Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

کور کمانڈر کا دورہ وزیرستان ،یقین دہانی اور چیلنجز

کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے حسب توقع چارج سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز شمالی وزیرستان کا اپنا پہلا دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی حکام کے علاوہ علاقے کے مشران اور سیاسی قائدین کے ساتھ مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور علاقے کے امن، تعمیر نو اور ترقی کے لیے ان کی تجاویز سننے کے بعد ان کو یقین دلایا کہ حکومت اور عوام کے مسائل کے حل اور امن کے مستقل قیام کے لئے ہر اقدام اٹھائیں گی۔ چارج سنبھالنے کے فوراً بعد کورکمانڈر کا شمالی وزیرستان کا دورہ کرنا اور ایک نمائندہ جرگہ سے ملاقات کرنا جہاں ان کی ترجیحات کو واضح کرتا ہے وہاں یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ان کو قبائلی علاقوں کے امن اور تعمیر نو سے کتنی دلچسپی ہے اور وہ اس خطے کو درپیش چیلنجز سے کتنے آگاہ ہیں۔

  انہوں نے جرگہ سے اپنے خطاب میں واضح انداز میں کہا کہ فوج اور حکومت عوام کے تعاون سے نہ صرف امن کو قائم رکھیں گی بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی خصوصاً تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مشران، والدین اور انتظامیہ پر زور دیا کہ نئی نسل کو تعلیم دلوانے پر خصوصی توجہ دیں تاکہ بچوں کو پر امن، ذمہ دار اور خوشحال شہری بنانے کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے اتمانزئی قبائل کو یہ یقین بھی دلایا کہ افغانستان میں پھنسے ان افراد اور گھرانوں کو واپس لانے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے جو کہ بوجوہ آپریشن سے قبل وہاں ہجرت یا نقل مکانی کر چکے تھے۔ ساتھ میں انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ  علاقے کی سیکورٹی کو اسی طرح برقرار اور قائم رکھا جائے گا اور ساتھ میں تعمیر نو کا کام بھی تیز کیا جائے گا۔

تلخ حقیقت تو یہ ہےکہ شمالی وزیرستان کے عوام اور وہاں پر فرائض سرانجام دینے والے سرکاری اہلکاروں،  فورسز نے امن کے قیام کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور ان کو کئی برسوں سے نہ صرف معاشی اور سماجی بلکہ سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔  نئے کورکمانڈر چونکہ  اس سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی کے اہم عہدے پر فائز رہے ہیں اور ان کو اس خطے کے علاوہ افغانستان کے حالات اور ممکنہ طور پر پراکسیز  کا کسی بھی  دوسرے عہدیدار سے زیادہ تجربہ اور معلومات حاصل ہیں۔   اس لئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کے اب بہت بہتری آئے گی۔

 ان کے دورہ وزیرستان سے محض ایک روز قبل دہشت گردوں نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے فورسز کے 2 نو عمر جوانوں کو شہید کیا جبکہ اس سے قبل بھی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ اسی دوران درپہ خیل قومی جرگہ نے حکومت کے ساتھ مارچ 2021 کے دوران کرائے گئے ایک معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو وہ گورنر ہاؤس اور سی ایم ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔  اگرچہ حکومت ایسے معاملات کو نمٹانے پر توجہ دے رہی ہے اور مذکورہ مطالبات کی مد میں دو ارب روپے منظور کیے گئے ہیں اس کے باوجود ضرورت اس بات کی ہے کہ عملی اقدامات کی رفتار اور سول اداروں کی کارکردگی کو تیز اور بہتر بنایا جائےکیونکہ اس خدشے  کا یقینی خطرہ موجود ہے کہ بعض عناصر اس خطے کو پھر سے میدان جنگ بنا نے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

 صوبے کے بعض علاقوں میں فورسز اور پولیس کے علاوہ بعض سیاسی عہدیداران کو ٹارگٹ کلنگ اور بم حملوں کا نشانہ بنانے کے واقعات کا بھی بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں کور کمانڈر پشاور اور ان کی ٹیم کو بغور جائزہ لینا ہوگا تاکہ عوام کے خوف کو ختم کیا جائے جبکہ بقول کورکمانڈر اس بات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ افغانستان کے ساتھ ان قبائلی علاقوں کے ذریعے تجارت کو فروغ دیکر دوطرفہ فوائد کو یقینی بنایا جائے۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ جنرل فیض حمید اپنے فوجی پس منظر اور غیر معمولی دلچسپی کے تناظر میں کسی بھی دوسری حکومتی شخصیت کے مقابلے میں زیادہ بہتر نتائج دے سکیں گے تاہم سول اداروں کی فعالیت، درکار فنڈز کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر امن کے قیام کو  اسی طرح برقرار رکھنا وہ عوامل ہیں جو کہ کور کمانڈر اور ان کی ٹیم کی ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں۔

 قبائلی عوام کی اکثریت نہ صرف یہ کہ امن اور ترقی کے خواہاں اور خواہش مند ہیں بلکہ وہ تعمیرنو کی  کوششوں اور معاشی ترقی کی مد میں ریاست کے ساتھ تعاون بھی چاہتے ہیں۔  ایسے میں ان کی مشاورت اور تجاویز سے فائدہ اٹھا کر محض ان روایتی بیوروکریٹس کے دعوؤں اور رپورٹوں پر زیادہ انحصار نہ کیا جائے جو کہ اعلیٰ ترین حکام کو’ سب کچھ اچھا ہے،  کے روایتی فارمولے آزماتے آئے ہیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket