club and Khyber Union of Journalists. Some of his publications are Talibanization, Operation Natamam and Islamabad Say Kabul. Aqeel Yousafzai has traveled extensively worldwide and enjoys an excellent repute.

Leave a Comment