Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

چارسدہ ،قوم پرستوں کا مستقبل اور اگلا مرحلہ

 خیبرپختونخوا کے 17اضلاع میں 19 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے غیر متوقع نتائج نے جہاں حکمران جماعت تحریک انصاف کے پارلیمانی مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے وہاں بعض اہم پارٹیاں،  افغان صورتحال کے مجوزہ اثرات اور قوم پرستوں کا مستقبل بھی زیربحث ہیں۔  جے یو آئی (ف)  پشاور کی میئرشپ سمیت پورے صوبے میں سب سے بڑی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ تحریک انصاف دوسرے نمبر پر ہے۔  بہترین انتخابی مہم کے باوجود اے این پی محض 8 تحصیلوں میں کامیاب ہوئی ہے تاہم مردان کی میئر شپ اس کے حصے میں آئی ہے جبکہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اصل مقابلہ جی یو آئی، پی ٹی آئی اور اے این پی کے درمیان ہوگا۔

 حیرت کی بات یہ ہے کہ 19 دسمبر کے الیکشن میں اے این پی نے 8 تحصیلوں  پر تو کامیابی حاصل کرلی ہے تاہم اس کے ہوم ٹاؤن چارسدہ میں یہ پارٹی شکست سے دوچار ہوئی ہے اور پارٹی کسی ایک تحصیل پر بھی کامیاب نہیں ہوئی ہے۔  اسی طرح قومی وطن پارٹی نے بھی چارسدہ میں شکست کھائی ہے۔  ضلع چارسدہ 3  تحصیلوں پر مشتمل ہے۔  نتائج کے مطابق ان میں دو پر جے یو آئی (ف) نے کامیابی حاصل کی جبکہ ایک کی نظامت مزدور کسان پارٹی کے حصے میں آئی ہے۔ اس سے قبل چارسدہ میں عام انتخابات کے دوران بھی جے یو آئی اے (ف)اے  این پی سے متعدد بار جیتے ہیں۔

 حالیہ الیکشن میں جہاں گورنر اور متعدد وزراء کے رشتے دار اور امیدوار مختلف علاقوں میں جے یو آئی (ف)سے ہار تےنظر آئے وہاں  جے یو آئی اے نے چارسدہ میں اے این پی کو بھی سخت دھچکا لگایا ہے۔  یہ امر قابل حیرت ہے کہ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو تحصیل تنگی کے ان کے آبائی علاقے میں مزدور کسان پارٹی کے ہاتھوں شکست اٹھانی پڑی ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہیں کہ عام الیکشن میں ان 2002، 2004کی طرح پھر سے مذہبی فیکٹر کے ہاتھوں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

تجزیہ کار اس ٹرینڈ کو افغانستان کے بدلتے حالات اور وہاں طالبان حکومت کے قیام کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جبکہ اے این پی دیگر قوم پرستوں پر حال ہی میں کرائے گئے بعض حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔  اس پارٹی نے افغانستان کی حالیہ تبدیلیوں اور جاری مذاکراتی عمل پر غیر ضروری طور پر فریق بن کر اپنے لئے 2008-9جیسے حالات پھر سے پیدا کر لیے ہیں اور ٹی ٹی پی ایک بار پھر اس کو اپنی مخالف قوت قرار دے چکی ہے۔

 آئندہ عام انتخابات میں جے یو آئی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو افغانستان کے بدلتے منظر نامے سے فائدہ جبکہ قوم پرستوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات و خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ خدشات صرف پختونخوا تک محدود نہیں بلکہ اس سے بلوچستان کی پشتون بیلٹ اور سندھ کے پشتون علاقے اور حلقے بھی متاثر ہونگے۔  پختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی جے یو آئی (ف) کی ممکنہ کامیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جہاں پشتون بیلٹ میں ہر دور میں جے یو آئی ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور اے این پی کا مقابلہ ہوتا رہا ہے۔

 یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ پختون خوا میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے دوران جن علاقوں میں الیکشن منعقد ہونگے وہاں پر بھی جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے مقابلے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔  مثال کے طور پر جے یو آئی شمالی و جنوبی وزیرستان، اورکزئی اور کرم پر مشتمل 4 قبائلی اضلاع میں کافی مقبول ہے جبکہ ان علاقوں میں پی ٹی آئی بھی موجود ہے۔  ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع بونیر میں 19 دسمبر کو جے یو آئی اکثر سیٹوں پر جیت گئی ہے باقی کے چھ سات اضلاع میں بھی یہ کافی موثر قوت ہے۔ ضلع ہری پور کو چھوڑ کر ہزارہ ڈویژن میں بھی دوسرے مرحلے کے دوران الیکشن ہوں گے۔  ان علاقوں میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ متوقع ہے۔  اس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اگلا ٹاکرا بھی جے یو آئی کے لیے اہم ثابت ہو گا جبکہ اسی پس منظر نے قوم پرستوں کے مستقبل کو پھر سے سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے ساتھ میں پیپلز پارٹی کو بھی صوبہ خیبر پختونخوا میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket