Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

کورونا کی تازہ لہر اور خیبر پختونخوا ہ

حسب توقع کرونا وائرس کی نئی یا دوسری لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کو بھی اس وبا پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہے جہاں اب تک کورونا سے تقریبا دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں پاکستان میں صورتحال اس کے باوجود بہتر ہے کہ عوام بوجوہ درکار احتیاطی تدابیر خصوصا سماجی فاصلے پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ روز یہ کہنا پڑا کہ اگر عوام اور سیاسی قوتوں نے تعاون نہیں کیا تو حکومت مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور ہو جائے گی۔

حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں میں مدارس سمیت تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں جبکہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں صرف پشاور میں ہفتہ کے دوران تقریبا دس مقامات میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر قصہ خوانی بازار سمیت متعدد بازار اور مارکیٹیں بند کی گئیں تاکہ کرونا کی نئی لہر سے لوگوں کو ممکنہ حد تک بچایاجائے۔ جمعرات کے روز جو تفصیلات فراہم کی گئیں اس کے مطابق خیبر پختونخوا میں ٹوٹل کیسز کی تعداد 46 ہزار 281 بتائی گئی تھی جبکہ صرف پشاور شہر کے کیسز کی تعداد 17 ہزار 370 رپورٹ کی گئی تھی جو کہ کافی زیادہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پختونخواہ میں اب تک کرونا سے 1350 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں پشاور میں ہونے والی اموات کی تعداد 635 ہے۔ 26 نومبر کے دن صوبے میں 455 نئے کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ اگر گزشتہ چند ماہ کی اموات اور کیسز کی تعداد کی شرح کا نومبر کے مہینے کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کیسز اور اموات کی تعداد میں واقعتاً اضافہ ہوچکا ہے اور اگر اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو صورتحال پر قابو پانا کافی مشکل ہو جائے گا۔

ہفتہ رفتہ کے دوران صرف پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں تقریباً 320 ڈاکٹرز اور طبی عملے میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز آئے ہیں جو کہ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ طبی عملہ شدید دباؤ اور خطرے میں ہے۔ یاد رہے کہ پختونخواہ میں اب تک 23 ڈاکٹرز وفات پا چکے ہیں۔ کورونا کے حالیہ پھیلاؤ میں نئی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ پچھلی لہر کے مقابلے میں اب یہ نوجوانوں پر بھی حملہ آور ہونے لگا ہے جبکہ بعض اطلاعات ایسی ہے کہ اب کے بار بعض مریضوں میں کورونا کی موجودگی ٹیسٹ کے ذریعے بھی ظاہر نہیں ہو پا رہی جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ گزشتہ روز صوبے کے چیف سیکرٹری کاظم نیاز نے بعض دوسرے طبقوں کے علاوہ علماء کے ایک نمائندہ وفد سے بھی ملاقات کی تاکہ ان کو اعتماد میں لے کر ان کو عوام میں شعور پیدا کرنے کے تعاون پر آمادہ کیا جا سکے۔ اب بھی سب سے بڑا مسئلہ غیر ضروری اور بد احتیاطی پر مشتمل وہ سماجی اور کاروباری سرگرمیاں ہیں جن سے عوام گریز نہیں کر رہے۔ اپوزیشن اس بحران میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہی جس کی بڑی مثال پشاور سمیت مختلف دیگر شہروں میں ہونے والے وہ سیاسی اجتماعات ہیں جن میں ہزاروں افراد نے اس چیز کو بالائے طاق رکھ کر شرکت کی جبکہ عوام میں سے اب بھی بڑی تعداد ایسی ہے جو کہ اتنی اموات اور کیسز کے باوجود اس وبا کو مذاق یا کوئی سازش سمجھ کر مسئلے کی شدت اور خطرے کا اس کے باوجود ادراک نہیں کر پا رہی کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کی حد تک موجود نہیں بلکہ پوری دنیا کو اس نے لپیٹ میں لے رکھا ہے اور احتیاط ہی اس کا علاج ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی لہر کے چیلنجز سے نکلنے کے لیےحکومت نہ صرف اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر تعاون پر آمادہ کرے بلکہ کاروباری٫ تعلیمی اور دینی حلقوں کی تجاویز اور انتظامات پر مبنی ایک ایسی مشاورت کو بھی یقینی بنائیں جس سے کیسز کی تعداد پر قابو پایا جاسکے

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket