Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

کرونا چیلنج اور بعض حلقوں کا منفی رویہ

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے متعلقہ حکومتی ادارے مختلف صوبوں میں مختلف طریقوں سے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس کے باوجود مریضوں یا متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے کیونکہ ابھی تک اس کے علاج کا واحد دارومدار صرف احتیاطی تدابیر پر ہی ہے۔ ابھی تک پاکستان میں متاثرین کی جو تعداد سامنے آئی ہے وہ تقریبا 803 ہے۔ ان میں ہر صوبے کے متاثرین شامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تمام صوبے اپنے طور پر اقدامات اٹھانے میں مصروف ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اب تک کرونا وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ان میں مردان کا ایک رہائشی عمرہ کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے جب کہ ہنگو کا باشندہ یو اے ای سے ہو کر آیا تھا۔ باقی متاثرین میں سے ابھی اکثریت ان کی ہے جو کہ بیرون ملک سے ہو کر آئے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد اُن زائرین کی ہے جو کہ تفتان کے راستے ایران اور اس کے بعد سکھر، ڈی جی خان اور ڈی آئی خان پہنچے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سرحدیں بند کی گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں میں 16 حفاظتی مراکز قائم کئے ہیں، جن کا مقصد متاثرین کو درکار طبی سہولیات اور آئسولیشن کا انتظام فراہم کرنا ہے، جبکہ معاملات کی مانیٹرنگ کے لیے پشاور میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ جہاں نہ صرف یہ کہ عوام کی شکایات سن کر ان کی مدد کی جاتی ہے بلکہ ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کرنے والے افراد کی رہنمائی بھی کی جارہی ہے۔ سول اور ملٹری انتظامیہ کے درمیان مکمل اور تیز ترین تعاون کا نظام بنایا گیا ہے ، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر وفاقی حکومت کو رپورٹ اور تفصیلات بھی فراہم کی جارہی ہے۔
حکومتی اقدامات اپنی جگہ، تاہم سب سے بڑی اور بنیادی ذمہ داری اب بھی عوام ہی پر عائد ہوتی ہے جن کو باربار تعاون اور درکار احتیاطی تدابیر کی تلقین کی جا رہی ہے اور ان کے تعاون کے بغیر اس آفت سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض لوگوں اور حلقےا ب بھی اس خطرناک وباء اور اس سے پیدا شدہ صورت حال کو سنجیدہ نہیں لے رہے اور اس معاملے کو نہ صرف مذاق سمجھ کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں بلکہ یہ لوگ متعلقہ حکومتی اداروں کے دفاعی انتظامات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ سازشی مفروضوں اور حکومت کی سیاسی مخالفت کے نام پر ہر ایک نے اپنی دکان سجا رکھی ہے اور اس کام کے لیے یہ عناصر سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان عناصر کا راستہ روکنے پر توجہ دے اور عوام اس خطرناک صورتحال کے تناظر میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket