Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

بدلتے علاقائی حالات اور پاکستان

پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کے حملوں کے نتیجے میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 450 افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ افغان حکومت نے افغان مشاورتی جرگہ کی سفارش پر ان 400 ہارڈکور طالبان قیدیوں میں سے 80 کو گزشتہ روز رہا کردیا ہے جن کے مسئلے یا مطالبے پر اب تک انٹرا افغان ڈائیلاگ کا اعلان یا آغاز نہیں ہوا ۔
افغان وزارت داخلہ کے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے گزشتہ 14 روز کے عرصے میں ملک کے 29 صوبوں میں حملے کیے جس کے نتیجے میں 450 افراد نشانہ بنے۔ دوسری طرف فورسز کی کارروائیاں بھی جاری رہیں جن میں زابل کا وہ واقعہ بھی شامل ہے جس کے دوران بعض افغان فوجیوں نے جاں بحق طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کرکے تالیاں بجائی تھیں اور طالبان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی اس رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے واقعات کو مجوزہ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ عالمی میڈیا میں اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر بھی تبصرے جاری ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں 5000 سے زائد پاکستانی ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں قیام پذیر ہیں جو کہ ماضی میں پاکستان پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
اس قسم کی شکایات اور واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان ماضی کی طرح ایک بار پھر پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے کاروباری اور سیاسی لوگوں کو کالز کے ذریعے دھمکیاں دے کر ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ کرنے لگے ہیں جس کے باعث پشاور سمیت مختلف قبائلی اضلاع کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ سیکورٹی فورسز نے بعض اطلاعات کی بنیاد پر متعدد قبائلی اضلاع میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی عملی کوششیں کی جارہی ہیں کہ اگر افغانستان میں حالات پھر سے خراب ہونے لگے تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں کو محفوظ بنایا جاسکے کیونکہ افغانستان میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور پاکستان وہاں کے حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ۔
عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کی رپورٹس کے مطابق افغان حکومت اور امریکی اداروں میں بعض ایسی لابیاں موجود ہیں جو کہ بوجوہ نہ صرف مجوزہ مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حالیہ بہتر تعلقات کو خراب کر کے بدگمانیاں پیدا کی جائیں۔ شاید انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ افغانستان میں بھارت اور امریکہ کے بعض میڈیا اداروں نے حال ہی میں پاکستان کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ اور یکطرفہ رپورٹس شائع کیں اور یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پاکستان اپنے طالبان کے ذریعے افغان فورسز پر حملے کرانے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ نہ صرف اس تاثر کی نفی کرتی ہیں بلکہ اس میں ان ٹی ٹی پی حملہ آوروں کی تعداد اور تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جو کہ افغانستان میں قیام پذیر ہیں اور ان کو بلا واسطہ بعض افغان اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔
افغانستان کے سفیر عاطف مشال نے گزشتہ ہفتے آرمی چیف، صدر پاکستان، سپیکر قومی اسمبلی، وزیر خارجہ اور نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سمیت متعدد سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن کے دوران انہوں نے قیام امن, تجارت کے فروغ اور مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور شکریہ ادا کیا ۔ تاہم سبوتاژ پر یقین رکھنے والے بعض بااثر افراد ایک پلاننگ کے تحت دونوں ممالک کے بہتر تعلقات اور اعتماد سازی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر افغان اور پاکستانی حکومت دونوں کو کڑی نظر رکھنا ہوگی کیونکہ ایک پرامن افغانستان کو پاکستان اپنی ضرورت قرار دیتا رہا ہے اور دوسری طرف مجوزہ مذاکراتی عمل میں عالمی برادری اور افغانستان کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ ماہرین بعض قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ہونے والے بعض واقعات اور سرگرمیوں کو افغانستان کے بدلتے حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اس لیے لازمی ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket