Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

درہ آدم خیل کی اسلحہ صنعت اور گورنر کے پی کی کوششیں

درہ ادم خیل پشاور اور کوہاٹ کے درمیان واقع ایک ایسا علاقہ ہے جو کہ ہر دور میں اپنی انفرادیت کے باعث ہر طبقے کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ درہ ادم خیل مختلف خصوصیات اور اسباب کے باعث مشہور ہے تاہم اس کی شہرت اور شناخت کی بڑی وجہ یہاں صدیوں سے موجود اس کی اسلحہ سازی سے متعلق وہ صنعت ہے جو کہ کسی بھی دوسرے علاقے کو میسر نہیں رہی۔
اسلحہ سازی کو ایک مشکل کام اور فن سمجھا جاتا ہے تاہم خیبر پختونخوا کے بعض علاقے اس حوالے سے عالمی اور قومی شہرت رکھتے ہیں جن میں باجوڑ، دیر، کرم اور پشاور سرفہرست ہیں تاہم درہ آدم خیل اس فہرست میں سب سے نمایاں ہے اور یہی صنعت اس کی شناخت بھی رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سال 4-2003 تک درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کی تقریباً 2800 دکانیں تھیں جبکہ 800 کے لگ بھگ ایسی فیکٹریاں یہاں موجود تھیں جو کہ اس کاروبار سے وابستہ لوگ درہ آدم خیل اور اس کے مضافات میں چلا رہے تھے اور اس کاروبار سے نہ صرف مقامی بلکہ دوسرے علاقوں کے بھی ہزاروں لوگ وابستہ تھے۔ ابتداء میں یہ علاقہ چھوٹے ہتھیار بنانے تک محدود تھا جن میں پستول اور بندوق شامل تھے۔ تاہم 1980 کے بعد جب افغان جنگ کے باعث اس خطے میں سوویت یونین، امریکا، چین، ترکی اور بعض دیگر اہم ممالک کا آنا شروع ہو گیا تو اس صنعت سے وابستہ درہ آدم خیل کے کاریگروں نے بھاری اور جدید اسلحہ سازی کا کام بھی شروع کیا اور ان کی مہارت کا یہ عالم رہا کہ بعض اوقات اسلحہ کے ماہرین بھی اصلی اور نقلی اسلحہ کا فرق سمجھ نہیں پا رہے تھے۔
کمال کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی مختلف اسلحہ مارکیٹوں میں روسی اور چینی کلاشنکوف اور درہ کلاشنکوف وہ لوگ بھی ایک جیسی قیمت پر خریدا کرتے تھے جو کہ اسلحہ کے ماہر سمجھے جاتے تھے کیونکہ مقامی کاریگروں کی نہ صرف یہ صفائی اور کوالٹی مثالی تھی بلکہ بنائی گئی بندوقوں کی کارکردگی بھی روسی اور چینی اسلحہ سے کم نہیں کی تھی۔ اسی طرح امریکا، پولینڈ، بیلجئیم، فرانس اور ترکی کے شہرت یافتہ پستول بھی یہاں کمال مہارت سے بنائی جاتی تھیں اور اسلحہ کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ تاہم 2004 کے بعد صنعت حکومتی اداروں کے دباؤ اور بعض پابندیوں کی زد میں آنی شروع ہو گئی اور اس کی پہلی والی حیثیت اور اہمیت نہیں رہی۔

خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کا لمبے عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی صنعت کو حکومتی سرپرستی میں لے کر یہاں کے کاریگروں کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس ضمن میں وہ گورنر بننے کے بعد نہ صرف متعدد کوششیں کر چکے ہیں بلکہ وہ اس معاملے کو وزیراعظم عمران خان سمیت بعض دیگر متعلقہ حکومتی حکام کے نوٹس میں بھی لاتے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر درہ آدم خیل کے ان کاریگروں اور اس صنعت کو اچھے طریقے سے زیراستعمال لایا جائے اور بعض شہرت یافتہ ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مدد سے ان کاریگروں اور ان کے کاروبار کو فروغ دیا جائے تو اس سے جہاں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے وہاں ان بے مثال کاریگروں کی مہارت سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکے گا۔
گورنر موصوف نے اس ضمن میں گزشتہ روز گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلٰی سطح اجلاس کی صدارت کے دوران ہدایت کی کہ درہ آدم خیل کی اس صنعت سے اب بغیر کسی تاخیر کے عملی فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے جن افراد کو اس اجلاس میں مدعو کیا تھا ان میں سمال انڈسٹریز کے عہدیداران کے علاوہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کے حکام بھی شامل تھے۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان اس مسئلے پر مختلف قسم کی تجاویز کا تبادلہ ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بعض بنیادی نقاط، رائے اور ایک مجوزہ پلان پر اتفاق رائے کا اظہار کیا جا چکا ہے۔
گورنر ہاؤس کے اعلامیہ کے مطابق گورنر نے اس موقع پر کہا کہ درہ آدم خیل میں ہاتھ سے اسلحہ بنانے والے ورکرز ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں اور ان کا تیار کردہ اسلحہ دنیا بھر میں متعارف کرانا ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا کہ گن پروفنگ کے بعد درہ آدم خیل کا اسلحہ دنیا بھر میں ایکسپورٹ کیا جاسکے گا کیونکہ بقول گورنر شاہ فرمان یہاں پر ہاتھ سے بننے والا اسلحہ دنیا کے لیے بہت کشش کا سبب بن کر نہ صرف کاریگروں اور اس علاقے کی معاشی خوشحالی کا ذریعہ بنے گا بلکہ یہ ملک کے لئے بھی فائدہ مند ہوگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ درادم خیل کے ان کاریگروں کی مہارت سے استفادہ حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنر کے پی کی خواہش اور کوششوں کو عملی شکل دے کر ان افراد کی بھرپور سرپرستی کی جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket